عورتوں سے دوستی کا راز کیا ہے؟


میرے ایک پاکستانی دوست نے ایک دن مجھ سے پوچھا ”ڈاکٹر سہیل! میں آپ کو پچھلے بیس برس سے جانتا ہوں، آپ کے بہت سے دوست ہیں جن میں مشرقی اور مغربئی عورتیں بھی شامل ہیں۔ آپ کا عورتوں سے دوستی کا کیا راز ہے؟“
میں نے اپنے دوست سے کہا کہ میں آپ کو سوچ کر جواب دوں گا۔

چنانچہ میں نے جب عورتوں سے اپنی دوستی کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا تو میرے ذہن کی سکرین پر چند واقعات ابھرنے شروع ہوئے جن میں سے چند ایک میں آپ سب سے شیر کرنا چاہتا ہوں۔

پہلا واقعہ اس وقت کا تھا جب میں نو سال کا تھا اور میری چھوٹی بہن عنبریں کوثر چار سال کی تھیں۔ ایک دن کھیلتے کھیلتے انہیں دھکا لگ گیا، وہ گر گئیں اور انہیں چوٹ آئی۔ شام کو جب ابو جان ، امی جان، عنبر اور میں کھانا کھا رہے تھے عنبر نے ابو جان سے شکایت کی کہ میں نے انہیں دھکا دیا تھا اور انہیں چوٹ لگی تھی۔
میرے ابو جان نے کہا ’سہیل بیٹا! آپ اپنی بہن سے معافی مانگیں‘

اس وقت میری انا آڑے آئی اور میں خاموش ہو گیا۔ خاموشی کے وہ چند لمحے چند صدیاں بن کر بیتے۔ میں ندامت سے سراپا پسینے میں شرابور ہو گیا۔ ابو جان کہنے لگے
’ہم اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک سہیل عنبر سے معافی نہیں مانگے گا‘۔

میں نے آخر اپنا تھوک نگلا اور کہا ’عنبر مجھے معاف کر دیں، میں سمجھا طوفان سر سے گزر گیا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ ابو جان نے عنبر سے کہا ’ کیا آپ نے اپنے بھائی کو معاف کر دیا ہے؟‘
عنبر نے کہا ’ہاں‘
پھر ابوجان نے کہا ’اب ہم دوبارہ کھانا کھا سکتے ہیں‘

اب میں اس ایک لفظ ’ہاں‘ کے بارے میں سوچتا ہوں جس نے میری بہن کو ایمپاور کیا (اختیار دیا گیا) تھا اور مجھے یہ سبق سکھایا تھا کہ مجھے اپنی چھوٹی بہن کی عزت کرنی چاہیے۔ عنبر اور میں آج بھی بہت محبت کرنے والے بہن بھائی ہیں۔ عنبر کے احترام نے مجھے اور عورتوں کا احترام کرنا سکھایا۔ عنبر عمر میں مجھ سے چھوٹی لیکن دانائی میں مجھ سے بڑی ہیں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وہ محبت کا سمندر ہیں۔

کینیڈا آنے کے بعد میں نے کئی مغربی عورتوں سے دوستی کی لیکن مشرقی عورتوں سے دوستی سے کتراتا رہا۔ میں نے اپنی کتاب Love Sex and Marriage میں لکھا تھا کہ میں نے چند بار مشرقی عورتوں سے دوستی کرنے کی کوشش کی تو ان کے والد، شوہر یا بھائی معترض ہوئے کیونکہ ان کی نگاہ میں مشرقی مرد اور عورت کی دوستی نہیں ہو سکتی۔ میری مشرقی عورتوں سے دوستی کا کریڈٹ زہرا نقوی کو جاتا ہے۔ انہوں نے میری کتاب پڑھی تو مجھ سے کہنے لگیں ’ڈاکٹر سہیل! میں آپ کی دوست بننا چاہتی ہوں اور آپ کو یقین دہانی کرانا چاہتی ہوں کہ میری زندگی کا کوئی مرد ہماری دوستی پر اعتراض نہیں کرے گا،۔ اب زہرا نقوی اور میری دوستی کو دس سال ہونے کو ہیں۔ وہ بھی میری بہن عنبر کی طرح ایک مخلص اور ہمدرد خاتون ہیں۔ ہم نے مل کر تخلیقی کام بھی کیا ہے۔ انہوں نے میرے چند انگریزی مضامین کا ترجمہ بھی کیا ہے جو ’ہم سب‘ میں چھپے ہیں۔
زہرا نقوی سے دوستی کے بعد مجھے کئی اور مشرقی عورتوں سے دوستی کا حوصلہ ہوا اور احساس ہوا کہ ایسا کرنا ممکن ہے۔

جب میرے پاکستانی دوست مجھ سے دوبارہ ملے تو میں نے ان سے کہا کہ میری نگاہ میں عورتوں سے دوستی کا راز یہ ہے کہ عورت آپ کی قربت میں محفوظ محسوس کرے تا کہ وہ آپ پر اعتماد کر سکے اور اسے یقین ہو کہ آپ اس کی رائے کا احترام اور عزت کرتے ہیں۔ اعتماد، عزت اور تحفظ مل کر ایک ایسی تکون بناتے ہیں جس میں مرد اور عورت کی مخلص دوستی پروان چڑھ سکتی ہے۔

ایسی دوستی کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کا تعلق سماجی ماحول سے ہے۔ وہ خاندان اور معاشرے جہاں لوگ عورتوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور عورتیں عزتِ نفس رکھتی ہیں وہاں ایسی دوستی پروان چڑھ سکتی ہے۔ عورتوں کی آزادی کی عالمی تحریک نے ہمیں سکھایا ہے کہ عورتوں کی جذباتی اور سماجی آزادی کے لیے ان کی معاشی آزادی بہت اہم ہے۔ وہ عورتیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں، فنونِ لطیفہ میں دلچسپی رکھتی ہیں، دولت کماتی ہیں، گاڑی چلاتی ہیں اور اپنا بینک بیلنس رکھتی ہیں ان کے لیے روشن خیال مردوں سے دوستی کرنا آسان ہوتا ہے۔

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں اس بات کو اہمیت دیتا ہوں کہ لڑکوں کو بچپن سے ہی سکھایا جائے کہ وہ لڑکیوں کا احترام کریں۔ احترام سیکھنے کے لیے ان کا لڑکیوں کے ساتھ گھلنا ملنا ضروری ہے۔ وہ معاشرے جہاں صنفی علیحدگی ہوتی ہے اور لڑکیوں اور لڑکوں کی علیحدہ علیحدہ تعلیم اور معاشرت ہوتی ہے وہاں دونوں صنفوں کا آپس میں ملنا اور دوست بننا مشکل ہو جاتا ہے۔ مرد عورت کی دوستی ایک سماجی شعور ہے جو کتابیں پڑھنے سے زیادہ تجربے سے سیکھا جاتا ہے۔
میں اپنے کلینک میں جب جوڑوں کی ازدواجی مسائل میں مدد کرتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت بھرے رشتوں کا راز پوچھتے ہیں تو میں کہتا ہوں
Friendship is the cake, romance is the icing
میری نگاہ میں ہمارے بزرگوں کو نوجوانوں سے بھی دوستی کرنی چاہیے۔ میری بہن عنبر کی بیٹی وردہ میر جب لاہور سے ٹورانٹو آئیں اور میرے ساتھ چند سال رہیں تو ایک روایتی ماموں بھانجی کے رشتے کی بجائے ہم نے دوستی کا رشتہ استوار کیا۔ اسی لیے میری سالگرہ پر وردہ نے مجھے جو چابیوں کا چھلا تحفے میں دیا اس پر لکھا تھا
Friendship token, good for a lifetime
اپنی بھانجی سے دوستی کا جتنا فائدہ انہیں ہے اس سے زیادہ مجھے فائدہ ہے کیونکہ وہ جدید ٹیکنالوجی کی ماہر ہیں اور میں ٹیکنالوجی میں مار کھاتا ہوں۔ وہ میری بہت مدد کرتی رہتی ہیں۔

میرے افسانہ نگار دوست سعید انجم پاکستانی مردوں سے کہا کرتے تھے۔ ”اگر تم چاہتے ہو کہ تہمارا بیٹا بڑا ہو کر شہزادہ بنے تو تمہیں اس کی ماں کو ملکہ بنا کر رکھنا چاہیے کنیز بنا کر نہیں کیونکہ کنیزوں کے بچے شہزادے نہیں بنا کرتے“۔ خوش قسمت ہیں وہ میاں بیوی جو آپس میں دوست بھی ہیں، وہ اپنے بچوں کے لیے بہترین رول ماڈل ہیں ایسے بچے بڑے ہو کر دوسری صنف کے افراد سے دوستی کر سکتے ہیں۔

کینیڈا میں زہرا نقوی اور میں نے باقی دوستوں کے ساتھ مل کر دوستوں کا ایک حلقہ بھی بنایا ہے جو FAMILY OF THE HEART کہلاتا ہے۔ اس کا موٹو ہے FRIENDS ARE THE FAMILY OF THE HEART اس حلقے میں مرد اور عورتیں ایک دوسرے کا احترام بھی کرتے ہیں اور خیال بھی رکھتے ہیں۔ وہ مہاجر جو اپنے رشتہ دار پاکستان چھوڑ آئے ہیں ان کے لیے ایسا دل والوں کا خاندان بہت اہمیت رکھتا ہے جو تواتر سے ادبی، فنی اور سماجی پروگراموں کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ ایسے دوستانہ ماحول میں مردوں اور عورتوں کی دوستیاں آسانی سے ہو سکتی ہیں۔ میرا ایک شعر ہے
؎ آج کل رشتوں کا یہ عالم ہے۔ جو بھی نبھ جائے بھلا لگتا ہے

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 159 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail