کمزور آواز والا اداکار جو گبر سنگھ بنا


امجد خان 12 نومبر 1940ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جے انت اپنے زمانے کے مشہور و معروف اداکار تھے۔ امجد خان کے بھائی امتیاز خان اور عنایت خان بھی اداکار رہے ہیں۔ چوں کہ والد اداکار تھے، تو امجد خان نے بچپن ہی سے گھر میں فلم کا ماحول دیکھ رکھا تھا، جب یہ گیارہ برس کے ہوئے، سن تھا 1951ء تو انھوں نے اپنی پہلی فلم ”نازنین“ کی۔ امجد خان کالج کے دنوں سے تھیٹر کے اداکار کے طور پر کام کرنے لگے تھے۔ 1957ء میں انھوں نے اپنے والد جے انت کے ساتھ ”اب دہلی دور نہیں“ میں کام کیا، جب یہ محض سترہ سال کے تھے۔ اس کے بعد امجد خان نے مغل اعظم فیم ڈایریکٹر کے آصف کے ساتھ ”لو اینڈ گاڈ“ میں ان کا معاون بن کر کام کیا، لیکن یہ فلم کے آصف کی موت کی وجہ سے ادھوری رہ گئی۔ (لو اینڈ گاڈ 1986ء میں ریلیز ہوئی تھی) 1971ء میں امجد خان اکیس سال کے ہوچکے تھے، اور یہ سوچ رہے تھے کہ ان کا کیریر کیوں کر آگے بڑھے گا۔ اس دوران یہ تگ و دو کرتے رہے۔ 1973ء میں فلم ”ہندستان کی قسم“ میں دکھائی دیے۔

فلم کے پردے کے لیے امجد خان کی آواز کم زور آواز سمجھی جاتی تھی۔ فلم ”شعلے“ بننے لگی، تو ڈینی ڈینزونگپا کو ”گبر سنگھ“ کے کردار کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن ڈینی نے آخری وقت میں یہ کردار نباہنے سے انکار کر دیا۔ تب مصنفین کی جوڑی سلیم جاوید نے ”گبر سنگھ“ کے کردار کے لیے امجد خان کا نام لیا۔ ”شعلے“ کا سفر امجد خان کے لیے آسان نہیں تھا، کہا جاتا تھا، کہ کہاں امیتابھ بچن، دھرمیندر اور سنجیو کمار اور کہاں ایک گم نام لڑکا امجد خان۔ فلم کا پہلا منظر رکارڈ کروانے میں امجد خان نے بہت وقت لیا۔ اسی طرح ان کی کم زور آواز کو دیکھتے یہ سوچا جانے لگا کہ ان کی آواز کی جگہ کسی اور کی آواز ڈب کرائی جائے گی۔ فلم ”شعلے“ کی شوٹ کرواتے ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ لگتا تھا، امجد خان سے یہ کردار واپس لے لیا جائے گا۔ امجد خان اس دوران بہت مایوس ہو چکے تھے، انھوں نے اپنی ماں سے اس پریشانی کا اظہار کیا، تو ماں نے تسلی دی کہ بیٹا فکر نہ کرو تمھارے لیے سب اچھا ہی ہوگا۔ کبھی کبھی آدمی کو آگے بڑھنے کے لیے، یا ہمت بڑھانے کے لیے شگون چاہیے ہوتا ہے۔ امجد خان کو بھی ایسا ہی شگون توتا فال نے دے دیا۔ توتے نے فال نکالی، ”نجومی“ نے فال پڑھی، جس میں لکھا تھا، تم جو کام کرنے جا رہے ہو، اس میں تمھارا ہی نام سب سے زیادہ ہوگا۔

فلم ”شعلے“ ریلیز ہوئی، تو ابتدا اچھی نہ تھی، لگ رہا تھا کہ فلم نہیں چلے گی۔ اس دوران یہ کہا جانے لگا، کہ ”شعلے“ کی ناکامی کی وجہ نیا اداکار امجد خان ہے؛ امجد خان یہ صورت احوال دیکھ کر فکر مند تھے۔ اس دوران ”شعلے“ نے زور پکڑا، تو ہر طرف سے ”گبر سنگھ، گبر سنگھ“ کی صدا آنے لگی، لیکن امجد خان کا دل شکستہ تھا، یہ اداس تھے کہ ان کی کم زور آواز کی وجہ سے ”شعلے“ کو وہ ریسپانس نہیں ملا، جو ملنا چاہیے تھا۔ ایک دن یہ کسی اور فلم کی شوٹ کے لیے آوٹ ڈور لوکیشن پر جا رہے تھے، راستے میں ایک چھوٹا سا قصبہ آیا، جہاں عملہ چائے پینے کے لیے ایک ڈھابے پر رُکا۔ ڈھابے کے ٹیپ رکارڈر پر ”شعلے“ کے مکالمے جاری تھے، اور تمام مکالمے کم زور آواز والے امجد خان (گبر سنگھ) کے تھے۔ تب امجد خان کو احساس ہوا، کہ ان کی کم زور آواز دیس بھر میں گونج رہی ہے، اس کم زور آواز کے طاقت ور مکالمے لوگوں میں مقبول ہو گئے ہیں۔ پھر کیا تھا، امجد خان شدت جذبات سے رو پڑے۔ اس فلم کے بعد امجد خان نے مڑ کر نہیں دیکھا۔

امجد خان ”گبر سنگھ“ ہی کے نہ ہو کے رہ گئے۔ ستیہ جیت رے کی فلم ”شطرنج کے کھلاڑی“ جو منشی پریم چند کی کہانی پر فلمائی گئی، اس میں انھوں نے اودھ کے نواب واجد علی شاہ کا کردار نبھایا۔ ”یارانہ“ اور ”لاوارث“ میں مثبت کردار، اور ”قربانی“ کا کردار ان کے یادگار کردار رہے۔ امجد خان کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ چائے کے رسیا تھے، یہ ایک کے بعد ایک چائے کا کپ لیتے۔

1972ء میں ان کی شادی شہلا خان سے ہوئی۔ ان سے ان کے دو بیٹے شاداب خان، سیماب خان اور ایک بیٹی احرام خان ہیں۔ 1986ء میں ان کا شدید ایکسیڈنٹ ہوا، یہ موت کے منہ سے تو بچ کر نکل آئے، لیکن اس حادثے کی وجہ سے انھیں بہت سی دوائیاں لینا پڑیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا وزن بڑھتا چلا گیا اور تکلیفوں میں‌ اضافہ ہوتا گیا۔ جہاں بڑھتے وزن کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہوتی چلی گئی، وہاں فلموں میں کام ملنا بھی کم ہوتا چلا گیا۔ 1992ء میں یہ باون سال کے بھی نہ ہوئے تھے، کہ ان کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں