میرے نامکمل حج اور پرانا مکہ


میں نے آنکھ کھول کر دنیا کو دیکھا تو ہر سال کا حج زندگی کا لازم حصّہ پایا۔

بابا اور اماں کی زندگی مکہ اور مدینہ کے گرد منڈلاتی تھی دو پروانوں کی طرح۔

تیسری میں آ گئی جسے ان کی انگلی پکڑ کر اس مرکزِ حیات کے گرد منڈلانا ہوتا تھا۔

بابا سرکاری ملازم تھے۔ ہر سال حج کے لیے ان کی چھٹی کا معاملہ پھنس جاتا۔ اعتراض آتا کہ ابھی پچھلے سال تو گئے ہو! اُدھر چھٹی کی درخواست چیف سیکریٹری کی ٹیبل پر پڑی پھڑپھڑا رہی ہوتی اور اِدھر وہ بے چین ہوئے پھرتے اور اماں کو سفر کی تیاری کا کہہ رہے ہوتے۔ مزاجاً بابا optimist تھے اور اماں pessimist۔ اماں بھر آئی ہوئی آواز میں مایوسی کے ساتھ کہتیں کہ اس بار بلاوا نہیں آیا! اس بار ہمیں یاد نہیں کیا گیا! ہاں اتنی بھیڑ میں ہم کہاں یاد ہوں گے! اور بھی کئی چاہنے والے پہنچے ہوئے ہوں گے وہاں۔ وہی ہم سے زیادہ عزیز ہوں گے!

بابا شدتِ جذبات سے سُرخ پڑ جاتے۔ آواز ان کی بھی بھر آتی تھی مگر ایک مکمل یقین کے ساتھ کہ اللہ پر یقین رکھو اور تیاری کرو۔

چھٹی منظور ہو تو جاتی مگر عموماَ حج کے دن سے ایک دن پہلے۔

ہم جدہ اتر کر سیدھے مکہ پہنچتے تو، یا تو منیٰ روانگی کے لیے قافلے نکل رہے ہوتے تھے یا منیٰ جا چکے ہوتے تھے۔

کبھی کبھی اُس رات جب لوگ منیٰ جا چکے ہوتے اور ہم رات گئے مکہ پہنچتے۔ ایسے میں مکہ ایک خالی نیم تاریک شہر کی صورت، سناٹے میں ڈوبا ہوا ملتا تھا۔ اگلی صبح ہم بھی مکہ سے سیدھے عرفات کے لیے نکل جاتے۔

وہ خالی ہو چکا مکہ کا شہر میرے بہت بچپن کی یادوں میں رکھی رہ گئی زرد پڑ چکی تصویروں کی طرح آج بھی موجود ہے۔

وہ سنسان مکہ ایک عجب پُراسرار شہر دکھتا تھا!

سعودی عرب میں تیل کی دولت تو آ چکی تھی مگر مکہ، مدینہ اور جدہ ابھی اپنے قدیم خدوخال کے ساتھ موجود تھے۔ گو کہ بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ شروع کر دی گئی تھی نئی عمارتوں اور سڑکوں کا جال بچھانے کے لیے۔

میری یاد داشت کا وہ زمانہ ساٹھ کی دہائی کا ہے۔ سعودی پاکستانیوں پر واری جاتے تھے اور ان کے بوسے لیتے نہ تھکتے تھے۔

مکہ شہر کا منظر کچھ یوں تھا کہ پہاڑی ڈھلوانوں پر بنی پتلی گلیوں کا ایک جال سا بچھا تھا اندر ہی اندر۔ گلیاں در گلیاں، ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی۔ گاڑی ان گلیوں میں نہیں جا سکتی تھی۔ پیدل گزرنا ہوتا تھا۔

سیاہ پتھروں سے بچھا گلیوں کا فرش اور گلیوں کے دونوں کناروں پر سیاہ و سرمئی رنگ کے پتھر سے بنے ہوئے دو دو منزلہ مکانات، جن کے ستون اور چھتوں کے شہتیر کھجور کے تنوں سے بنے ہوتے تھے۔ لکڑی کی باریک جافری نما جالیوں سے بنی، باہر گلی کی طرف نکلتی ہوئی، چھوٹی بڑی کھڑکیاں (bay windows)، جن کے اندر کی طرف بنے چبوترے بیٹھنے کے کام آتے تھے۔

انہی گلیوں میں ہر گھر کی بکریاں بھی گھر کے دروازوں سے بندھی اپنے آگے چارہ بکھیرے بندھی منمنا رہی ہوتیں۔

انہی تنگ گلیوں میں افغانیوں اور بخاریوں کی تندور کی چھوٹی چھوٹی دکانیں ہوتی تھیں، جہاں تازہ نان کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں میں مروّج خوراک حریسہ بڑے بڑے صراحی نما دیگچوں میں مسلسل پک رہا ہوتا تھا اور تندور میں بکرے کا ثابت سر پکایا جاتا تھا۔ بکروں کے کئی ثابت سر تندور کی دکانوں پر خریدار کے انتظار میں لٹک بھی رہے ہوتے تھے۔

حج کے موسم میں مکے کے لوگ اپنے گھر ہوٹل کی طرح کرائے پر اٹھا دیتے تھے اور خود گھر کی چھت پر خیمہ لگا کر رہتے تھے۔ ان گھروں کی سیڑھیاں بھی تنگ اور سیاہ و سرمئی پتھر کی ہوتی تھیں۔ ایک منزل پر ایک یا دو کمرے ہوتے تھے۔ کمروں کی دیواروں پر طاقچے بنے ہوتے تھے جن پر میں نے تو فنجان سجے دیکھے تھے مگر شاید کبھی دیے جلا کر رکھے جانے کے کام آتے ہوں گے!

کمروں کے فرش پر مکینوں کی مالی حیثیت کے مطابق سُرخ پھولدار قالین بچھے ہوتے تھے اور دیواروں سے لگے پتلے پتلے گدے اور ٹیک لگانے کے لیے پتھر کے سے سخت تکیے۔

 گلی میں کھلتی bay window کا چبوترہ گویا اوپر بیٹھنے کا واحد انتظام ہوتا تھا، ورنہ فرشی نشست کے علاوہ اوپر بیٹھنے کا تصوّر ہی نہ تھا۔

ہر گھر کا یہی نقشہ تھا۔ یا پھر مرکزی شہر سے کچھ دور پہاڑوں کے دامن میں پتھر کے چھوٹے چھوٹے غریبانہ گھر۔ جیسے ہمارے پہاڑی علاقوں میں آج بھی ہیں۔

مرکزی شہر کی تمام گلیاں مسجدالحرام کی جانب جا کر کھلتی تھیں۔

مسجدالحرام کے اطراف جیسے آج فلک بوس عمارتیں نظر آتی ہیں، تب اونچے اونچے پہاڑ دکھتے تھے۔ سیاہ و سرمئی پتھر کے، ازل سے ڈٹے کھڑے پہاڑ۔

خانہِ کعبہ کے سامنے بیٹھے ہوئے، ان پہاڑوں پر پتھر کی دیواروں اور ٹین کی چھتوں سے بنے بدوؤں کے جھونپڑا نما گھر جابجا نظر آ رہے ہوتے تھے۔ ان میں بستے لوگ ان پہاڑوں پر اترتے چڑھتے دکھ رہے ہوتے۔ کھال سے بنی، پانی سے بھری مشکیں پیٹھ پر لادے ہوئے، چھوٹی چھوٹی لنگوٹ باندھے دبلے پتلے بدو ان گھروندوں میں پانی پہنچاتے نظر آ رہے ہوتے تھے۔

خانہِ کعبہ کے گرد طواف کی جگہ چھوڑ کر باقی کے صحن میں کنکر بھرے ہوتے تھے، جن پر بچھی سرخ دریوں پر نمازی کعبہ رُخ بیٹھا کرتے تھے۔ مسجد نبوی کی طرح کبوتر یہاں بھی پھڑپھڑاتے پھرتے تھے۔ ان کے چگنے کے لیے گندم صحن کی کنکریوں کے بیچ بھری ہوتی تھی۔

مسجدالحرام کی عمارت ابھی عثمانی دور کی تھی۔ سُرخ اور نارنجی رنگ اینٹوں کے محرابوں والے برآمدے خانہِ کعبہ سے مناسب فاصلے پر چاروں اطراف دائرے کی صورت کھڑے تھے۔ ان برآمدوں کے عقب میں سعودی دور کی نئی تعمیر کا کام ابھی شروع ہی ہوا تھا۔

اب تو وہ پتھر شیشے کے سنہری شوکیس میں رکھا ہے جس پر حضرت ابراھیم کے پیروں کے نشان ہیں اور جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراھیم نے کعبے کی تعمیر کی تھی۔ مگر میرے بچپن کے اُن دنوں میں عین اس جگہ ایک سبز رنگ کی چھت اور جالیوں والی کوٹھڑی سی بنی تھی، جس کے اندر کہیں رکھا وہ پتھر کبھی دکھائی نہیں دیا تھا۔ ہاں ایک معذور شخص جس کی نہ ٹانگیں تھیں اور نہ بازو، اس کوٹھڑی کے باہر ایک چھلنگا سی کھٹیا پر پڑا رہتا تھا، جیسے وہ اسی جگہ کا حصّہ ہو!

زم زم کا پانی سفید جبے میں ملبوس حبشی نوجوان پلا رہے ہوتے تھے۔ سفید مٹی کی صراحی کندھے پر رکھے، آیات کنندہ چاندی رنگ پیالیاں آپس میں کھنکھناتے، زم زم کی آواز لگاتے پھر رہے ہوتے تھے۔ ان میں کچھ حبشی، خواجہ سرا بھی ہوتے تھے۔

بابا بہت ہی شوق سے مسجدالحرام کے اس حصے میں جاکر بیٹھا کرتے تھے جہاں سے نبی کریمﷺ معراج پر گئے تھے۔ اس جگہ ایک بڑا اور چوڑا سا چبوترہ بنا ہوتا تھا جس کی حدود حضرت ام ھانی کے گھر کے مطابق تھیں، جہاں سے نبی کریمﷺ معراج پر گئے تھے۔ بابا اکثر اس جگہ بیٹھ کر معراج کا واقعہ دہراتے مگر مکمل نہ کر پاتے۔ نبی کریمﷺ کے متعلق وہ زیادہ دیر بات کر نہیں پاتے تھے۔ آنسو اور بھر آئی ہوئی آواز انہیں روک لیتی تھی۔

صفا مروہ میرے بہت ہی بچپن میں شاید بیچ بازار سے گزرتا تھا مگر مجھے جو صفا مروہ یاد پڑتا ہے، اس کی سیمنٹ کی دیوار بازار اور مسجد کے بیچ حائل کی جا چکی تھی۔ مگر صفا و مروہ کی دونوں پہاڑیاں اپنی اصل حالت میں جوں کی توں موجود تھیں، جیسی ازل سے تھیں۔

مگر صفا مروہ کے دروازوں سے باہر بلکل ایسے بازار سج چکے تھے جیسے میلوں ٹھیلوں میں لگتے ہیں۔

شہر کی نئی تعمیر کے لیے کھدائی کی ہوئی زمین مٹی کے ٹیلوں کی صورت اختیار کیے ہوئے تھی اور اس پر لکڑی کے ڈھابوں کی صورت لاتعداد کھلی دکانیں لگی ہوتی تھیں۔

سعودی عرب میں باہر کا سامان آنا شروع ہو چکا تھا۔ صفا مروہ کے باہر امریکہ اور یورپ سے درآمد شدہ سامان ڈھیروں کی صورت ان کھلی دکانوں میں رکھا ہوتا تھا۔ لڑکیوں کے خوبصورت، یورپین اسٹائل اور ساٹھ کی دہائی کے جدید ریڈی میڈ فراک، میکسیاں، پینٹس اور ٹاپس بہت زیادہ نظر آتے تھے۔ مقامی لڑکیوں نے یہی لباس پہننا شروع کر دیا تھا اور ان کے لباس کا اسٹائل بھی تیزی سے بدل رہا تھا۔

اس کے علاوہ ان دکانوں پر طرح طرح کے کمبل، سنہری رنگ کے برتن اور کھلونے سب چیزوں میں نمایاں نظر آ رہے ہوتے تھے جو حاجیوں کے لیے کشش کا باعث ہوں گے!

مسجدالحرام کی دوسری جانب سونے کا بازار بھی اسی طرح لکڑی کی کھلی چھوٹی چھوٹی کیبنز کی صورت تھا، جس طرح ہمارے ہاں آج بھی پان سگریٹ کی کیبنز ہیں۔ سونے کے زیورات اور solid gold کی موٹی موٹی زنجیریں ان کیبنز پر سبزی کی طرح لٹک رہی ہوتی تھیں۔

دکاندار سب ہی کاروبار کے ساتھ ساتھ حقہ ضرور گڑگڑا رہے ہوتے۔

لمبی سی نے ہوتی تھی حقے کی جو کافی فاصلے تک کھنچتی تھی۔ باہر سے شوخ رنگ کپڑے کا کوَر چڑھا ہوتا تھا نے پر۔

مسجد الحرام میں ازان شروع ہوتی تو ساری دکانوں کے دکاندار، سب کچھ کھلا چھوڑ کر نماز کی طرف دوڑ جاتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ ایک چادر دکان پر کھینچ دی جاتی تھی کہ دکان بند ہے۔

اسی طرح دنیا بھر سے لائی گئی کھانے پینے کی اشیاء سے دکانیں لدی ہوئی دکھتی تھیں۔

سامان کی نقل و حرکت کے لیے خچر اور گدھا گاڑی کا بہت زیادہ استعمال نظر آتا تھا۔

جب ہم یومِ عرفات سے ایک رات پہلے مکہ پہنچتے تھے تو یہ سارا کاروبار پہلے سے ہی بند ہو چکا ہوتا تھا۔ شہر میں ایک نیم تاریکی سی اوڑھے سناٹا سائیں سائیں کر رہا ہوتا۔ ایسا دکھتا تھا جیسے شہر کا شہر اٹھ کر حج کی ادائگی کے لیے چلا گیا ہے۔ لدی پھندی دکانوں پر ایک ایک جلتا ہوا بلب لٹک رہا ہوتا تھا اور ایک ایک چادر دکان پر کھنچی ہوتی تھی۔

ان دنوں مقامی لوگ بھی بڑی تعداد میں حج کی ادائگی کے لیے اور حج کے دنوں کا کاروبار کرنے کے لیے منیٰ اور عرفات کی طرف نکل جاتے تھے۔

ہاں مسجدالحرام کے سب ہی دروازے کھلے ملتے تھے۔ اور مسجد مکمل روشن ہوتی تھی۔

اندر اسی طرح ازان اور باجماعت نماز ہو رہی ہوتی تھی۔ خانہِ کعبہ کے گرد اسی طرح طواف جاری و ساری ہوتا تھا۔ مگر لوگ بہت ہی کم کم ہوتے تھے۔

اس خاموش اور تقریباﹰ خالی مسجدالحرام کے بیچ خاموش کھڑا خانہِ کعبہ، جس کے اطرف خالی ہو چکے شہر میں رہ گئے کچھ مقامی لوگ یوں طواف کر رہے ہوتے تھے جیسے روحیں اللہ کے گھر کے گرد سرسراتی پھر رہی ہوں!

یا پھر کعبہ کے گرد منڈلاتی ہوئی ابابیلیں جن کے پر سرچ لائیٹس کی روشنی میں جگنوؤں کی طرح چمک رہے ہوتے تھے۔ گو کہ یہ ابراہہ پر حملہ کرنا والی ابابیلیں نہ تھیں مگر کعبہ کے گرد خاص طور پر رات کے وقت منڈلاتی رہتی تھیں۔

مسجدالحرام کے گرد دکھتے پہاڑوں پر آباد بدوؤں کی بستیوں میں بھی بس کہیں کہیں روشنی ٹمٹما رہی ہوتی تھی۔

اس خالی ہو چکے نیم تاریک شہر میں فجر کی ازان کی گونج آج بھی میری یادوں میں کہیں اسی طرح موجود ہے۔

فجر نماز کے بعد ہم بھی سیدھا عرفات کی طرف نکل جاتے تھے۔

لیکن جب حج سے ایک دو دن پہلے مکہ پہنچتے تو حاجیوں کے قافلوں کے ساتھ ہی روانہ ہوتے۔ وہ منظر بلکل ہی اور ہوتا تھا۔

تب آجکل کی طرح فائیوِ اسٹار اور فور اسٹار حج نہیں تھے۔

حاجیوں سے لدی بسیں ائرکنڈیشنڈ بھی نہیں ہوتی تھیں۔

موسم تو شدید گرم ہوتا ہی تھا۔

زرد اور سُرخ رنگ کی چھوٹی چھوٹی بسوں کی لاتعداد قطاریں (ایسی بسیں آج بھی امریکہ اور یورپ میں اسکول بس کے طور پر استعمال ہوتی ہیں)، سروں پر سامان لادے، احرام باندھے ہوئے ہر عمر اور قوم کے حاجیوں کا ایک مضطرب انبوہ تا حدِ نظر پھیلا ہوتا تھا اور ان کے لیے انتظامات کے لیے پریشان اور بے چین معلمین ہوتے تھے جو اپنے اپنے حصے کے قافلوں کے لیے دوڑے دوڑے پھرتے تھے۔

ہمارا معلم ہر سال ایک ہی ہوتا تھا۔ محسن السندی۔ سُرخ و سفید، بھاری بھرکم جسم والا۔ اپنے گھر کے سامنے عربی طرز کی کھاٹ پر پلتھی مارے بیٹھا، اپنے ورکرز پر گرج گرج کر احکامات جاری کر رہا ہوتا تھا۔ اردو خاصی صاف تھی اس کی۔ پتہ نہیں کب اس کے آباؤ اجداد سندھ سے حجرت کرکے آئے تھے، جس کی وجہ سے اس کے نام کے آگے السندی لگتا تھا۔ گو کہ اسے سندھی آتی نہیں تھی۔ پورا عرب ہو چکا تھا۔ مجھ پر ڈانٹ ڈپٹ گویا اس کا مجھ سے پیار کا اظہار ہوتا تھا۔

ہم انہی کے گھر میں رہتے تھے۔

کھانے پر ان کے گھر کی خواتین تب تک کھانا شروع نہیں کرتی تھیں، جب تک ان کی میلی، پسینے کی بوُ سے بھری حبشی ملازمہ دسترخوان پر آکر نہیں بیٹھتی تھی۔

محسن السندی کی وفات کے بعد ہم ایک ہندوستانی معلم کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ عبدلرحمان شلی الھندی۔ ان کے ہاں صرف ہم پاکستانی ہوتے تھے، باقی سب ساؤتھ انڈیا کے حاجی ہوتے تھے۔

ان کے گھر کی خواتین بھی تب تک کھانا شروع نہیں کرتی تھیں، جب تک ان کی ملازمہ اپنے بہتی ناک والے بیٹے کے ساتھ دسترخوان پر آکر نہ بیٹھتی تھی۔ یہ خواتین اپنے لیے سونا خریدتیں تو ملازمہ کو بھی سونے کا کچھ نہ کچھ دلاتی تھیں۔ کپڑے خریدتیں تو بھی اسے اپنے کپڑوں سے ملتے جلتے کپڑے دلاتیں۔

انسانی برابری اپنے بہت ہی بچپن میں میں نے ان دو گھروں میں سیکھی۔

ان دونوں گھروں کی خواتین ٹوٹی پھوٹی اردو میں اماں سے گفتگو کر رہی ہوتیں کہ ملازم کا کتنا حق ہے مالک پر اور ملازم کی حق تلفی پر کتنی سخت پکڑ ہے اور حکم ہے کہ جو خود کھاؤ، وہی انہیں کھلاؤ۔ وہی پہناؤ جو خود پہنو۔

ان دنوں چونکہ ابھی حج اتنا سہولت بھرا نہ ہوا تھا اس لیے سب ہی کو اپنا اپنا زادِ راہ ساتھ رکھنا ہوتا تھا۔ گول بندھے بستر سے لے کر، چولہا، چوکی، آٹا، دال، چاول کے کنستر، برتن تک۔ یہ سب زادِ راہ اپنے ملک سے ہی ساتھ لانا ہوتا تھا۔

منیٰ اور عرفات کو جانے والے راستے تنگ اور کٹھن بھی تھے۔ ٹریفک کنٹرول پر ابھی مہارت بھی نہیں تھی۔ بدوؤں کے چودہ سے سترہ سال کے دبلے پتلے غیر تربیت یافتہ لڑکے بالے پولیس کی وردی میں ملبوس، ہاتھ میں ڈنڈی اٹھائے اپنا فرض انجام دینے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہوتے تھے۔ گو کہ مونچھیں بھی ابھی ٹھیک سے نکلی نہ ہوتی تھیں، مگر وردی کا رعب ایسا تھا کہ عسکری کہلانے والے یہ لڑکے اپنے تئیں جس گاڑی کی غلطی پکڑتے، پوری طاقت سے اس کے بونیٹ پر ڈنڈا دے مارتے۔ چاہے وہ بڑی سی، امریکی کار کیوں نہ ہوتی۔ عسکری سے پنگہ لینا کسی کے لیے ممکن نہ ہوتا تھا۔

مقامی لوگ ابھی رہتے انہی پرانے گھروں میں تھے مگر ان کے پاس بڑی تعداد میں بڑی بڑی امریکی گاڑیاں آ چکی تھیں۔ بڑے شوق سے ان گاڑیوں کو اندر سے سجاتے بھی تھے۔

سُرخ جھالر لگی مخمل گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگی ہوتی تھی۔ سیٹ کور بھی عموماََ شوخ رنگ مخمل کے ہوتے تھے۔ گاڑیوں کی کھڑکیوں پر بھی شوخ رنگ پردے لگے ہوتے تھے۔ مگر گاڑیاں دھونے کا رواج نہیں تھا۔ مٹی اور دھول کی تہیں گاڑیوں پر جمی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ ایکسیڈنٹ کی ہوئی گاڑیاں سڑکوں کے کناروں پر اوندھی پڑی ہوئی ملتی تھیں۔ شاید ان کو دوبارہ زندہ کرنے کا انتظام ابھی موجود نہ تھا۔

دولت کی آمد سے ایک دلچسپ رواج مقامی لوگوں میں فروغ پا چکا تھا۔ عورتیں اور مرد اپنے ایک دو دانتوں پر سونے کا کور چڑھوا دیتے تھے۔ اکثر کے منہ میں ایک دو اور کبھی اس سے بھی زیادہ سونے کے دانت چمک رہے ہوتے تھے۔

یہ سب ہی محمود و ایاز انسانی سمندر کی صورت حج کی ادائگی کے لیے منیٰ کی جانب روانہ ہوتے۔

بسوں، گاڑیوں، خچر اور گدھا گاڑیوں کے سواروں کے ساتھ ساتھ ایک ہجوم وہ بھی ہوتا تھا جو پیدل چل رہا ہوتا تھا۔ جوان ہی کیا، بوڑھے اور لاغر افراد بھی۔ عورتیں بھی۔

تنگ اور محدود سڑکوں کی وجہ سے گاڑیوں اور بسوں کا قافلہ چیونٹی کی رفتار سے ایک گونج کے ساتھ رینگ رہا ہوتا۔

لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لک۔۔۔۔۔

پیدل چلنے والوں کی رفتار گاڑیوں سے تیز ہوتی تھی۔ وہ، حاضر ہوں میرے رب، میں حاضر ہوں کی گونج کے ساتھ، سروں پر سامان اٹھائے اپنی دھن میں چلے جا رہے ہوتے تھے۔ جوانوں کی پیٹھ پر عموماََ بوڑھے، ضعیف والدین بھی سوار ہوتے تھے۔

بوڑھے والدین کو پیٹھ پر لاد کر حج کروانے کا رجحان بہت زیادہ تھا۔ ان دنوں وہیل چیئر وہاں دستیاب نہیں تھی۔ بوڑھے اور ضعیف لوگ طواف اور صفا مروہ ڈولی نما چارپائی پر سوار ہوکر کرتے تھے جس کی اگلی دو ڈنڈیاں ایک بدو اپنے کندھے پر اٹھاتا اور پچھلی دو دوسرا بدو۔ پسینے میں شرابور یہ بدو ہانپتے ہوئے اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے، راستہ مانگتے ہوئے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ طواف اور صفا مروہ مکمل کرواتے اور دم لیے بغیر اگلی سواری اٹھا لیتے۔

لیکن زیادہ تر لوگ اپنے بوڑھے والدین کو اپنی پیٹھ پر لاد کر حج اور طواف و صفا مروہ کرواتے نظر آتے۔ بوڑھے والدین ننھے بچوں کی طرح جوان بیٹوں کی گردنوں میں باہیں ڈالے، ٹانگیں ان کی کمر کے گرد حائل کیے ہوتے تھے۔ بیٹے ساتھ ساتھ اونچی آواز میں انہیں دعا پڑھا رہے ہوتے جو وہ بچوں کی طرح پیچھے سے دہرا رہے ہوتے تھے۔

گرمی کی شدت یہ ہوتی تھی کہ احرام سے جھانکتے حاجیوں کے کندھے سُرخ ہو رہے ہوتے تھے۔ بسوں میں بیٹھے ہوئے لوگ پسینے سے شرابور ہو رہے ہوتے اور ہاتھ کے پنکھوں سے خود کو ہوا دے رہے ہوتے۔

احرام میں عورت اور مرد کو چہرہ ڈھانپنے کی اجازت نہیں۔ پردہ دار عورتیں برقعے کے نقاب کے اندر ماتھے پر چھجے کی صورت ہاتھ کا پنکھا باندھ کر اس پر نقاب ڈالتی تھیں، تاکہ چہرہ بھی ڈھکا رہے اور احرام کی پابندی بھی رہے۔ یہ طریقہ ہر قوم کی عورتیں اپناتی تھیں، گو کہ اکثریت چہرے کھلے رکھتی تھی۔

حج کے یہ مناظر میں بس کی کھڑکی میں بیٹھی یوں دیکھا کرتی جیسے کوئی بچہ کئی بار کی دیکھی ہوئی فلم ایک بار پھر دیکھ رہا ہوتا ہے، گو کہ ایک ایک منظر اس کی یاداشت میں نقش ہو چکا ہو۔

بسوں اور گاڑیوں میں منیٰ اور مکہ کے بیچ تقریباً سات میل کا مختصر فاصلہ رینگتے رینگتے دوپہر ڈھلے جا کر تمام ہوتا تھا۔ مگر پیادہ حاجی کب کے پہنچ چکے ہوتے تھے۔

منیٰ ۔۔۔۔۔۔ سفید سادہ خیموں کا شہر ہوتا تھا۔

حدِ نظر تک سفید خیمے آپس میں جُڑے کھڑے ہوتے تھے۔ ہر معلم کی اپنی الگ بستی بنی ہوتی تھی۔ پیادہ حاجی جہاں جگہ ملی وہاں اپنا ٹھکانہ بنا لیتے تھے۔ تین چار لکڑیوں کو جوڑ کر ان پر چادر ڈال کر چھوٹی سی بے در و دیوار جھونپڑی بنا دی جاتی تھی، بس سر چھپانے جتنی جگہ گھیر کر۔

خیموں کی بستیوں میں حاجت رفع کرنے کا بہت ہی دلچسپ انتظام ہوا کرتا تھا۔ بس طنابیں کھینچ کر، گڑھے کھود دیے جاتے تھے اور چند اینٹیں ان گڑھوں کے گرد رکھ دی جاتی تھیں۔ ساتھ ساتھ بنے یہ بیت الخلا آدھے عورتوں کے لیے اور آدھے مردوں کے لیے۔ نہ عورتوں کو مردوں سے ڈر لگتا تھا اور نہ مردوں کو عورتوں سے گھن آتی تھی۔ نہ کسی کے ایمان کو خطرہ تھا۔

پینے کا پانی بھی منیٰ کی سڑکوں پر مشکیزے اور مٹی کی صراحیاں پشت پر لادے، سقے بیچ رہے ہوتے تھے۔ منرل واٹر کی بوتلیں ابھی رواج پا نہ سکی تھیں شاید! پانی سے کہیں زیادہ کوکاکولا اور پیپسی بکتی تھی۔

منیٰ کے خیموں کا فرش سوکھی، بھربھری، کھنکتی مٹی کا دیکھا تھا میں نے، جس پر ہولڈال میں گول کیے ہوئے بستر بچھا دیے جاتے تھے اور ایک رات کے لیے تمام زادِ راہ کھول دیا جاتا تھا۔ چولہے جلائے جاتے، پیٹ پوجا کا انتظام شروع کیا جاتا۔ ساتھ ساتھ نماز اور حاضر ہوں میرے رب! حاضر ہوں، کی صدائیں بھی گونج رہی ہوتیں اور دنیاداری کی باتیں بھی سنائی دے رہی ہوتی تھیں۔

ایک خیمہ آٹھ دس لوگوں کو الاٹ کیا جاتا تھا۔ اگر سب ہی ایک خاندان کے افراد نہیں ہوتے تھے تو اپنی اپنی خواتین کی پردہ داری کے لیے مرد اپنے احرام کی چادر خیمے کے بیچ میں کھینچ دیتے تھے۔

عبادت کے ساتھ ساتھ لڑائی جھگڑے بھی چل رہے ہوتے تھے۔

حاجی صاحبان عمومًا بات بے بات لڑ پڑتے۔ گرمی کی وجہ سے ان کی قوتِ برداشت ساتھ چھوڑنے لگتی تھی۔

پھر دوسرے بیچ بچاؤ بھی کرتے تھے۔ یہ جھگڑے عمومًا پانی پر، خیمے میں زیادہ جگہ گھیرنے پر ہوتے تھے۔ بیچ بچاؤ کروانے والے لڑنے والوں کو یاد دلا رہے ہوتے تھے کہ میاں حج کرنے آئے ہو۔ نفس کو قابو میں رکھو۔

اماں کہتی تھیں حج کے رفیق آپس میں کتنے ہی محبت کرنے والے کیوں نہ ہوں اگر حج کے دوران لڑ پڑے تو تمام عمر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں ہوتے۔

خیموں میں جب چولہے جلنا شروع ہوتے اور پکتے کھانوں کی خوشبو کے ساتھ بل کھاتے دھویں کی لہریں خیموں سے باہر کی جانب اٹھنے لگتیں تو اماں گنگنانا شروع کرتیں۔

اماں کی آواز بہت خوبصورت اور پُر سوز و گداز بھری تھی۔ سُر تال کی بھی بہت سمجھ تھی انہیں۔ شاعر باپ کی بیٹی تھیں اس لیے شاعری سے اتنا لگاؤ تھا کہ اپنے والد کا تو پورا کلام ازبر تھا ہی مگر سندھی صوفی شاعری سے کئی کافیاں انہیں یاد تھیں۔

منیٰ میں حدِ نظر تک کبوتروں کی طرح پر پھیلائے کھڑے منیٰ کے خیموں اور خیموں میں جلتے چولہوں سے اٹھتے بل کھاتے دھویں کی لہروں کو دیکھ کر وہ ہمیشہ شاھ سائیں کا کلام اونچی آواز میں گنگنایا کرتیں۔۔۔

چھپر چھپر سے جُڑے ہوئے

الگ الگ اٹھتے دھویں

میرا کوُچا میرے بابل کا دیس

میری سنگت میرے بابل کے سنگ

منیٰ کے خیموں کے بیچ اماں کی وہ گنگناہٹ میرے کانوں میں آج بھی زندہ ہے۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ کہیں نہ کہیں، خیموں کی کسی بستی کو آگ پکڑ لیتی تھی۔ شہر پر دھویں کے بادل چھا جاتے۔ لوگ پریشان ہو کر خیموں سے باہر نکل آتے تھے۔ آگ مستعدی سے بجھائی جاتی۔ اور سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا اور لبیک کی گونج میں دب جاتا۔

منیٰ کی اگلی صبح یومِ عرفات طلوع ہوتا تھا۔

خیموں کے اُس پار سے ابھی شفق ادھوری ادھوری سی جھانکنا شروع کرتی ہی تھی کہ حاجیوں کا یہی سمندر اپنا اپنا بوریا بستر سمیٹتا اور عرفات کی طرف رینگنا شروع کرتا۔

لبیک کی صداؤں میں اور بھی گونج بھر آتی۔

عرفات پہنچتے تو سورج سوا نیزے پر کھڑا تپش اُگل رہا ہوتا تھا۔ ساتھ ساتھ لوُ کے جھکڑ بھی چل رہے ہوتے تھے۔

عرفات میں چند گھنٹوں کے قیام کے لیے انتظامات بھی عارضی ہوتے تھے۔ میدانِ عرفات کی زمین منیٰ کی زمین سے مختلف اور ریتیلی ہوتی تھی۔ دوپہر تک یہ ریت بھی تانبے کی طرح تپ جاتی تھی۔ خیموں کی صرف بڑی بڑی چھتیں سائبان کی صورت ڈال دی جاتی تھیں، جن کے نیچے بچھی دریوں پر مرد اور عورتیں زرا سا فاصلہ دے کر بیٹھ جاتے تھے۔ بیچ کا کوئی پردہ ممکن نہ رہتا تھا۔ کبھی کبھی یہ سائبان بھی لوُ کے جھکڑ سے پھڑپھڑا کر اُڑنے جیسے ہو رہے ہوتے تھے۔ عرفات میں کھانے کا لنگر بٹتا تھا۔ دنبے کے گوشت میں چاولوں کے بڑے بڑے تھال ہر سائبان تلے پہنچا دیے جاتے تھے۔

بابا اپنے ساتھ آئے ہوئے قریبی رشتہ داروں کو بے چین ہوتا دیکھ کر انہیں سمجھا رہے ہوتے تھے کہ احرام کفن کے مثل ہے۔ احرام کی حالت میں خود کو مردہ سمجھو۔ جیسے قبر میں پڑا ہوا جسم۔ نفس سے عاری۔

وہ کہتے قیامت کے روز بھی انسان جب دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا تو عورت اور مرد کی تفریق نہ ہوگی۔ صرف اعمال کا معاملہ ہوگا۔ میدانِ عرفات توبہ کی جگہ ہے۔ اپنے گناہوں سے معافی کا مقام ہے۔

مگر اماں کو حضرت آدم اور بی بی حوا کے معاملے سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ وہ کسی نہ کسی بہانے ان دونوں کے بہشت سے نکلنے، میدانِ عرفات میں دوبارہ آ ملنے اور توبہ قبول ہونے کا زکر ضرور کرتی تھیں۔ تھوڑا بہت دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ بہشت کے درخت سے دور نہ رہ سکنے میں غلطی کس کی زیادہ تھی، اس پر بھی تبصرہ کرتی تھیں۔ عموماََ حوا کو دفاع زیادہ کیا کرتی تھیں۔

اماں کو ہمیشہ قیامت کا ڈر رہا۔ خاص طور پر یومِ عرفات کی یومِ محشر سے مماثلت کی منظر کشی بہت ضروری ہوتی تھی ان کے لیے۔ احرام میں ملبوس ہجوم انہیں قیامت کے دن قبروں سے اٹھ کھڑا ہوا ہجوم دکھتا تھا۔ سورج کی تپش اور گرمی اس مماثلت کا لازم حصّہ ہوتے تھے۔

اللہ سے اماں کا تعلق خاصہ بے تکلفانہ رہا تھا۔ اور بابا کا تعلق بہت ہی حجابانہ تھا۔ بابا، اماں کو اس بے تکلفانہ اندازِ اظہار سے روکتے بھی تھے مگر وہ اس سوچ کی تھیں کہ میں جانوں میرا خدا جانے۔

عرفات میں آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ کو مخاطب کرکے کہتیں کہ قیامت کے دن بھی ایسی ہی بھیڑ ہوگی اللہ سائیں! سورج کی ایسی ہی تپش! تیرے اتنے سارے بندے! تو مجھے پہچانے گا بھی کہ نہیں! یہ تو مجھے تجھ تک پہنچنے دیں گے بھی نہیں! مجھ سے نہیں برداشت ہوگی اتنی گرمی اللہ سائیں! زرا میری خبر گیری جلدی کرنا۔

میدانِ عرفات میں خیموں کے تنے سائبانوں کے باہر ہر سوُ سیاہ چھتریاں تنی ہوئی دکھتی تھیں، جن کا رُخ جبلِ عرفات یا مسجدِ نمرہ کی طرف ہوتا تھا۔

اماں کا احتجاج اور خوف غلط بھی نہیں تھا۔ سچ مچ گرمی کی شدت اتنی ہوتی تھی کہ بہت سے لوگ سروں پر پانی ڈال رہے ہوتے تھے۔ بہت سے بے ہوش بھی ہو جاتے تھے۔

ان دنوں حج پر گورے چٹے لوگوں کے کچھ ایسے گروپس بھی نظر آتے تھے، جن میں سب ہی افراد بوڑھے ہوتے تھے۔ بھاری جسموں والے۔ عورتوں نے بڑی بڑی گھیر والی شلواریں قمیص اندر کر کے کمر تک باندھی ہوئی ہوتی تھیں اور مردوں نے بوسیدہ سے شکن آلود تھری پیس سوٹ پہنے ہوئے ہوتے تھے۔ بوڑھے اتنے کہ کمر سے جھکے ہوئے ہوتے تھے۔

یہ لوگ اپنے ملک سے ہی جن بسوں میں آتے تھے، صرف وہی جدید اور ائرکنڈیشنڈ ہوتی تھیں۔

گرمی سے ان کی حالت قابلِ رحم ہوتی تھی۔ چہرے سُرخ ٹماٹر جیسے ہو رہے ہوتے۔

دیوانگی کے ساتھ تربوز یوں کھا رہے ہوتے، جیسے اسی کے زریعے خود کو ٹھنڈک پہنچا رہے ہوں! کبھی پیالے کی صورت آدھا کٹا ہوا تربوز اُلٹ کر ٹوپی کی صورت سر پر رکھ لیتے۔ کھانا کھاتے تو کچا انڈا توڑ کر، منہ کھول کر پورے کا پورا کچا انڈا منہ میں اُنڈیل دیتے۔

بابا بتاتے تھے کہ یہ تُرک ہیں۔ گرمی کی انہیں عادت نہیں ہے۔ پہلے ان کے سعودی عرب آنے پر پابندی تھی۔ اب بھی صرف بوڑھے آتے ہیں۔ ان کی حکومت جوانوں کو حج کی اجازت نہیں دیتی۔

بچپن میں میرا میدانِ عرفات کا دن ریت سے گھروندے بناتے ہوئے گزرتا تھا۔ یا پھر یہ پریشان حال بوڑھے تُرک اور انگنت سیاہ چھتریوں کا لہریں بناتا سمندر میرے لیے کشش کا باعث ہوتا تھا۔

سیاہ چھتریاں تھامے، سفید احرام میں لپٹے جسم جو آہستہ آہستہ دور جبلِ عرفات پر چڑھ رہے ہوتے تھے۔ دور سے جبلِ عرفات کے وسط میں نسب سفید پتھر سب میں نمایاں دکھ رہا ہوتا تھا، جس کے گرد سیاہ چھتریوں والے جمع ہو رہے ہوتے تھے۔ گزرتی عمر کے ساتھ دھیرے دھیرے پتہ چلا کہ سفید پتھر عین اس جگہ نسب ہے جہاں کھڑے ہو کر رسول اللہﷺ نے خطبہِ حجتہ الوداع دیا تھا جو بچپن میں پرائمری اسکول کے نصاب میں بار بار سامنے آتا رہا کہ نہ عربی کو عجمی پر فوقیت ہے اور عجمی کو عربی پر۔ کہ لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ کہ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔

کہ جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔

بابا ہمیں کبھی حج کے دنوں میں جبلِ عرفات لے کر نہیں گئے تھے۔

لیکن میرے لیے جبلِ نور کا کٹھن راستہ طے کرکے غارِ حرا تک پہنچنا اور غارِ حرا کو دیکھنا اور غارِ حرا میں بیٹھ کر اسے محسوس کرنا، ایک بہت ہی خوبصورت یاد اور تجربے کی صورت آج بھی میری زندگی کا حصّہ ہے۔ میری عمر تقریباً چودہ سال کی ہو چکی تھی۔ اُس حج کی رفاقت میں ہمارے ساتھ موجود قریبی رشتہ داروں نے جبلِ نور کی اونچائی دیکھ کر اوپر جانے سے انکار کر دیا تھا۔ سب نیچے ہی کھڑے رہے۔ میری پوپھو کو چیلنجز اور ایڈونچرز بہت پسند تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مجھے تو یہ پہاڑ سر کرنا ہے۔ گو کہ اماں میری طرح بہت ہی سہولت پسند تھیں مگر پوپھو کا چیلنج انہیں قبول کرنا ہی پڑتا تھا۔ دونوں نے مجھے ساتھ پکڑا اور جبلِ نور کے پہاڑ پر چڑھ گئیں۔

سخت اور سیاہ و سرمئی پتھر کا مشکل پہاڑ جس کی چوٹی پر غارِ حرا دکھتا تھا۔ جوں جوں پہاڑ چڑھتے جاتے، لگتا غار دور ہوتا جاتا ہے۔ غار تک بنا ہوا بے ترتیب راستہ بھی کچھ یوں تھا کہ نوکدار پتھروں کو پکڑ پکڑ کر اوپر کو قدم بڑھانا پڑتا تھا۔ بیچ بیچ میں پیر پیچھے کو پھسل بھی جاتا تھا۔ شاید تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے کی مشقت کے بعد ہم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تھے۔ راستے بھر اماں بس یہی کہتی رہیں کہ سائیں(نبی کریمﷺ) کیسے طے کرتے ہوں گے یہ پہاڑ!

چوٹی پر پہنچے تو دور دور تک، پہاڑوں پر آباد مکہ کا شہر دکھ رہا تھا۔ غار میں باری باری جانا پڑ رہا تھا ایک نفل کی ادائگی کے لیے۔ میری باری آئی۔ غار میں جھک کر داخل ہوئی۔ غار میں آدمی اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ نفل بیٹھ کر پڑھنا پڑتا تھا۔ بیٹھنے کے بعد کا وہ چونکا دینے والا منظر آج بھی یاد آتا ہے تو دل دھڑک سا اٹھتا ہے۔ کیمرا کے ایک بڑے لینس جتنی دراڑ تھی دو جُڑے ہوئے پتھروں کے بیچ۔ اس لینس سے خانہِ کعبہ کو یوں فوکس کیا ہوا تھا کہ نگاہ کا مرکز صرف خانہِ کعبہ ہو سکتا تھا۔

عمر تو ابھی باشعور نہ تھی مگر اُس لمحہ بھر میں مجھ پر جیسے غارِ حرا کا اسرار کھُل سا گیا۔ خود ہی سمجھنے کی گستاخی کر لی کہ غارِ حرا کی مکمل تنہائی اپنا کیا اثر چھوڑتی ہوگی! جب دیکھنے کے لیے نگاہ کو صرف بیت اللہ میسر ہو!

غار حرا تک پہنچنے کے اُس منظر سے پہلے بچپن میں سنتی تھی کہ میدانِ عرفات میں ہر دعا قبول ہوتی ہے۔

میں بھی ریت سے گھروندے بناتے ہوئے لگے ہاتھوں اپنے زرا سے دل میں پڑی ناممکن خواہشوں کی دعائیں مانگتی تھی۔

پتہ نہیں زندگی جو میرے حصے میں آئی، اس میں ان دعاؤں کا کتنا حصّہ شامل ہوا!

مگر اماں بہت ہی اونچی آواز میں ہاتھ اٹھائے میدانِ عرفات میں میرے لیے دعائیں مانگا کرتی تھیں۔ اماں کی دعاؤں کا مرکز اکثر میں ہی ہوا کرتی تھی۔ اپنے لیے تو وہ صرف استغفار کا ورد کرتی تھیں۔ خود کو دنیا کا سب سے بڑا گنہگار تصوّر کرتی تھیں اور ناکردہ گناہوں کی معافی کی بھی طلبگار رہتی تھیں۔ بہشت کی خواہش خال خال ہی ہوتی تھی۔ دوزخ کا خوف اور قبر میں منکر نکیر کا سامنا انہیں زیادہ پریشان کرتا تھا۔ مجھے وہ اپنی مرضی کا دیکھنا چاہتی تھیں۔ شاید میری شرارتوں، ضدی طبیعت اور منہ پھٹ عادتوں سے بھی وہ عاجز آئی ہوئی تھیں! اس لیے ایک دعا تو وہ میرے لیے پابندی سے دہراتی رہتی تھیں کہ یا اللہ نورالہدیٰ کا دل نرم کر دے اور اسے ہدایت والا بنا۔

اماں میرے دل کی نرمی کی دعا مانگ رہی ہوتیں اور میں عرفات کی ریت کو پانی سے نرم کر کے قطار در قطار گھروندے بنا رہی ہوتی اور ان میں اپنے تصوراتی کرداروں کو بسا رہی ہوتی۔

شام ڈھلے سے پہلے میدانِ عرفات چھوڑ کر مزدلفہ پہنچنا ہوتا تھا۔

مزدلفہ عجب پراسرار میدان محسوس ہوتا تھا مجھے۔

تاروں بھرے آسمان تلے، نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا کنکریوں بھرا میدان۔ جابجا بسیں اور گاڑیاں کھڑی ہوتیں۔ اپنی اپنی بس اور گاڑی کی اوٹ میں سب ہی کا شب بھر کا پڑاؤ ہوتا۔ مزدلفہ کے کنکر کنکر میدان سے شیطان کو مارنے کے لیے کنکر چننا ہوتے تھے۔

میرے لیے بھی یہ بہت ہی دلچسپ شغل ہوتا تھا۔ میری کوشش ہوتی تھی کہ میں نسبتاﹰ بڑے پتھر چنوں اس ان دیکھے شیطان کے لیے جس نے ابھی مجھے بہلا پھسلا کر گناہوں پر آمادہ نہیں کیا تھا۔

جتنے انگنت کنکر مزدلفہ کی زمین پر بکھرے تھے، اتنے ہی لاتعداد تارے اس کے آسمان پر پھیلے ہوتے تھے۔ کنکر چننا اور تارے گننا ہی مزدلفہ کے میدان کی لذت تھی۔

یوں شب بیت جاتی، صبحِ صادق پھر منیٰ کا رُخ کرنا ہوتا تھا۔ منیٰ واپسی کا یہ سفر مزید مشکل اور طویل ہو جاتا تھا۔ اب تک پورا ٹریفک بے ترتیب ہو کر الجھ چکا ہوتا تھا۔ گھنٹوں گاڑیاں گرمی اور دھوپ میں پھنسی کھڑی رہتیں۔ زرا زرا سی جنبش کرتیں، پھر ٹھہر جاتیں۔ اوپر سے بھوک اور پیاس بھی اس مشکل سفر کی آزمائش ہوتی۔

مجھے بابا نے بھوک اور پیاس میں چپ رہنا پتہ نہیں کب سے سکھایا ہوا تھا۔

بابا خود بھی بڑے سکون کے ساتھ بس کی سیٹ پر بیٹھے ہوتے۔ کوئی آہ بھرتا تو اسی سکون کے ساتھ کہتے حج جسم کی زکواة ہے۔ اپنے رب کے حضور یہ جسمانی تکلیف ہی تو پیش کرنا ہے حج کی ادائگی کرکے، ورنہ تو یہ محض ایک سفر ہے۔ یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں۔

اس جسمانی زکواة کا ایک واقعہ یادوں میں نقش رہ گیا۔

حج کے ہی ایک سفر کے دوران منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے اماں اور پوپھو نے بس کی کھڑکی سے چند حبشی عورتوں کو کچرے کے ڈھیر سے روٹی کے ٹکڑے اٹھاتے ہوئے دیکھ کر قدرے ناگواری کا اظہار کیا تھا کہ اب یہ گندی روٹیوں کے ٹکڑے یہ لوگ کھائیں گے!

اگلے دن ہم عرفات اور مزدلفہ کرکے واپس منیٰ لوٹ رہے تھے۔ پورا دن ٹریفک میں پھنسے رہے۔ شام کو منیٰ پہنچے تو بھوک اور پیاس سے بے حال ہو چکے تھے۔ میں نے رونا شروع کر دیا۔جلدی میں اماں اور پوپھو نے کچھ بنا تو لیا مگر روٹی نہیں تھی جس سے کھایا جائے اور کسی کی بھی بھوک میں مزید انتظار کی سکت نہ رہی تھی۔ بابا ہر طرف روٹی تلاش کرکے مایوس لوٹ آئے۔ پورے منیٰ میں کہیں روٹی نہیں تھی۔ حالانکہ ان دنوں بھی پکی پکائی روٹی کی کئی طرح کی اقسام سعودی عرب میں انتہائی سستے داموں وافر مقدار میں بکتی بھی تھیں اور جگہ جگہ میسر بھی ہوتی تھیں۔ مگر اس دن روٹی نہ ملنا تھی سو نہ ملی۔ اچانک پوپھو اٹھیں اور باہر نکل گئیں۔ کچھ دیر بعد لوٹیں تو ہاتھ میں کچرے کے ڈھیر سے اٹھائے ہوئے روٹیوں کے ٹکڑے تھے۔ بنا کچھ کہے چولہا جلایا۔ روٹی کے ٹکڑوں کو پانی اور کپڑے سے صاف کیا۔ چولہے کی آگ پر سینک کر انہیں گرم کیا اور دستر خوان پر رکھ دیا۔ ہم سب نے خاموشی کے ساتھ پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ یوں بہت ہی بچپن میں زندگی نے ایک سبق سکھا دیا۔

بابا ہمیشہ ایک بات ان سب رشتہ داروں کو کہا کرتے تھے جو حج کے لیے ان کے شریکِ سفر بنتے تھے۔

کہتے تھے اس سفر اور اس زمین سے عیب مت نکالو۔ اگر کوئی عیب نظر بھی آئے تو سمجھو کہ تمہاری آنکھ کا دھوکہ ہے۔

منیٰ میں شیطان تب اپنی قدیم صورت میں موجود تھا۔ کنویں کے سے دائرے کے اندر سے سفید چونا لگے پتھر کا سر نکالے جھانک رہا ہوتا تھا گویا۔ پتھراؤ کی وجہ چونا جگہ جگہ سے یوں اکھڑا ہوتا جیسے بہت سے لوگوں نے منہ نوچ ڈالا ہو اس کا! مگر کمبخت ہر سال اسی ڈھٹائی سے کنویں میں سے گردن نکالے، دانت نکوسے کھڑا ملتا۔

بابا مجھے کندھوں پر سوار کر کے شیطان کو کنکریاں مارنے کو کہتے۔ ساتھ ساتھ کہتے جاتے کہ آہستہ ۔۔۔۔ کسی کو کنکر لگ نہ جائے۔

ایک صاحب ایک دو بار حج میں ہمارے شریکِ سفر بھی ہوئے۔ وہ تو آخری دن منیٰ سے نکلتے وقت شیطان سے معافی تلافی بھی کرتے جاتے کہ اچھا یار! زندگی رہی تو ساتھ سلامت۔ گھر پر تو ملاقات ہوگی ہی۔ میرے ہاتھوں چوٹ زیادہ لگی ہو تو معاف کر دینا۔

عرفات سے واپس منیٰ آکر قربانی بھی دینا ہوتی تھی اور احرام اتار کر طوافِ حج کرنے کے لیے مکہ جاکر واپس منیٰ آنا ہوتا تھا۔

بچپن کے کسی حج کے دوران، بابا کی انگلی پکڑے طوافِ حج کر رہی تھی کہ اچانک پولیس بیچ طواف میں آگئی اور طواف کے بیچ خاموشی سے راستہ بنانے لگی۔ طواف ختم کرکے بابا مجھے ایک طرف لے کر کھڑے ہوگئے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ ایک بہت ہی خوبصورت اور نفیس نقوش والا عرب، سنہری ڈوریوں والا براؤن عبا کندھوں پر رکھے قدم قدم طواف کر رہا تھا۔ نظریں زمین پر مرکوز۔ اطراف سے لاتعلق۔ بابا نے جھک کر میرے کان میں سرگوشی کی کہ یہ سعودی عرب کے بادشاہ ہیں، شاہ فیصل۔ کہانیوں کے بادشاہ کو یوں سامنے پاکر میری چیخ نکل گئی۔ بے اختیار انگلی اٹھا کر بادشاہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہ ہے بادشاہ؟

بابا نے گھبرا کر میرا ہاتھ کھینچ کر میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

شاہ فیصل رک گئے۔ بابا کو انگلی سے اشارہ کیا کہ بچی کے منہ پر سے ہاتھ ہٹاؤ۔

بابا نے ہاتھ ہٹا دیا اور شاہ فیصل آگے بڑھ گئے۔ مگر میرا ننھا سا دل بادشاہ پر آ چکا تھا۔ کچھ دنوں بعد مکہ میں ہی بہت سارے نوٹوں پر سے میں نے قینچی سے بادشاہ کی تصویر کاٹ کر الگ کرلی اور نوٹوں کی باقی بچ رہ گئی کترنیں کھڑکی سے باہر پھینک دیں۔

نیچے سے ہمارے معلم کا بیٹا گھبرایا ہوا کٹے پھٹے نوٹوں کی کترنیں اٹھا لایا تو پتہ چلا کہ میں اچھی خاصی بڑی واردات کر گزری ہوں۔

میری یادوں میں ایک حج وہ بھی ہے جب ہم بحری جہاز پر جدہ گئے تھے۔

جدہ خود بھی ایک پرانا شہر تھا جس کی عمارتیں ویسی ہی تھیں جیسی مکہ کی تھیں۔ مگر سمندری آب و ہوا کی وجہ سے بوسیدہ سی دکھتی ہوئی اور یوں جھکی ہوئی ہوتی تھیں، جیسے ابھی زمیں بوس ہو جائیں گی۔ ان عمارتوں کو گرانے کا عمل بھی شروع ہو چکا تھا۔

شہر کے ایک جانب محض ایک ہال پر مشتمل چھوٹا سا ائرپورٹ ہوتا تھا۔ مرکزی شہر کے بازار پر ٹین کے سائبان ڈال دیے گئے تھے، جہاں مکہ کی طرح دنیا بھر سے آیا ہوا سامان رکھا تھا۔ یہاں کچھ دکانیں جدید دور کے مطابق بھی ہوتی تھیں، جن میں اس دور کے یورپین برانڈز کا سامان رکھا ہوتا تھا۔ ایک کیبن نما دکان پر پیرس سے آئی ہوئی آئسکریم بکتی تھی۔ دکان سے باہر فٹ پاتھ اور اسٹول پر بیٹھ کر وہ آئسکریم کھانا میرے لیے جدہ کی واحد کشش تھی۔

کچھ ہی عرصے میں دیکھتے دیکھتے پرانا جدہ پورا مسمار ہوتا گیا اور نئی عمارتوں کی بنیادیں ڈلنے لگیں۔ دکانیں بڑے بڑے شوکیس کے ساتھ جدید رنگ اختیار کرنے لگیں۔

جدہ کے لوگ مکہ کے لوگوں سے بلکل مختلف ہوتے تھے۔ دین سے زیادہ دنیا کی ترقی کی طرف ان کی توجہ تھی۔

گاڑیوں میں اونچی آواز میں ام کلثوم کو سنتے اور اس کے ساتھ خود بھی اونچی آواز میں گنگناتے اور کسی بول پر ایکسائیٹمنٹ کے ساتھ چیخ بھی پڑتے۔ جبکہ مکہ کے لوگ زیادہ تر قاری عبدالباسط کی قرآت سنتے تھے۔

اس ماحول میں، میں بہت ہی بچپن سے ام کلثوم اور قاری عبدالباسط کی مداح ہوگئی۔ دونوں آوازیں آج بھی میرے لیے بہت پرکشش ہیں۔

مکہ کے لوگوں کی دنیا کے کاروبار سے دلچسپی ان کے موڈ کے مطابق ہوتی تھی۔ کچھ فروخت کرنے کا موڈ نہ ہوتا تو جھڑک کر دکان سے ہٹ جانے کو بھی کہہ دیتے۔ مزاجاََ خاصے غصّے والے ہوتے تھے۔ بابا بڑی نرمی سے، ان کے موڈ کے مطابق ان سے بات کرتے تھے۔ جبکہ اماں کی ان سے بلکل نہیں بنتی تھی۔

جدہ میں اسکول یونیفارم میں ملبوس لڑکے لڑکیاں زیادہ بڑی تعداد میں نظر آنے لگے تھے۔

سنا تھا کہ شاہ فیصل کی بیوی رفعت کو لڑکیوں کی تعلیم کا بہت شوق تھا اور اس کے لیے وہ مولویوں کے سامنے نہ صرف ڈٹ گئی تھیں بلکہ انہوں نے کئی گرلز اسکولز سعودی عرب میں کھلوا لیے تھے۔

مجھے اپنے بچپن میں اسکول جانے والی بچیوں کی زیادہ تعداد جدہ اور مدینہ میں نظر آتی تھی۔

ٹیلی ویژن کے لیے بھی انہوں نے ہی مولویوں کا مقابلہ کیا تھا کہ سعودی عرب میں ٹیلی ویژن ضرور آئے گا۔

ایک حج کا سفر ہم نے بحری جہاز پر کیا تھا۔ پتہ نہیں پاکستان کے وہ بحری جہاز بھی کیا ہوئے جو حاجیوں اور دیگر مسافروں کو لے کر سمندر کا سفر طے کیا کرتے تھے!

تب میری عمر کوئی گیارہ سال کی تھی۔ کسی وجہ سے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے بحری جہاز کے سفر پر پابندی تھی۔ مگر بابا کو تو بہرحال حج پر جانا ہی تھا۔

میرا قد لمبا اور جسم صحت مند تھا۔ بابا نے میری منت سماجت کرکے مجھے پرانے زمانے والا برقع اوڑھا دیا اور چہرے پر نقاب ڈال دیا۔

جہاز کی سیڑھیاں چڑھ کر پہنچے تو اوپر کھڑے کپتان نے میرا نقاب الٹ دیا۔ اندر سے میں نکلی جس کے چہرے پر ظاہر ہے کہ عمر لکھی تھی۔ کپتان نے بابا کو مسکرا کر دیکھا جو پریشان کھڑے تھے۔ اگلے لمحے کپتان نے ہنس کر میرے چہرے پر نقاب ڈال دیا اور اندر جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا، اگلی بار برقع مت پہننا۔ میں نے بھی کپتان کے مشورے پر پورا عمل کیا اور اماں کی شدید خواہش اور دباؤ کے باوجود کبھی نہ برقع اوڑھ پائی اور نہ نقاب چہرے پر ڈال سکی۔

سمندر میں سات دن کا سفر طے کرتے ہوئے حاجیوں سے بھرا وہ جہاز آٹھویں دن جدہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا تھا۔

برقع جہاز کے اندر پہنچتے ہی میں نے اتار پھینکا تھا، جسکی وجہ سے کپتان کی مجھ سے دوستی ہوگئی تھی اور اس نے ہمارے رہنے کا انتظام جہاز کے سب سے اونچے عرشے پر کر دیا تھا۔

اتنی اونچائی سے ہر لمحہ حدِ نظر سے بھی آگے تک اور چار سوُ سمندر ہی سمندر دکھ رہا ہوتا تھا۔ رات کو بھی ہم اسی عرشے کے فرش پر بستر بچھا کر سوتے تھے۔ رات کو آسمان اور سمندر ایک ہوتے ہوئے محسوس ہوتے تھے اور دونوں کے بیچ آسمان کے تارے گھُل مل سے جاتے تھے۔ سمندر کا شور رات رات بھر گـونج رہا ہوتا۔ رات کی اس گونج میں اکثر جہاز کے کسی حصّے سے نماز کے وقت ازان کی آواز اور حاجیوں کی لبیک الھم لبیک کی گونج بھی شامل ہو جاتی کہ حاضر ہوں میرے رب، میں حاضر ہوں۔

میری یادوں میں بیچ سمندر میں ڈوبتا ہوا اور طلوع ہوتا سورج اور سمندر و آسمان کے ملاپ سے پوٹھتی ہوئی شفق آج بھی اسی طرح بسی ہوئی ہے۔

کپتان اکثر مجھے جہاز کے steering wheel کے سامنے کھڑا کرکے کہتا کہ جہاز چلاؤ۔ کپتان کے ساتھ ساتھ وہیل گھماتے ہوئے میں اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتی کہ میں جہاز چلا رہی ہوں!

پھر ایک دن جہاز کے اس سفر میں ایک سہما دینے والا منظر دیکھنے کو ملا۔ اس کے بعد جہاز اپنی کشش کھو بیٹھا۔

ایک مسافر کا انتقال ہوگیا۔

جہاز کے عرشے سے اس کی تدفین کی گئی۔ موٹی موٹی رسیوں میں جکڑے ہوئے ایک بڑے سے بکسے میں بند جنازہ عرشے پر سے سمندر کی گہرائی میں اتارا گیا۔ جب چند لمحوں بعد رسیوں کے زریعے دوبارہ بکسے کو اوپر کھینچا جا رہا تھا تو بکسے کا نچلا حصہ کھلا ہوا تھا۔ بکسہ خالی تھا۔ جنازہ سمندر کی تہ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

باقی کا سفر میں جہاز کے عرشے پر کھڑے ہوکر دیر دیر تک لہروں می کھو چکے اس آدمی کو ڈھونڈتی رہتی جسے حاجیوں نے لبیک کی گونج کے ساتھ سمندر میں اتارا تھا اور جس کے لیے سب کہہ رہے تھے کہ وہ جنتی ہو گیا۔

اماں نے عرشے کی ریلنگ سے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے شاہ لطیف کا جو بیت پڑھا تھا اس کے معنی برسوں بعد سمجھ میں آئے۔۔۔۔

ڈھونڈتا رہوں ۔۔۔۔ ڈھونڈتا رہوں ۔۔۔۔ پر کبھی نہ پاؤں پیا سے وصل ۔۔۔۔۔۔ من اندر کی لوچ وصل میں بجھ نہ جائے کہیں!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 75 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah

One thought on “میرے نامکمل حج اور پرانا مکہ

Comments are closed.