عبداللہ بٹ اور انارکلی میں غریب قرض خواہ


wajahat

عبداللہ بٹ چالیس کی دہائی میں لاہور کے ایک جانے پہچانے کردار تھے۔ نیلا گنبد کی نگینہ بیکری میں صاحبان علم کی صحبت اٹھاتے تھے لیکن مزاج میں آشفتگی اور شوریدگی بھی پائی جاتی تھی۔ کبھی مجلس احرار سے تعلق رکھتے تھے اور اس نسبت سے کانگرس کی طرف جھکاﺅ تھا۔ پھر مسلم لیگ کے حامی ہوئے اور آخر آخر میں پنجاب کے محکمہ تعلقات عامہ سے منسلک ہو گئے۔ روایت کی جاتی ہے کہ عبداللہ بٹ آزادی کے فوراً بعد کے دنوں میں انارکلی سے گزر رہے تھے کہ کسی شناسا سے آمنا سامنا ہو گیا۔ اچھے وقتوں میں عبداللہ بٹ نے ان صاحب سے بیس روپے قرض لے رکھے تھے۔ ملاقات ہونے پر انہوں نے دبے لفظوں میں قرض کی واپسی کا تقاضا کرنا چاہا ۔ انار کلی میں ایک تھپڑ کی آواز گونجی اور پھر عبداللہ بٹ کی بلند آہنگ خطابت سنائی دی۔ خلاصہ کلام یہ تھا کہ اب جبکہ اسلامیان ہند نے قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان بنا لیا ہے اور میرے جیسا غلط کار جو کبھی احراری تھا اور کانگرس کا حامی تھا ، صدق دل سے قائداعظم کا غلام اور پاکستان کا خادم بن چکا ہے ۔میرے سامنے کسی بدبخت کو یہ جسارت نہیں ہو سکتی کہ وہ قائداعظم کی شان میں گستاخی کرے۔ بتایا جاتا ہے کہ موقع پر جمع ہونے والے ہجوم نے کچھ اس رنگ میں عبداللہ بٹ کے فرمودات پر لبیک کہا کہ قرض مانگنے والا افتاں و خیزاں انارکلی سے بھاگ رہا تھا اور پھولی ہوئی سانس میں کہے جا رہا تھا، ’ میں اپنے پیسے واپس نہیں مانگوں گا‘۔ یہ حکایت پڑھنے کے بعد اگر آپ کا یہ خیال ہو کہ درویش آپ کی توجہ کراچی کے سابق میئر مصطفی کمال کی حالیہ پریس کانفرنس کی طرف دلانا چاہتا ہے تو آپ کا اندازہ درست نہیں۔ مجھے تو نواب امیر محمد کالا باغ کے ضمن میں الطاف گوہر مرحوم کی روایت یاد آرہی ہے۔ چند جملے پڑھ لیجئے۔ ’ہم لوگ چندہ تو مسلم لیگ کو دیتے تھے مگر ہماری اصل سیاست اپنے کمشنر کی سیاست تھی…. یوں کمشنر بہادر تو درکنار ڈپٹی کمشنر کی بارگاہ میں رسائی بھی مشکل سے ہوتی تھی لیکن 1946 ءکے آخر میں ہمارے علاقہ کے کمشنر نے ہمیں بلایا اور یہ خبر سنائی کہ انگریز نے ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے…. بس اس کے بعد ہم لوگ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور پھر ہم نے پاکستان کی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا اور ہر طرح کی قربانی دی‘۔ خدا کے نیک بندوں اور عامتہ الناس میں یہی فرق ہے کہ اصحاب رشد صحیح وقت اور صحیح مقام پر قربانی دیتے ہیں اور سرخرو قرار پاتے ہیں۔ عامتہ الناس کی قربانی تاریخ کا حاشیہ بن کر رہ جاتی ہے نیز یہ کہ مسلسل جاری رہتی ہے۔

عبداللہ بٹ ہی کا بیان مستعار لیا جائے تو ”قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں یہ خطہ ارض “حاصل کر نے کے بعد ایسے متعدد حالات و واقعات پیش آئے جو نہ تو کسی منصوبے کا حصہ تھے اور نہ ان کی پیش گوئی کی جا سکتی تھی۔ مثال کے طور پر 1946ءمیں کلکتہ ، نواکھلی اور بہار کے فسادات اور پھر مارچ 1947 ءمیں شمالی پنجاب سے شروع ہونے والے فسادات ۔ ان فسادات سے جان و مال کے قیمتی اتلاف کے علاوہ تبادلہ آبادی کے بحران نے جنم لیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل و حرکت نے متروکہ املاک کا قضیہ کھڑا کیا۔ ہزاروں خاندان اپنے گھر بار سے محروم ہوکر نان جویں کے محتاج ہو گئے جبکہ آبادی کی ایک بڑی تعداد کی مالی حالت راتوں رات بہتر ہو گئی۔ ان ابتدائی مہینوں میں پیش آنے والے حالات نے نوزائیدہ قوم کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ حیران کن طور پر آزادی کا مفہوم غیر ملکی حکمرانی سے چھٹکارے کی بجائے تقسیم کے بیانیے سے منسلک کر دیا گیا۔ آزادی کے ان ابتدائی برسوں میں کھینچے گئے خطوط نے ہمارا سیاسی ، معاشی اور معاشرتی تشخص مرتب کیا۔ 2014 ءمیں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے قومی فیصلے نے اس تشخص اور اس سے منسلکہ نصاب پر بہت سے سوالات کھڑے کیے ہیں۔ یہ طے ہے کہ اب دہشت گردی کے بارے میں ایسا ابہام ممکن نہیں رہا جس کے ہوتے ہوئے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں بیٹھے ہوئے مکمل اطمینان تھا کہ پاکستان کا کوئی اہلکار اس پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ نیشنل ایکشن پلان پر مو¿ثر عمل درآمد پر تو بحث ہو سکتی ہے لیکن یہ طے ہے کہ دہشت گردی کے بارے میں ہمارے علانیہ اور غیر علانیہ مو¿قف میں تبدیلی آچکی ہے۔ چنانچہ اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی کے کن زاویوں سے دہشت گردی کو اس قدر تقویت ملی کہ اس نے ریاست کو کم و بیش یرغمال بنا لیا۔ اس وقت ملک میں ایک زور دار بحث جاری ہے۔ ماضی میں دہشت گردوں کی کھلی حمایت یا کم از کم ان کی عذر خواہی میں پیش پیش عناصر کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی قومی بیانیے میں ایسی بنیادی تبدیلوں تک نہ پہنچے جس سے ان کے پیوستہ مفادات مجروح ہوں۔ دوسری طرف وہ حلقے جنہوں نے دو عشروں تک دہشت گردی کی دو ٹوک مزاحمت کی، چاہتے ہیں کہ ہمارے جسد اجتماعی سے وہ کانٹے نکالے جائیں جن سے پھیلنے والا فاسد مواد بالآخر قوم کے قلب کو ماﺅف کر دیتا ہے۔ ہمارے ایک ہمسایہ ملک میں یک جماعتی نظام حکومت قائم ہے۔ 2013ءمیں اس ملک کے رہنماﺅں نے اپنے نظام حکومت کو لاحق پانچ اہم خطرات کی نشان دہی کی۔ (1) مغربی آئینی جمہوریت ، ( 2) انسانی حقوق ، (3) سول سوسائٹی، ( 4) تاریخ پر فتنہ انگیز تنقید ، اور ( 5 ) میڈیا کی آزادی۔

توجہ فرمائیے کیا ہمارے ملک میں حالات کو جوں کا توں رکھنے کی خواہش رکھنے والے بھی کم و بیش ان نکات ہی پر متفق نہیں ہیں۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کی خامیاں بیان کرنے کا چلن عام ہے۔ انسانی حقوق کو اجنبی اور ناقابل عمل ایجنڈا قرار دیا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کے مو¿قف کو غیر ملکی شرانگیزی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاریخ پر سوال اٹھانے پر گڑے مردے اکھاڑنے کی پھبتی کہی جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے بارے میں ہم نے حال ہی میں دجالی میڈیا کی اصطلاح دریافت کی ہے۔ ہمسایہ ملک کے حالات و واقعات سے قطع نظر ہمیں اپنے تناظر میں رہتے ہوئے ان نکات کی نشان دہی کرنی چاہیے جن پر کھلے بحث مباحثے کے بغیر قوم کو استحکام اور ترقی کے راستے پر گامزن نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے اپنی تاریخ میں چار بنیادی غلطیاں کیں بلکہ کہنا چاہیے کہ ایک غلطی سے دوسری کا دروازہ کھلتا چلا گیا۔1 ۔ ہم نے ریاست اور شہریوں کے عمرانی معاہدے کو عوام کی حاکمیت اور مکمل شہری مساوات کے اصولوں پر استوار نہیں کیا۔ اس سے مختلف طبقات ، علاقوں اور گروہوں کے درمیان اعتماد کا گہرا بحران پیدا ہوا۔ 2 ۔ ہم غیر ضروری طور پر سرد جنگ میں فریق بن گئے۔ ہمارے وسائل اس مہم جوئی کی اجازت نہیں دیتے تھے چنانچہ ہم ناگزیر طور پر عالمی قوتوں کا طفیلی سیارہ بن گئے۔ 3 ۔ہم نے بھارت کے ساتھ اپنے تنازعات کو دو ہمسایہ ریاستوں میں معمول کے اختلافات کی بجائے اپنے قومی وجود کا جواز قرار دے ڈالا۔ اس سے نہ صرف قومی ترقی سے غفلت کی راہ ہموار ہوئی بلکہ ہم پورے خطے میں غیر ضروری کشیدگی کا شکار ہو گئے۔ 4۔ ہم نے سیاسی اور تمدنی قوتوں کی  ریاستی اداروں پر بالادستی کا سوال مناسب طریقے سے حل نہیں کیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمہ مقتدر ریاستی اداروں اور رجعت پسند سیاسی حلقوں کے مابین ایک ان کہا اتحاد قائم ہو گیا۔ اس نامبارک اتحاد نے ریاست اور شہریوں میں مستقل مخاصمت کھڑی کر رکھی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ معاشرتی اور سیاسی طور پر قدامت پسند قوتیں معاشی پیش رفت ، علمی ترقی اور سیاسی استحکام میں ریاست کی بامعنی مدد کرنے سے قاصر ہیں بلکہ ان قوتوں کا مفاد ریاست کو کمزور کرنے میں ہے۔ خواہ بچیوں کی تعلیم کا سوال ہو ، اقلیتوں کے تحفظ کا مسئلہ ہو ، آبادی کا خوفناک پھیلاﺅ ہو یا عورتوں کے تحفظ کا معاملہ ہو،یہ عناصر اپنی افتاد میں تعمیر کی بجائے عدم استحکام پیدا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ خود ہی فرمایا کرتے ہیں کہ بنا نہیں سکتے ، گرانا البتہ جانتے ہیں۔اس ملک کے غریب عوام اپنا وہ قرض واپس مانگنا چاہتے ہیں جو بہت عرصہ پہلے لیا گیا تھا۔ دوسری طرف عبداللہ بٹ صاحب نے ایک ہجوم طفلاں جمع کر رکھا ہے۔ مناسب ہو گا کہ ان کے بلند آہنگ خطبے کی غایت پر نظر رکھی جائے کیونکہ اس کی بنیاد شفاف اور تعمیری نہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “عبداللہ بٹ اور انارکلی میں غریب قرض خواہ

  • 07-03-2016 at 10:25 pm
    Permalink

    نیلے گنبد کی نگینہ بیکری نہیں تھی…. انارکلی سے مال روڈ کی طرف با ہر نکلیں تو سا منے بانہیں ہاتھ تیسری دوکان میں نگینہ بیکری تھی……

    اسی طرح عارف وقار نے بھی دانستہ منٹو کی آخری تحریر میں فلمی رسالے ڈائریکٹر کا دفتر ڈی پی ایڈ جلی کے اوپر قائم کر دیا ہے, جبکہ یہ دفتر کمرشل بلڈ نگ میں شراب کی دوکان سے آٹھ دوکانیں دور تھا….. اور عارف وقار وہاں ملازمت کرتا تھا…..
    دوستو…… جغرافیہ کا خیال نہیں رکھنا چاہیئے…..؟؟؟

  • 08-03-2016 at 9:58 pm
    Permalink

    تقسیم ہند تو ساخشانہ ہی سرد جنگ کا تھا غیر ضروری فریق بنے بے جا ہے عوامل کی ترتیب سچائی کی طلبگار ہیں تاکہ ترتیب درست ہو

    • 09-03-2016 at 2:49 am
      Permalink

      محترم شاہ نواز میاں خیل صاحب، رہنمائی کے لئے شکریہ۔ جارج کینن نے اپنا معروف ٹیلی گرام 22 فروری 1946 کو ارسال کیا تھا۔ چرچل نے میسوری کالج میں تقریر 5 مارچ 1946 کو کی تھی۔ تقسیم ہند کے لئے قرار داد مارچ 1939 میں منظور ہوئی تھی۔ مسلم لیگ نے اپریل 1941 کے پٹنہ اجلاس میں تقسیم ہند کو اپنا مسلک (Creed) قرار دیا تھا۔ سوویت یونین 21 مئی 1941 تک عالمی جنگ سے باہر تھا۔ واقعات کی تقویمی ترتیب کے اعتبار سے اپنا موقف بیان فرما دیجئے۔ آداب

Comments are closed.