شریف حکومت میں چونگی کے غنڈہ راج کی واپسی


ejaz-awan

اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے کے 36 اضلاع میں یکم جولائی سے ایک مرتبہ پھر چونگی نظام دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ محصول چونگی کا نظام 1999 میں نواز حکومت نے ایک ظالمانہ نظام قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا تھا۔ کہا یہ گیا تھا کہ ساٹھ سالہ پرانا نظام غنڈہ گردی اور بدمعاشی کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کے بعد بارہا نواز شریف اور شہباز شریف نے اس امر پر فخر کا اظہار کیا کہ ہم نے صوبے بھر میں قائم بدمعاشی کے اس نظام کا خاتمہ کیا۔ لوگ بخوبی اس سے واقف ہیں کہ یہ کتنا ظالمانہ نظام تھا۔ مسافر کسی بھی شہر میں اترتا ، چند لوگ اس کے سامان کی تلاشی لینے لگ جاتے۔ بجلی کی استری تک مل جاتی تو اس پر ٹیکس لگ جاتا پھر کہا جاتا کہ شہر سے باہر محصول چونگی پر اس کا ٹیکس کیوں نہیں جمع کروایا۔ اس لئے اب گیارہ گنا جرمانہ ادا کرو۔ کبھی تو مسافر بس کے کسی شہر میں پہنچتے ہی چند لوگ بس کے اندر سوار ہو کر ہی سامان کی تلاشی لینا شروع کر دیتے۔

ان کے سامنے مزاحمت بے کار ہوتی۔ بحث مباحثے کی کوئی گنجائش نہیں تھی کیونکہ بدمعاشی کے سامنے دلیل کام نہیں کرتی۔ اگر کوئی اپنا ٹی وی مرمت کرانے شہر کا رخ کرتا تو اس کا واسطہ پہلے ہی ان بدمعاشوں سے پڑتا۔ ان کی نظریں عقاب کی مانند تیز ھوتیں۔ وہ سارے شہر میں پھیلے ھوئے ھوتے۔ ان کے ٹیکس کی شرح اپنی مرضی کی ہوتی۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ٹیکس کی شرح کہیں دور بلدیاتی اداروں کے دفاتر میں دبی ہوتی جہاں تک عام آدمی کی رسائی مشکل سے ھوتی۔ بلدیاتی اداروں کے اہلکار بدمعاش ٹھیکیداروں کے ہاتھ میں کھلونا بنے ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسا غنڈہ ٹیکس تھا جس کو سب مل بانٹ کر کھاتے تھے۔ خود ہم نے ایک مرتبہ خراب ٹی وی لے جاتے ہوئے مبلغ پانچ روپے محصول ادا کیا تھا۔ چیز نئی ہو یا استعمال شدہ ،۔ اس پر ٹیکس ادا کرنا لازمی تھا۔ کہا جاتا ھے کہ اس دور میں پنجاب حکومت کو محصول چونگی اور ضلع ٹیکس کی مد میں صرف 20 ارب روپے ملتے تھے جبکہ ٹھیکیدار 80 ارب روپے کماتے تھے۔ یہ لوٹ مار ساٹھ سال تک جاری رہی۔

پھر میاں نواز شریف کا دور آیا جب اخبارات میں اعلان ہوا کہ نئے مالی سال یعنی یکم جولائی 1999 سے محصول چونگی اور ضلع ٹیکس کا ظالمانہ نظام ختم کیا جا رہا ہے۔ عوام میں سکون کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اب وہ بلا خوف و خطر اپنی فیملی کے ساتھ سفر کر سکتے تھے۔ البتہ بدمعاشوں اور بد دیانت بلدیاتی ملازمین کو اپنی کمائی کے دیگر زرائع تلاش کرنا پڑے تھے۔

جلاوطنی سے واپس آنے کے بعد ن لیگ نے اپنی خدمات یاد دلاتے ہوئے جہاں ایٹمی دھماکوں کا زکر کیا وہاں محصول چونگی کے ظالمانہ نظام کے خاتمے کو اپنا ایک قابل فخر اور یادگار کارنامہ بتایا۔ یکم دسمبر 2012 کو مسلم لیگ کی منشور کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے میاں محمد نوازشریف کا کہنا تھا کہ ساٹھ سالہ پرانے محصول چونگی کے نام پر بھتہ خوری کا خاتمہ مسلم لیگ ن کے دورمیں ہوا۔ میاں نواز شریف نے ہی 2013 میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محصول چونگی اور ضلع ٹیکس جیسا جگا ٹیکس ہم نے ختم کیا۔

مزید حیرت ھے کہ حمزہ شہباز شریف نے آج ہی ایک بیان میں فرمایا کہ ضلع ٹیکس اور محصول چونگی جیسے ظالمانہ ٹیکسوں کا خاتمہ نوازشریف کے ہاتھوں ہوا۔

تو حیرت ھے کہ جس ٹیکس کو شریف فیملی خود ہمیشہ سے ایک ظالمانہ نظام قرار دیتی آئی ہے وہ کیسے اس ظالمانہ نظام کو دوبارہ سے فعال کرنا چاھتی ھے ؟ کیا اس نظام کی دوبارہ بحالی کے پیچھے پھر سے وہی غنڈۃ مافیا ہے جو صوبےبھر میں ایک بار پھر سے بدمعاشی اور لوٹ مار کا نظام کا قائم کرنے کا خواہاں ہے ؟ کیا ایک بار پھر سے صوبے بھر کے شہریوں کوایک شہر سے دوسرے شہر میں داخل ہوتے وقت اس طرح تلاشی دینا ھو گی جیسے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہوئے تلاشی دینا پڑتی ہے؟

یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ن لیگ میں چند ایک اہم اور طاقتور عناصر چونگی نظام کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں کچھ سابقہ ٹھیکیدار بھی ھو سکتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تاجر رہنماؤں نے پنجاب میں محصول چونگی اور ضلع ٹیکس بحال کئے جانے کی اطلاعات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ہی اپنے گزشتہ دور میں صوبہ بھر سے محصول چونگی اور ضلع ٹیکس کو ختم کیا جس سے تاجروں اور عوام نے سکھ کا سانس لیا تھا کیونکہ ان ٹیکسوں کے خاتمے سے کرپشن ، بلیک میلنگ ، ٹیکس درٹیکس اور آئے دن کے جھگڑوں سے انہیں نجات ملی تھی جس کے بعد حکومت نے چونگی محصول اور ضلع ٹیکس کی جگہ سیلز ٹیکس کا نظام رائج کیا تھا اور اب سیلز ٹیکس کی موجودگی میں کسی بھی قدیم ٹیکس کی بحالی یا جدید ٹیکس کا نفاذ سخت غیر منصفانہ ، خلافِ ضابطہ اور دہرے ٹیکس سسٹم کے مترادف ہو گا جسکا ناروا بوجھ پہلے سے زیر بار عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ بیان میں کہا گہا ہے کہ محصول چونگی کے دوبارہ نفاذ سے خود ساختہ مہنگائی کا وہ طوفان برپا ہو گا جس سے نبرد آ زما ہونا بہت مشکل ہو جائے گا۔

ن لیگ کی حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے ابھی تک خوش قسمت رہی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں انتہائی زیادہ کم ھونے کی وجہ سے انہیں جان لیوا لوڈ شیڈنگ میں کمی کرنے کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پنجاب کی حد تک کوئی فعال اپوزیشن نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے من مانے فیصلے کرنے میں کامیاب رہی۔ لیکن محصول چونگی کی بحالی ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے صوبہ پنجاب کے کروڑوں عوام ایک بار پھر سے بدمعاشوں کے نرغے میں گھر جایئں گے اور اس بار ان کی بدمعاشی کو حکومت کی پشت پناہی بھی مل رہی ہو گی۔ لہٰذا خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کو ایک بار پھر سوچنا چاھئے کہ وہ جس ٹیکس کو ہمیشہ ایک ظالمانہ اور بھتہ خوری ٹیکس کہتے رھے اسی کی بحالی کے حکم نامے پر کیسے دستخط کر سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments