ایک بکھرے ہوئے تیسرے خط کی روداد


 \"Tasneef\"رامش فاطمہ، ہم جب چھوٹے تھے تو وظیفے وظائف بہت پڑھا کرتے تھے۔ ناموں کے اعداد نکالا کرتے۔ ابجد، ہوز، حطی، کلمن یہی سب کرتے رہنا ہمارا کام بن گیا تھا۔ کہیں سے ایک چھوٹی سی کتاب ہاتھ لگ گئی، جس میں دعائے مسخر القلوب درج تھی۔ اسے بیٹھ کر میں پڑھا کرتا، ایک سانولی سی لڑکی جو مجھے پسند تھی، اس پر پڑھ کر پھونکتا۔ تہجد تو خیر کبھی کبھار سب ہی پڑھ لیتے ہوں گے، میں تو اشراق و چاشت کو بھی فرض سمجھتا تھا، مسجد میں ایک جگہ مقرر کررکھی تھی، جمعہ کے دن نہادھوکر ، عطر لگا کر وہاں جا بیٹھتا اور امام صاحب کی پہلی کھنکھار کےساتھ، ان کے مخصوص لحن میں سلام و درود  پڑھ کرہی اٹھتا۔ یہ معمول ایک دو روز نہیں رہا، کئی برس ایسا ہی چلتا رہا۔ بڑی راتوں کو مسجد کے باہر بانٹے جانے والے پرچے لایا کرتا،جن پر طرح طرح کی نمازوں اور ان کی فضیلتیں لکھی ہوا کرتی تھیں۔جنت میں مختلف قسم کے پلاٹ بک کرانے میں الغرض ایسی راتیں کٹ جاتیں۔حوروں کا اس زمانے میں ایسا خیال نہیں آتا تھا، میلاد کی محفلیں بھی جما کرتی تھیں اور میں دوسروں کے گھر جاکر اکثر فاتحہ بھی پڑھا کرتا تھا، چال کے اس ننھے مولوی کو مگر روک کر کبھی کسی نے نہیں سمجھایا کہ یہ سب کیوں کررہے ہو، بلکہ لوگ الٹا خوش ہوتے، مبارکبادیں دیتے۔

میرے تم کو یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ سوچ پر بریک لگانے والے روٹین کو کس طرح معاشرہ ہوا دیتا ہے، اوشو کی بات یاد آتی ہے کہ پراچین دور سے لے کر ماڈرن سوسائٹی تک عورت کا جتنا استحصال مذہب نے کیا ہے اور کسی نے نہیں، لیکن عورت کو دیکھو تو تھالی ہاتھ میں تھام کر مندر کے دوارے بڑی سی قطار میں اپنی باری آنے کا انتظار کرتی رہے گی۔تم نے ایک چھوٹی سی بات جب نقاب کے تعلق سے اپنے پچھلے خط میں لکھی تو میری وال پر ایک نظم گو شاعرہ کو غصہ آیا۔غصہ کیوں آیا، وہ بھی سنو! ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ہم اپنی آزادانہ روش کے قائل ہیں، اسی طرح کسی کو پردہ کرنے دیں۔ میں نے اپنے پچھلے خط میں یہی بات کہی تھی، اور شاید ایسا ہو بھی تو کوئی پریشانی نہیں۔کوئی پردہ کرتا  ہے، پردہ کرے، نہیں کرتا نہ کرے، یہ تو مسئلہ ہی نہیں ہے۔ مسئلہ تو اس پردے کا سہارا لے کر اسے ان پڑھ رکھنا، اسے ایک زندہ اور صحت مند معاشرے میں کیڑے سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کرنا ہے۔میں نے کبھی نہیں کہا کہ روشن خیالی کھلے بالوں کی میراث ہے، اسکارف پہننے والی، برقعہ اوڑھنے والی  عورتیں یا پھر باریش بزرگ اور سخت مذہب پرست قسم کے لوگ بھی روشن خیال ہو سکتے ہیں۔ مگر میرا مسئلہ مذہبی لوگ کم اور عقیدے کی نفسیات زیادہ ہے۔کیونکہ اپنے اندر یہ روشن خیالی پیدا کرنا کوئی عام بات نہیں ہے، معاشرہ ایسا کیوں نہیں ہونے دیتا، وہ بدل کیوں نہیں پاتا، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ مذہب اسے ایسا کرنے کی اجازت اول تو دیتا نہیں اور اگر دیتا ہے تو بحالت مجبوری اور سو شرطوں کے ساتھ۔

اس خط میں دو تین باتوں کے ساتھ اپنا نقطہ نظر تم پر واضح کرنا چاہتا ہوں۔عمل آخر کیا چیز ہے، لوگ کہتے ہیں نمازیں، روزہ وغیرہ ایک قسم کے ڈسپلن کو فروغ دینے اور پریکٹسنگ (تزکیہ) کا نام ہیں۔میں کہتا ہوں کہ پریکٹسنگ عمل کی تکرار سے ممکن ہی نہیں ہے۔مثلاً میں بھوکا رہ کر یہ سوچنا شروع کردوں کہ کسی کو بھوک لگتی ہو گی تو وہ بے چارہ کیسا محسوس کرتا ہوگا، یہ بالکل عجیب سی بات ہے۔آپ سوسائٹی میں رہتے ہیں، حکومت کے تئیں، سماج کے تئیں، لوگوں کے تئیں آپ کی کچھ ذمہ داریاں ہیں، اس ذمہ داری کے احساس کے لیے میں آپ پر نت نئے اعمالوں کے مزید فرائض منڈھ دوں یہ تو بہت عجیب سی بات ہے۔عمل کی تکرار یا اس پر اصرار سے معاشرہ تبدیل ہوسکتا تو اسلام کے سب سے بہتر سلسلۂ زکوٰۃ کا اثر ہمیں سوسائٹی میں کیوں نظر نہیں آتا۔اچھا لوگوں کی تاویلیں سنو، دلیلیں سنو تو مزید حیرت ہوتی ہے۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ صاحب! مذہب جس چیز سے انکار کرتا ہے، اگر لوگ اس پر عمل کرتے ہیں تو آپ اس کے لیے مذہب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔تو بھائی جو چیز لوگوں کے لیے ہے، جو اپنا مقصد بہت شفاف طریقے سے لوگوں پر واضح نہیں کرسکی ہے، آپ مانیے نا کہ اس کی تبلیغ و تشہیر کے طریقوں میں کہیں کوتاہی ہیں۔ مذہب نے جو چیز فرض کی ہے، اس سے براہ راست سوسائٹی کو کوئی فائدہ نہیں  پہنچتا، اور جس چیز کی ہدایت کی ہے، اس کو مولوی براہ راست لوگوں تک پہنچنے نہیں دیتا۔ معاشرے میں صرف ایک چیزکام کرتی ہے اور وہ ہے اس میں رہنے والے لوگوں کا طرز حیات اور اس طرز حیات کو عام کرنے میں سیاست اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مذہب تو بس ایک آلے کی طرح کی طرح سیاست کے کام آنے والی شے ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ جن چیزوں کو مذہب نے اپنی ترجیحات میں رکھا ہے، وہ انسانیت کے لیے ضروری نہیں ہیں، انسانیت کے لیے جو باتیں ضروری ہیں، وہ وہاں ضمنی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر تم دیکھو گی کہ جھوٹ نہ بولنا، زنا نہ کرنا، اولاد کی ان کی مرضی کے خلاف شادی نہ کرنا، کسی کا حق نہ دبانا، کسی کو دھوکا نہ دینا یہ اور ان جیسی ساری سماجی اخلاقیات تمام مذاہب میں موجود ہیں، مگر وہ اپنے گہرے نقوش عوام پر نہیں چھوڑ پاتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں فروعی باتوں میں زیادہ الجھایا جاتا ہے۔اس لیے بس پہیے کو گھمانے کی ضرورت ہے، جس چیز کو فرض کیا گیا ہے، اسے اب ہمیں پس پشت ڈال کر ان اخلاقی اصولوں کو آگے کرنا چاہیے، کیونکہ وقت بہت تیزی سے آگے کی جانب بھاگ رہا ہے، اور ہم برات عشقاں بر شاخ آہو کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  پانامہ کا پردہ اٹھ گیا، اب اس سے آگے کیا ہے؟

تمہارے یہاں ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی، میں اس کی حرکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھی اس کی پھانسی کا طرفدار نہیں ہوں، کیونکہ پھانسی ایک سیاسی قتل کے علاوہ دوسری کوئی چیز نہیں ہے۔ جب حکومت میں بیٹھے کچھ خاص لوگوں کو اپنے لیے کوئی راستہ ہموار کرنا ہوتا ہے، وہ کسی نہ کسی کو پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں، یہ آج سے نہیں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔پھانسی کی مخالفت ضروری ہے، بدترین جرم کرنے والوں تک کے لیے، حتیٰ کہ یہ کسی استثنائی حالت میں انتہائی ضروری نہ ہو جائے۔ممتاز قادری جیسے لوگوں کو پھانسی دے کر مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، جب تک معاشرہ تمہارے یہاں موجود حنیف قریشی جیسے ملائوں کی منافقت کا پردہ نہیں چاک کرتا، اپنے مذہبی دبستانوں کی سڑی ہوئی سیاسی چالوں کو بے نقاب نہیں کرتا۔ایک آدمی کے مرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے ، بلکہ اس کی پھانسی عوام میں ایک قسم کا سیاسی و نفسیاتی خلفشار پیدا کرتی ہیں۔ وہ لوگ جنہیں ہم قاتل کہہ رہے ہیں، جب تک انہیں ان کے جرم کی سنگینی کا احساس نہ کرایا جائے تب تک مسئلہ حل نہیں ہوسکتا اور یہ تب ہوگا جب ریاست مذہبی اداروں پر ہر وقت کڑی نگرانی رکھے اور ان کے ذریعے پیدا ہونے والے کسی بھی قسم کے سماجی انتشار پر ان کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی ہمت کرے۔ اگر ریاست ایسا نہ کرتے ہوئے کسی ایک شخص کو پھانسی دے رہی ہے تو وہ بہت سارے لوگوں کو بے وقوف بنا رہی ہے، ٹھگ رہی ہے۔مذہبی پاگل پن دو چیزوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، اول جنون کی حد تک تقدیس کا قائل ہوجانا اور دوسرے ان سماجی اخلاقی اصولوں کو عام نہ ہونے دینا جن کو مذہب بھی ثانوی ہی سہی، لیکن اہمیت ضرور دیتا ہے۔ملا ان سب باتوں کو لوگوں کے سامنے آنے نہیں دینا چاہتا، کیونکہ اس کی ساری روزی روٹی کا سب سے بڑا ذریعہ ہی عوام کی یہ دو کمزوریاں ہیں۔ لوگوں کو سکھانا چاہیے کہ منطقی دلیل کتنی اہم چیز ہے، کسی کو اچھا یا برا کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بات تو دلیل  اور عقل سے کی جاتی ہے اور اس کو فروغ دینے کے لیے علم کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ذوالفقار علی بھٹو : یہ تم نے کس کو سر دار کھو دیا لوگو

تم نے ایک آرٹیکل بھی شیئر کیا تھا اپنی ٹائم لائن پر نیویارک ٹائمز میں جو شائع ہوا ہے۔میں نے بھی وہ آرٹیکل پڑھا، بلکہ صبح آنکھ کھلی تو سب سے پہلے اسے دیکھا،دھندلی آنکھوں سے ہی پڑھ ڈالا۔ مجھے افسوس ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی عورت پر اس قسم کا نفسیاتی دبائو بنایا جاتا ہے کہ اسے سائنس جیسے اعلیٰ مضمون سے اپنی تمام تر ذہانت کے باوجود ہاتھ اٹھانے پڑتے ہیں۔لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عورت اور مرد کے رشتوں کو دو اور دو چار کے معاملوں میں فٹ کرکے دیکھنا تھوڑی زیادتی ہے۔عورت پر مظالم کی ایک لمبی تاریخ ہے، مگر مرد بھی کچھ معاملوں میں مجبور ہے، میں جانتا ہوں کہ بقول تمہارے میں کبھی اس ذہنی تکلیف کا اندازہ نہیں کرسکتا ہوں جو بازار میں چلتے ہوئے کسی اجنبی شخص کی طرف سے ناگوار توجہ دیے جانے پر تمہیں ہوتی ہے، مگر تم بھی تو اس نفسیاتی الجھن کو نہیں سمجھ پائو گی جس کا باعث کسی خوبصورت لڑکی کا حسن لڑکوں کے لیے ہوتا ہے۔منٹو نے چھیڑ چھاڑ پر ایک مضمون لکھا تھا، وہ بہت دلچسپ ہے، ایک دفعہ فیس بک پر ہی فہمیدہ ریاض صاحبہ نے بتایا کہ میلان کنڈیرا کو فیمنسٹ طبقہ اس لیے بھی پسند نہیں کرتا کہ ایک دفعہ انہوں نے کہہ دیا تھا کہ عورتیں چھیڑے جانے پر کیوں برا مانتی ہیں۔لیکن اس چھیڑ،اس ذہنی دبائو کے پیچھے کی کہانی اتنی صاف و شفاف نہیں ہے۔ لڑکا بھی اپنی ذہنی ساخت میں عورت کی ہی طرح بہت عجیب و غریب خواہشات اور الجھنوں کا شکار ہوتا ہے، ہمیں بلاشبہ اپنے لڑکوں کی یہ تربیت کرنے کی ضرورت ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ ان کا سلوک کیسا ہونا چاہیے مگر ہم کسی بھی فطری خواہش کو قابو میں کرنے کی صلاح دے کر کیا واعظ ناداں کا کردار نہیں ادا کریں گے جو اپنے نفس پر قابو رکھنے اور کسی کو اپنے جذباتی خیالات سے آگاہ نہ کرنے کے جبر کو رواج دیتا ہو۔یہ بات سوچنے کی ہے، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم اس پرکیا کہو گی، پھر میں ضرور تفصیل سے اپنے موقف کی جانب آئوں گا۔

(بھائی تصنیف حیدر، حیاتیاتی رجحانات اور جبلت پر پابندی کی بات نہیں کی جا رہی۔ سوال یہ ہے کہ کسی بھی انساں کو، بھلے وہ عورت ہو یا مرد، ایک شے کی حیثیت کیوں دی جائے۔ جنس مخالف میں کشش بہرصورت موجود ہے اور یہ زندگی کی شاید اعلیٰ ترین نعمت ہے۔ لیکن اس میں کسی بھی نوع کی پیش رفت کے لئے فریق مخالف کی رضا بنیادی شرط ہے۔ سڑکوں پر، کام کی جگہوں پر یا کہیں بھی کسی انسان کی مرضی کے بغیر اس سے رغبت کا اشارہ اس انسان کی توہین کے مترادف ہے اور اسے ایک سوچنے سمجھنے والی ہستی کی بجائے محض گوشت پوست کا کھلونا قرار دینے کے مترادف ہے۔ یہ وہی فرق ہے جو Nude  اور   Naked میں ہے۔ ایک میں رفعت پائی جاتی ہے اور دوسرے میں ذلت اور شرمندگی۔ کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ جب آپ تدریسی سرگرمی کے   دوران ممتحن کے سامنے پیش ہوں تو وہ پیشہ ورانہ امور کی بجائے آپ میں صنفی دلچسپی کا اظہار شروع کر دے۔ معاف کیجئے گا یہ تو معاشرے میں جنسی استحصال کا دروازہ کھولنے والی بات ہو جائے گی۔ جواب تو آپ کو مکتوب الیہ ہی سے مطلوب ہے لیکن چونکہ صحافتی تحریر اجتماعی مکالمے کا حصہ ہوتی ہے، اس لئے خاکسار نے بھی اپنی رائے کا اظہار کر دیا۔ دلیل ہی ہے جس کے درست ہونے پر اصرار نہیں۔ مدیر)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔