مہاراج چوپٹ راج کا انصاف اور مجرم کوتوال


اندھیر نگری میں ٹھگی پھیل گئی۔ مہاراج چوپٹ راج نے ستیہ ناتھ کوتوال کو حکم دیا کہ ٹھگوں کو پکڑا جائے۔ کوتوال نے سینکوں کو لے کر شاہراہ پر گشت شروع کیا تو اسے ایک جگہ نمک کے بیوپاری مایا داس مہاجن کی لاش پڑی دکھائی دی، کچھ آگے گیا تو اسے چالباز چند ٹھگ نمک سے لدے ہوئے چار گدھوں سمیت جاتا دکھائی دیا۔ کوتوال کو دیکھ کر چالباز چند ٹھگ کے پسینے چھوٹ گئے۔ ستیہ ناتھ کوتوال نے چالباز چند ٹھگ کو گرفتار کر لیا اور اندھیر نگری کے دربار میں پیش کرنے لایا تاکہ مہاراج چوپٹ راج اس کے ساتھ نیائے کریں۔

ابھی ستیہ ناتھ کوتوال شہر میں داخل ہوا ہی تھا کہ مہارانی شکتی دیوی کی سواری سے سامنا ہوا۔ مہارانی نے کوتوال کے ساتھ چار گدھے اور ان پر بیٹھا ایک پسینے میں بھیگا شخص دیکھا تو سواری روک کر پوچھنے لگیں کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ اس سے پہلے کہ کوتوال کچھ بولتا، چالباز ٹھگ مہارانی شکتی دیوی کے چرنوں میں گرپڑا۔ رو رو کر فریاد کرنے لگا کہ مہارانی ہم آپ کی پرجا ہیں، میرے گدھے گرمی سے مرے جا رہے ہیں، مجھے آگیا دیں کہ انہیں پانی سے نہلا دوں۔ مہارانی نے کوتوال کو حکم دیا کہ چالباز چند ٹھگ کو اس وقت تک گدھے نہلانے کی اجازت دی جائے جب تک وہ مطمئن نہِیں ہو جاتا کہ اس کے گدھے ٹھنڈے ہو گئے ہیں اور اپنے راستے پر چل پڑیں۔

کوتوال نے مہارانی شکتی دیوی کے فرمان کی تعمیل کی۔ چالباز چند ٹھگ نے کیول چار گھنٹے گدھوں کو پانی میں نہلایا۔ اس کے بعد مہاراج چوپٹ راج کے دربار کی طرف سفر دوبارہ شروع ہوا۔

مہاراج چوپٹ راج کے سامنے کوتوال ستیہ ناتھ نے مقدمہ پیش کیا کہ چالباز چند ٹھگ نے مایا داس مہاجن کی جیو ہتیا کر کے اس کے مال پر قبضہ کر لیا ہے۔ چالباز چند ٹھگ نے دہائی دی کہ اس کا ثبوت کیا ہے کہ اس نے مایا داس مہاجن کا مال لوٹا ہے؟ مایا داس مہاجن کا مال کہاں ہے؟

مہاراج نے بھی یہی پوچھا۔ ستیہ ناتھ کوتوال نے کہا کہ مہارانی شکتی دیوی کے حکم پر گدھوں کو نہلایا گیا تھا۔ ثبوت کا سارا مال پانی میں گھل گیا۔

اب مہاراج چوپٹ راج پریشان ہو گئے۔ وہ پرجا پتی تو تھے مگر وہ ایک پتی بھی تھے اور مہارانی شکتی دیوی سے کچھ پوچھنے کی خود میں ہمت نہ پاتے تھے۔ لیکن نیائے تو کرنا ہی تھا۔ مایا داس مہاجن کی لاش سامنے پڑی تھی۔ جیو ہتیا تو ہوئی تھی۔ کسی منش کو تو اس جیو ہتیا کی سزا دی جانی تھی۔

اندھیر نگری کے مہاراج چوپٹ راج نے چالباز چند ٹھگ کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا اور ستیہ ناتھ کوتوال کو پانی بہانے پر عمر قید کی سزا سنا دی۔ اندھیر نگری میں نیائے ہو گیا۔

نوٹ: اندھیر نگری کی دیگر کہانیوں کی طرح یہ بھی ایک من گھڑت قصہ ہے اور کسی چیز، شخص، جگہ یا واقعے سے اس کی مشابہت کو محض اتفاقیہ سمجھا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 987 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar