بیر بہوٹی؛ بھائی کی دلھن کیسی؟


بیر بہوٹی کا انگریزی نام Red Velvet Mite (عربی) کاغنہ (فارسی) کرم عروسک (سندھی) مینھن وساوڑو

پہچان:۔ ایک مشہور کیڑا ہے۔ برسات میں خاص کر ساون بھادوں میں پیدا ہوتا ہے۔

رنگ:۔ نہایت سرخ

بیر بہوٹی شاید کیڑوں میں سب سے زیادہ خوب صورت کیڑا ہے۔ یہ مکڑی کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ بیر بہوٹی کا مطلب ہوا ”بھائی کی دلھن“۔ شاید اس کو یہ نام اس کے دلھن کے سرخ لباس جیسے رنگ کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

اپنے چمک دار سرخ رنگ اور مخملی جلد کی وجہ سے ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا سایز پانچ سے چھہ ملی میٹر تک ہوتا ہے۔ آٹھ ٹانگیں اور مکڑی جیسا منہ۔ اصل میں ان کا گہرا سرخ رنگ ان کے شکاریوں کے لیے وارننگ ہوتا ہے کہ یہ زہریلے ہیں لہٰذا ان سے دور رہا جائے۔

بیر بہوٹیاں مٹی میں رہتی ہیں اور سال کا اکثر حصہ زیر زمین ہی میں گزارتی ہیں۔ موسم گرما کی بارش کے بعد یہ سیکڑوں ہزاروں کی تعداد میں باہر نکل آتی ہیں۔ ان کی خوراک میں دیمک، چھوٹی مکڑیاں اور پھپوندی وغیرہ شامل ہیں۔

بیر بہوٹی کے جنسی ملاپ کا طریقہ بھی انتہائی دل چسپ ہے۔ سب سے پہلے نر بیر بہوٹی اپنے اسپرم کو کسی گھاس کے تنکے یا پتے وغیرہ پر خارج کرتا ہے اور ان اسپرموں کے گرد ایک ریشمی دھاگے جیسا تار لپیٹتا جاتا ہے۔ مادہ بیر بہوٹی ان دھاگے جیسے تاروں کی مدد سے نر کا سراغ لگاتی ہے۔ اگر دونوں میں باہمی کشش ہو اور مادہ بھی آمادہ ہو تو یہ دونوں نر کے اسپرم اٹھا لیتے ہیں اور پھر مادہ مٹی میں اپنے انڈے دیتی ہے۔ اگر کوئی اور نر بیر بہوٹی کو کسی دوسرے نر بیر بہوٹی کے دھاگے اور اسپرم نظر آتے ہیں، تو وہ ان کو تباہ کر کے ان کی جگہ اپنے اسپرم خارج کر دیتا ہے۔ مکمل بیر بہوٹی بننے تک اس کیڑے کے مختلف مراحل ہیں۔ جیسے کہ انڈا، لاروا وغیرہ۔

بیر بہوٹیاں ماحول دوست اور انسان کے لیے مفید ہیں۔ یہ مٹی میں موجود نقصان دہ کیڑوں کو کھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اقسام کی بیکٹیریا وغیرہ بھی کھا جاتی ہیں جو کہ پودوں اور فصلوں کے لیے مضر ہوتی ہیں۔

ان کا طبی استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی و یونانی ادویات میں اس کو مختلف جڑی بوٹیوں کے ساتھ استعمال کر کے تیل بنایا جاتا ہے، جو فالج کے مریضوں کے لیے مفید ہوتا ہے۔ اس کا تیل نامردی اور مردانہ جنسی صلاحیت بڑھانے کے لیے بطور طلا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لیے جب یہ برسات کے بعد باہر نکلتی ہیں، تو اکثر لوگ ان کر جمع کرنے نکل پڑتے ہیں، کیوں کہ حکیم اور وید حضرات ان کو اچھی قیمت پر خرید لیتے ہیں۔ جدید تحقیق نے بھی اس کے تیل کو خاصا مفید قرار دیا ہے۔ آج کل بھی چین اور بھارت اس کو بڑی مقدار میں فروخت کرتے ہیں۔

اب یہ خال خال ہی نظر آتی ہے۔ میں نے اپنے بچپن میں انھیں کورنگی ایک نمبر جہاں میرے چچا رہتے تھے کے مکان کے سامنے ایک میدان میں دیکھا تھا جہاں یہ اگست کے مہینے میں بارش کے بعد نکل آئی تھیں۔ اس کو پکڑا جائے تو یہ اپنی ٹانگیں سکیڑ کر سمٹ جاتی ہے۔ بے تحاشہ جراثیم کش ادویات اور زہریلی دواوں کے چھڑکاو اور آلودہ بارش کی وجہ سے شاید یہ نازک طبع دلہن اب ناراض ہو گئی ہے، اور شہری علاقوں میں تو قطعی نظر نہیں آتی، البتہ گاؤں دیہات میں اب بھی نظر آ جاتی ہے۔

امریکہ میں اب بھی یہ بارش کے بعد نظر آتی ہیں، خاص طور پر ٹیکساس میں بہت ہیں۔ ہر وہ جگہ جہاں ماحول کی آلودگی نہیں بڑھی ہے اور حضرت انسان كی ریشہ دوانیاں حد سے زیادہ نہیں بڑھی ہیں، وہاں ابھی یہ مخلوق عنقا نہیں ہوئی ہے۔

بیر بہوٹی کا تیل

بہوٹی oil

Zaitoon Olive Oil 80 gram زیتون کا تیل

Aqaraqarah Pellitory 5 gram عقر قرحا

Jonk Speckled Leech 5 gram جونک خشک

Kechuah Earthworm 5 gram کیچوا خشک

Red Velvet Mite بیر بہوٹی gram5 بیر بہوٹی

سب سےپہلے روغن زیتون کو چولھے پر رکھیں اس میں باقی تمام اشیاء کو ڈال کر آگ جلا دیں اور جب تمام اشیاء جل جائیں تو چولھے سے اتار لیں اور ٹھنڈا ہونے پر چھان کر شیشی میں سنبھال لیں۔ استعمال کا طریقہ کسی حکیم سے پوچھ لیں۔

(بشکریہ: عقیل عباس جعفری)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ثنااللہ خان احسن کی دیگر تحریریں
ثنااللہ خان احسن کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں