مصطفی کمال۔۔۔ دلِ ہنگامہ جُو، کدھر چلئے؟


 farnoodمصطفی کمال آنسووں کی مناسب مقدار کے ساتھ منظر میں ہیں۔ کچھ تودم سادھے منتظر ہیں کہ غالب کے پرزے اڑنے کو ہیں اور کچھ دیکھ رہے ہیں کہ قتیل شفائی اب کی بار بھی اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جائیں گے۔ ایک آفاق احمد ہوا کرتے تھے۔ نوے کی دہائی میں بھی الطاف حسین کے خلاف ایک گواہ سے زیادہ کچھ نہ تھے، آج بھی گواہ سے زیادہ کچھ نہیں۔ بیس برسوں میں وہ دو ہی کامیابیاں حاصل کرسکے۔ لانڈھی میں رہا کرتے تھے، اب ڈیفنس میں مکان کئے ہوئے ہیں۔ حسین آباد سے ظہور راجہ جانی پان کریم لگوا کر چبایا کرتے تھے اب بہادر آباد کا مکس پتی پان قِوام لگوا کر کھاتے ہیں۔ اب مصطفی کمال ہیں۔ اتنی سی بات ہے کہ کل وہ ’’پاگل کے بچے‘‘ دل سے بولا کرتے تھے، اب منہ سے بولا کریں گے۔ انیس قائم خانی کی تو خیر خاموشیاں بولتی ہیں. برا ہو عامر خان کا کہ شام ہوتے ہی گھر کو لوٹ گئے۔ آج ہوتے تو الطاف حسین کے خلاف چار مستند گواہوں کا شرعی تقاضا ہی پورا ہوجاتا۔ مگر بھلا ہو ڈاکٹر صغیر احمد کا کہ بے خوابی کی منہ زور وبا کے خلاف کسی طبی مزاحمت کی بجائے انہوں نے ضمیر کو جاگنے دیا. یوں میر تقی میر کے کلئیے کے مطابق ساڑھے تین گواہ تو خیر سے پورے ہوگئے ہیں. جس رفتار سے ضمیر کو جاگنے کی تحریک ہو رہی ہے، جلد چار گواہ بھی پورے ہوجائیں گے، مگر حاصل وصول کا سوال پھر بھی رہ جائے گا. الطاف حسین را کا ایجنٹ ہے۔ کراچی کے حصے بخرے کردینا چاہتا ہے۔ جناح پور کے نقشے بغل میں دبائے پھرتا ہے۔ بھتے لیتا ہے۔ زمینیں دباتا ہے۔ سیف اللہ بنگش کے اڈے میں بکنے والی شراب ایک گھونٹ میں ڈکار جاتا ہے۔ سنکی ہوگیا ہے۔ نشے میں دھت رہتا ہے۔ مہاجر نعرہ بیچ کھایا ہے۔ یہ ساری غزلیں، اس طرح کی کئی دوسری غزلیں آج کی تخلیق نہیں ہیں۔ ان سارے مصرعوں کی قافیہ بندی اس دن شروع ہوگئی تھی جس دن الطاف حسین نے مہاجروں کی صف بندی شروع کردی تھی۔ گھمسان کا رن تب پڑا جب چالیس سے زائد لونڈے لپاڑے پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی میں وڈیرے کے برابر والی نشستوں پہ بیٹھ گئے۔ وڈیرے نے کب سوچا تھا کہ جنہیں میں بھوکا ننگا کہتا ہوں وہ ایک دن میرے سینے پہ مونگ دلنے چلے آئیں گے۔ اول اول تو بات آپ جناب میں ہی رہی، محرومی کا احساس جوں کا توں رہا تو ابے تبے کا مرحلہ آ گیا، کچھ نہ بن پڑا تو الطاف حسین اور نصیر اللہ خان بابر جیسے متعدد ریاستی و غیرریاستی کردار پنجے جھاڑ کر دو بدو ہوگئے۔ پھر جو ہوا وہ ایک مستقل تاریخ ہے، مگر پنجاب کا دانشور اس باب میں آج بھی میر بنا ہوا ہے۔ کوئی قیامت آئی تھی اتنا تو انہوں نے بھی دیکھا، اس کے بعد کا پوچھئے تو کہتے ہیں پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

کراچی کی تاریخ اسی اسلوب میں بیان کی جاتی ہے جس اسلوب میں ہمیں معاشرتی علوم پڑھائی گئی ہے۔ اوپر تلے حادثات سے دو چیزیں بنیادی طور پہ برآمد ہوئیں۔ ایک مہاجر کی شناخت اور دوسرا تشدد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ تشدد کی راہ اختیار کرکے الطاف حسین نے اپنا مقدمہ کمزور کردیا۔ اس کی قیمت کراچی نے جو چکائی، سو چکائی، خود الطاف حسین اس کی قیمت اندرونِ خانہ آج بھی چکا رہے ہیں۔ طارق چیمبر فاروق دادا نعیم شری فہیم کمانڈو صولت مرزا اور اجمل پہاڑی انہی خونریز معرکوں میں پیدا ہونے والے نام تھے۔ الطاف حسین کا احساس تھا کہ ایک دن گرد بیٹھے گی اور ہم فتح یاب ٹھہریں گے۔ یہی ضیاالحق نے بھی سوچا تھا، مگر افغان جہاد کی قیمت ہم آج تک ادا کررہے ہیں، جانے کب تک ادا کریں گے۔ یہی الطاف حسین نے بھی سوچا تھا، مگر گرد بیٹھتے ہی طارق چیمبر جیسے کردار ان کے گلے پڑ گئے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ گزرا ہوا وقت اور دیا ہوا اسلحہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ جب لڑکوں سے کہا گیا کہ اسلحہ رکھ کر یونٹ کے تابع ہوجاؤ، تو وقت کے ہاتھوں چی گویرا بن جانے والے کارکنوں کو یہ ناگوار گزرا۔ وہ احکامات جاری کرنے اور نتائج وصولنے کے عادی ہوچکے تھے۔ یوں الطاف حسین کے لئے ایک اور محاذ کھل گیا، جہاں تشدد کی سوچ نے انڈے بچے دینا شروع کر دیئے۔ نوبت بایں جا رسید کہ الطاف حسین کی بقیہ عمرترازو میں زخمی مینڈک تولتے ہوئے گزر گئی۔ اس سب کچھ کے باوجود اردو بولنے والے شعوری اور غیرشعوری طور پر الطاف حسین کو اس طور اپنا محسن مانتے ہیں کہ شناخت تو بہرحال انہوں نے ہی دلوائی۔ یہ بات نئی پود کو بھی وہ ازبر کروا دیتے ہیں کہ مہاجر قوم کو اپنا حق لینے کی ہمت الطاف حسین کی للکار نے دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو بولنے والے غیر سیاسی لوگ آپ کو ایم کیو ایم کی پالیسیوں پہ کھل کر تنقید کرتے نظر آئیں گے، مگر انتخاب کا طبل بجے گا تو ووٹ الطاف حسین ہی کو دیں گے۔ یہ دراصل احترام کا ووٹ ہے، جو وہ دیتے ہیں اور شاید دیتے رہیں گے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک اگر کوئی جماعت توڑ سکتی تھی تو پاکستان تحریک انصاف تھی۔ تحریک انصاف ابھی کراچی کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایم کیو ایم کے ہمدردوں کی ہمدردیاں پی ٹی آئی کی طرف جھکنے لگ گئی تھیں۔ معرکہ شروع ہوا تو پی ٹی آئی کو ملنے والے آدھے ھمدرد کچھ خیال آنے پر الٹے قدموں واپس ہوگئے۔ پی ٹی آئی کو کامیابی نہ مل سکی، مگر جس مقدار میں ووٹ اٹھائے وہ نائن زیرو کے چودہ طبق روشن کرنے کیلئے کافی تھے۔ پی ٹی آئی نے اپنی ناکامی کو دھاندلی سے تعبیر کیا۔ مان لیتے ہیں، ہوئی ہوگی دھاندلی۔ ماننا اس لیئے بھی پڑے گا کہ اب مصطفی کمال بھی گواہی دے رہے ہیں۔ لیکن مت بھولیئے کہ ایک معرکہ ضمنی انتخابات کا بھی بپا ہوا تھا، اور ہوا بھی ایم کیوایم کے صدر مقام عزیز آباد میں تھا۔ ضمنی انتخابات سے کچھ ہی روز قبل نائن زیرو پر چھاپہ پڑا تھا۔ جرمن نازیوں سے بچ رہنے والا اسلحہ نائن زیرو سے برآمد کر لیا گیا تھا۔ الزامات کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست میڈیا ہاوسز میں لٹکی ہوئی تھی۔ ہر چھ گھنٹے بعد ایم کیو ایم کے گرفتار کارکنوں کی جے آئی ٹی ویڈیوز لیک ہورہی تھیں۔ سماجی ذرائع ابلاغ کی ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد توپوں کا رخ نائن زیرو کی طرف تھا۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی، کیمرے اور قلم، منبراور محراب، فیس بک اور ٹویٹر، تبصرہ نگار و تجزیہ کار سبھی منہ میں آگ لئے الطاف حسین کو ڈھونڈ رہے تھے۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی شانہ بشانہ تھے۔ حالات اس قدر خوشگوار کہ عمران خان جناح گراؤنڈ میں مع اہل وعیال جلسہ کر کے لوٹے۔ ایم کیو ایم کے رہنما کچھ کہنے کے قابل نہیں رہ گئے تھے۔ صبح وہ الزامات دھوتے تھے شام الطاف بھائی کی کسی پھلجھڑی کی رفو گری کررہے ہوتے تھے۔ انتخابات کے روز قطار میں ہر تیسرے فرد کے بعد ایک رینجر اہلکار موجود تھا۔ بیلٹ بکس پر تین اطراف سے کیمرے نصب تھے، اور دو اطراف سے رینجرز اہلکار ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم تعینات تھے۔ شام ڈھلتے ہی خبر یہ ملی کہ ایم کیو ایم نے معرکہ سر کرلیا۔ یہ کیا؟ یہ کیسے؟ یہ سوچنے کا وقت تھا کہ تمام برائیوں کے باوجود الطاف حسین کو ووٹ کیوں دیا گیا؟ یہ سب سوچنے کے بجائے یہ کہا گیا کہ عوام کو اندرون خانہ ڈرا دھمکا کرپولنگ اسٹیشن بھیجا گیا۔ تو چلئے ہم ضمنی انتخابات کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کی بات کر لیتے ہیں۔ کیا تب بھی کراچی کے لوگوں کا خوف ختم کرنے کے لئے وقت کم پڑ گیا تھا۔ ایم کیو ایم کے لئے حالات وہی تھے۔ سر اٹھا کر وہ انتخابی مہم نہیں چلا سکی۔ کراچی کی پوری سیاسی قیادت ایم کیو ایم کے خلاف صف آرا تھی۔ مگر نتیجہ؟ وہی ڈھاک کے تین پات ۔ اب سوچ لیتے، مگر کیوں سوچیں؟ جو دانشور اب طیش میں ہیں، آج بھی انہیں یہ سوچنے کا موقع میسر ہے کہ عام انتخابات میں ایم کیو ایم کے آدھے ہمدرد جو پی ٹی آئی میں رہ گئے تھے، وہ ضمنی انتخابات میں جوتوں سمیت واپس کیوں ہوگئے تھے؟ پی ٹی آئی اور اس کے سازندے بلدیاتی انتخابات میں مکمل طور پہ محروم ولاچار کیوں ہوگئے تھے؟ آخر کیوں؟ کیونکہ آپ نےالطاف حسین کو گالی دے دی تھی۔ آپ کو لگا کہ اردو بولنے والا خوف کے حصار میں ہے، ہم گالی دیں گے یہ حصارِ ستم گر جائے گا، افتادگان خاک دوڑے چلے آئیں گے اور کراچی ’آزاد‘ ہوجائے گا۔ جنہیں پتہ کدو کا نہ ہو، اور بات کراچی پہ کریں، تو نتائج وہی برآمد ہوتے ہیں جو حال میں ہوچکے۔ سچ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کا ہمدرد ایم کیو ایم کی پالیسیوں سے تنگ آکر کسی دوسرے آپشن کا آزمانے کی ہمت تو کرسکتا ہے، مگر جب آپ الطاف حسین کو گالی دیں گے، تو اس کی ہمت جواب دے جائے گی۔ کیا اس کے پیچھے بندوق ہے؟ اس کے پیچھے الطاف حسین کا ایک احترام ہے، جو غیر مشروط طور پہ اردو بولنے والے دل میں کنڈلی مار کے بیٹھا ہے۔ کراچی کے حوالے سے اسی تناظر میں کچھ کہیئے، تو بات بنے۔ ورنہ کہتے ہی رہیئے، ایک یہی کام تو آسان ہے جہانِ تگ وتاز میں۔

ذوالفقار مرزا قرآن سر پہ اٹھائے تھک گئے، تو اب مصطفی کمال کے آنسو حاضر ہیں۔ وہی الزامات ہیں، مگر سنتے کانوں کی تسکین کا سامان اس بار زیادہ ہے، کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھا رہا ہے۔ پھر شخصیت کے سحر کے علاوہ ان کے کھاتے میں کراچی کی تزئین وآرائش بھی ہے۔ مشکل مگر یہ ہے کہ کراچی کی اکثریت اس تزئین وآرائش کا سہرا الطاف حسین کے سر بھی اس سے کم نہیں باندھتی جتنا کہ مصطفی کمال کے سر باندھتی ہے۔ شخصیت پرستی ہمارے ہاں کی ایک دوسری مشکل ہے۔ مسلم لیگ سے جنم لیتی لیگیں اتنی ہیں کہ حروف تہجی کم پڑجائیں، مگر کہاں ہیں؟ پیپلز پارٹی سے ٹوٹ کر کتنے دھڑے الگ ہوئے، مگر کہاں گئے؟ جمعیت علمائے اسلام سین کے مولانا سمیع الحق میں سوائے شملے کے، کس چیز کی کمی ہے؟ سالانہ ایک ہزار شاگردوں کی وہ دستار بندی کرتے ہیں، مگر اگلے ہی روز وہ شاگرد کتھائی رنگ کی نیم شملہ دستار اتار کر مولانا فضل الرحمن کی ملتانی رومال والی دستار لپیٹ لیتے ہیں. بلوچستان میں ایک جے یو آئی نظریاتی پیدا ہوئی تھی؟ دوشامیں گھر سے باہر رہ لی، آخر کو لوٹ آئی۔ خود ایم کیو ایم سے آفاق احمد کی سرکردگی میں جو متاثر کن رہنما الگ ہوئے تھے، اکثر ان میں سے لوٹ آئے، جو رہ گئے وہ مین پوری سپلائی کر رہے ہیں۔ ایسے میں تیرا ہوگیا کالیا؟ خاکی پوش پیرِ تسمہ پا کے دماغ کو اکیس توپوں کی سلامی کہ وہ ’مائنس الطاف‘ فارمولے پہ مسلسل خرچ ہوئے جا رہا ہے۔ چلیں سوچ لیں، مگر کیا گالی دیئے بغیر بات مکمل نہیں ہو سکتی؟ آپ ایم کیو ایم کے کارکن کو الطاف حسین کے متعلق ایسا کیا نیا بتا رہے ہیں جو آپ کے خیال میں وہ نہیں جانتا؟ یہ ممکن ہے کہ الطاف حسین کے بعد ایم کیو ایم چھتیس دھڑوں میں بنٹ جائے، مگر ہر دھڑے کا سلطان اپنے تخت کے پیچھے تصویر الطاف حسین کی ہی لگائے گا۔ جو نہیں لگائے گا، اس کی بارگاہ عین ممکن ہے کہ ایک دن اسٹیٹ ایجنسی کا دفتر بن جائے۔ دوبئی کی کنسٹرکشن کمپنی میں ملازمت نسبتا بہتر آپشن تھا، مگر مصطفی کمال نے ’کرانچی‘ کی کسی تاریک گلی میں ڈیڑھ انچ کی دکان کا انتخاب کیا ہے تو ہمیں کیا اعتراض ۔ یعنی کراچی بھی انگور کی بیٹی ہے، چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی۔ یا پھر انگور کا گچھا ہے، کیکر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا…


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “مصطفی کمال۔۔۔ دلِ ہنگامہ جُو، کدھر چلئے؟

  • 08-03-2016 at 12:45 am
    Permalink

    ہائے ہائے ہائے۔ لفظ لفظ متفق پیارے فرنود عالم۔ میرے شہزادے فرنود، میرے جون ایلیا کے دلارے فرنود، بہ خدا کیا کشتوں کے پشتے لگائے ہیں، دے مار ساڑھے چار! زندہ باد بابا!

    • 08-03-2016 at 11:25 am
      Permalink

      Farnood Sb
      Ap ney tu aaj Karachi ke siyasi samandar ko kozey main band kar dia.

  • 08-03-2016 at 10:55 am
    Permalink

    مزہ آگیا پڑھ کر ـ اب بھی تشنگی ہے مگر ظاہر ہےحد قلم آڑے آگیا ہوگا ـ خاکیوں کو پاپیوں کی سمجھ

Comments are closed.