روہنگیا مسلمانوں کے 2600 مکانات نذر آتش: ہزاروں بے گھر


میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے اکثریتی علاقے میں 2600 سے زیادہ مکانات کو جلا دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ کاروائی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے پر تشدد واقعات کے چند بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی امداد کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق اب تک تقریباً ساٹھ ہزار روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش جا چکے ہیں اور امدادی کارکنان کو صورتحال سنبھالنے میں دقت پیش آرہی ہے۔

میانمار حکام نے ‘آراکان روہنگیا سیلویشن آرمی’ پر اس واقعے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ اسی گروپ نے گذشتہ ہفتے میانمار کے سکیورٹی حکام پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ لیکن جان بچا کر بنگلہ دیش بھاگنے والے روہنگیا مسلمانوں نے کہا کہ ان کے گھروں کو جلانے اور قتل و غارت کے واقعات کے پیچھے میانمار کی فوج کا ہاتھ ہے جو ان کو میانمار میں رہنے نہیں دینا چاہتی۔ روہنگیا مسلمانوں اور میانمار کی فوج کی جھڑپوں میں اب تک 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آگ میانمار کی فوج نے لگائی ہے۔ گذشتہ اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔

امدادی کارکنوں کے مطابق نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں انھیں پناہ اور خوراک مہیا کی جا رہی ہے جبکہ کیمپ میں آنے والے تقریباً ایک درجن کے قریب پناہ گزین گولیوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ہزاروں کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد عبور کرنے کے منتظر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تعداد شدت پسندوں کی بتائی جا رہی ہے۔ رخائن ریاست سے مصدقہ اطلاعات حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ صرف چند ایک صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں شہریت کا حق نہیں دیا جاتا۔ صدیوں سے وہاں رہائش پذیر ہونےکے باوجود انھیں غیر قانونی شہری تصور کیا جاتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5381 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp