وسعت اللہ خان صاحب کے جواب میں (1)


اپنے وسعت اللہ خان صاحب نے ایک کالم میں ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے ہاں اپنے قدیمی جواہر پاروں کی قدر نہیں۔ یہ کالم یہاں پڑھا جا سکتا ہے

میراث مسلسل توجہ اور پیار مانگتی ہے

http://www.humsub.com.pk/71186/wusatullah-khan-138/

بات تو ان کی سولہ آنے درست ہے لیکن علم کی کہانی کچھ ایسے ہی چلتی ہے، اسکندریہ کا کتب خانہ جلایا جاتا ہے پر کام کی کتابیں اس سے پہلے ہی اپنا کام دکھا چکی ہوتی ہیں یا وہاں سے غائب ہوچکی ہوتی ہیں۔ گھر کی مرغی دال برابر کا اصول بھی اکثر کارفرما ہوتا ہے۔ اور یوں موتی فٹ پاتھوں پر بکھر جاتے ہیں۔ جہاں سے کچھ دیوانے انہیں اچک لے جاتے ہیں۔ اور کہیں وقت اور انسانی فطرت اور طرز فکر مل ملا کے گردش حالات کی سازش کرتے ہیں۔ وسعت اللہ خان صاحب کا مضمون مجھے ایک نوحہ لگا، اور میں ذاتی طور نوحہ گری سے زیادہ ان حالات اور مہیجات کی کھوج پسند کرتا ہوں جو تغییر حالات کا باعث ہوئے اور ہوتے ہیں، اس لئے جرات کر بیٹھا ہوں ورنہ وسعت اللہ صاحب ایک صاحب علم و دانش لکھاری ہیں اور ۔میں، بس من آنم کہ من دانم۔

آج علوم کی قدردانی کی مثال قائم کرنے والے مغرب میں کبھی تاریکی کا راج بھی تھا اور پرانی کتب چرچوں میں محصور ہو کر رہ گئی تھیں۔ اور بعض اوقات تاوان کے طورپر

Blood thirsty Saracen, crafty Moors or terrible Turks

کے حوالے بخوشی کردی جاتی تھیں۔

میرا خیال ہے کہ جب کتابیں، یا علوم، غلط ہاتھوں میں پڑ کر فائدے کی بجائے نقصان دینا شروع کردیں یا ان میں بعض اغلاط نکل آئیں تو انسے بیزاری پیدا ہوجاتی ہے، یا بغض پیدا ہوجاتا ہے۔ اور بیزاری اور بغض ان کتابوں کی ناقدری کا باعث ہوتے ہیں، اور کم علمی کے باعث ایک غلطی کی بنا پر پوری کتاب رد کردی جاتی ہے۔ یا پھر جب، غلط یا صحیح، کتب ایک مذہبی حیثیت اختیار کرجاتی ہیں اور مذہبی حلقوں کی گویا ملکیت بن جاتی ہیں تو جب مذہب سے بیزاری پیدا ہوتی ہے تو ان کتب سے بھی بیزاری پیدا ہوجاتی ہے۔

بعض صورتوں میں فکری کوتاہیوں کے سبب بھی علمی کتب کی افادیت ان اقوام کے لئے کم کر دی جاتی ہے جن کا وہ جائز ورثہ ہوتی ہیں۔ مثلا یونان کے، اور شاید چین کے بھی، قدیم علمی حلقوں میں ہاتھ سے کام کر کے کسی نظریے کی پرکھ، یا تصدیق، کو نچلے درجے پر رکھا جاتا تھا۔ اور جو فکری کاوش عملی فوائد اور تجربے کی کسوٹی پر کسی نہ جائے وہ محض شاعری رہ جاتی ہے۔ مثلا اکثر لکھاریوں نے، جن میں، سر فرانسس بیکن بھی شامل ہے، ارسطو کے عورتوں کے دانتوں کی تعدادکے مردوں کے دانتوں کی تعداد سے کم ہونے کے بیان اورگھوڑے کے منہ میں دانتوں کی تعداد کے سلسلے میں بیانات کا مضحکہ اڑایا ہے۔ فرانسس بیکن کے مضمون کا جو اقتباس آج کل بہت مشہور ہے اسکا آزاد ترجمہ کچھ یوں ہے:

سن 1432 عیسوی میں مسیحی برادری میں گھوڑے کے دانتوں کی تعداد سے متعلق ایک پریشان کن جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ پورے تیرہ دن یہ جھگڑا پوری تندی سے بغیر رکےجاری رہا۔ اس دوران میں پرانی تمام کتب اور پوتھیاں نکالی گئیں، اور ایسی ادق اور عالمانہ بحث وجود میں آئی جو اس علاقے میں پہلے نہ سنی گئی نہ دیکھی گئی۔ چودھویں دن ایک خوبصورت سے نوجوان برادر نے کچھ کہنے کی اجازت چاہ کر اپنے بزرگوں کو حیران کردیا: کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں؟ اور اس نے یہ کہہ کر اپنے عالم بزرگوں کو اور بھی زچ اور پریشان کردیا کہ گھوڑے کا منہ کھول کر اس کے دانت گن لیں پتا چل جائے گا۔ دکھ کی بات تو یہ تھی کہ وہ ان کو یہ کہہ رہا تھا کہ اپنی حیثیت سے گری ہوئی حرکت کرکے حقیقت کا پتا چلا لیں، بھلا یہ بھی کبھی ہوا ہے؟ اس کی اس حرکت پر ان کی عزت نفس اتنی مجروح ہوئی اور ان کو اتنا غصہ آیا کہ وہ شور مچاتے ہوئے اس پر پل پڑے اور اس کی خوب ٹھکائی کی، یعنی چوتڑ کوٹے رانیں پیٹیں اور فی الفور باہر پھیک دیا۔ کیونکہ ان کے بقول، اس نوآموز میں شیطان سما گیا تھا، اسی لئے وہ اپنے بزرگوں کو ایک ایسے پست اور غیر روحانی طریقے سے سچ جاننے کی ترغیب دے رہا تھا جو پرانے بزرگوں کی تعلیمات کے سراسر خلاف تھا۔ کچھ اور دن اس حیران کن تگ و دو میں گزر گئے تب امن کی فاختہ کا اس طرف گزر ہوا۔ اور انہوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ فیصلہ یوں لکھا جائے: یہ مسئلہ، تاریخی اور مذھبی شواہد کی حیران کن عدم موجودگی میں ایک سر مستمر ہے۔

خیر تو جب مسلمانوں کے ہاتھ یونانیوں اور چینیوں کی علمی کاوشیں آئیں۔ تو انہوں نے ان کی فکری کاوشوں سے استفادہ بھی کیا اور ان کی پرکھ بھی کی اس عمل کے نتیجے وہ طریقہ وجود میں آیا جسے آج سائنسی طریقہ کہتے ہیں۔ میں نے برٹرینڈ رسل کے کسی مضمون یا کتاب میں پڑھا تھا، جس کا مطلب یہ تھا، کہ یونانیوں کے سامنے اگرگھوڑے کے دانت گننے کا مسئلہ ہوتا تو وہ بیٹھ کر اس کے متعلق نظریات قائم کرتے اور اگر عربوں کے سامنے یہی مسئلہ ہوتا تو وہ سیدھے سیدھے جا کر کسی گھوڑے کا منہ کھول کر اس کے دانت گن لیتے۔ اس طرز عمل ہی کے نتیجہ میں مسلمانوں نے صنعت و حرفت اور خاص طور پہ جنگی حرفت میں بے پناہ ترقی کی۔ یہاں بہتر لگتا ہے کہ کہہ دوں کہ فرانسس بیکن نے وہ خاکہ سولہویں صدی میں بیٹھ کر پندرھویں صدی کے متعلق لکھا تھا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس وقت یورپ میں۔۔۔ علمی نشاۃ ثانیہ ۔۔۔ کا آغاز تو ہوچکا تھا لیکن چرچ کی مزاحمت ظلم کی حد تک بڑھی ہوئی تھی۔ گویا کہ جو ۔۔ شیطانی اثرات۔۔ مسلمانوں کی علمی کاوشوں کے نتیجے میں مرتب ہوئے تھے ان کو زائل کرنے کے لئے چرچ پوری طرح مستعد تھا۔

مسلمانوں نے بطلیموس کو پڑھا۔ رصدگاہوں میں بیٹھ ستاروں کی چال دیکھی اور اپنے نظریات قائم کئے اور بطلیموس کی بعض باتوں کو غلط ثابت کیا۔ اپنے اور یونانیوں کے علم نجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جدید اسطرلابیں بنائیں اور جہازرانی کے استاد ہو گئے۔ منجنیقوں کے طریقہ کارکا مشاہدہ کیا اور ان میں مناسب ترامیم کر کے جنگ کے میدانوں میں سرخرو ہوئے۔ ادھر چینیوں سے بارود کا نسخہ لیا اور وہ چیز جو چینی میلوں ٹھیلوں میں تماشوں کے لئے استعمال ہوتی تھی اسے توپوں میں استعمال کر کے اپنے دشمنوں کو اڑا کر رکھ دیا۔ اقلیدس کو پڑھا جیومٹری سے واقفیت حاصل کی اور منظم طور پر ریاضی سے متعلق مسائل کے حل میں دنیا کے استاد ہو گئے۔ اور الجبرے کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ یہاں تک کہ سوالوں کے حل کرنے کے منظم طریقے کا نام ہی الگورتھم پڑ گیا۔ الگورتھم دنیا کو الجبرا سکھانے والے عظیم استاد الخوارزمی کے نام پر ہے۔ اور گورے جو مسلمانوں کی ایجادوں پر اپنے پانچ سو سال بعد کے لوگوں کے نام ٹھونکنے کے ماہر ہیں آج تک اس حقیقت سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان اگر اتنے ہی اچھے تھے تو پھر سب کچھ ختم کیسے ہو گیا؟ ایک جواب تو یہ ہے کہ بالکل ایسے جیسے یونانی اپنی اتنی عقل کے باوجود پیچھے رہ گئے۔ میرا خیال ہے کہ جب کسی کتاب یا علم کی کسی خاص، انداز فکر والی قوم کے لئے عملی افادیت یوں ختم ہوجاتی ہے کہ اس سے نہ سوچ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی اسے کسی حرفت میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اور قوم دوسرے مشاغل میں پڑ جاتی ہے۔ تو کتب اور علوم ناقدری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور کتابیں اس وقت تک گھورے پر پڑی رہتی ہیں جب تک ایک ذرا مختلف انداز فکر والے لوگوں کے ہاتھ نہیں لگتیں۔ مثلا یونانیوں کی کتب پر طاری جمود اس وقت ختم ہوا جب وہ ذرا مختلف طرز فکر والے مسلمانوں کے ہاتھ لگیں۔ اور مسلمانوں کے علوم کا جمود اس وقت ختم ہوا جب وہ غیر یونانی یورپینز کے ہاتھ لگے۔ میں نے کوپرنیکس پر اپنے مضمون میں بیان کیا تھا کہ ایک امریکی نے ایک عرب ہیئت دان کا مسودہ دریافت کیا تو دنیا کو پتا چلا کہ کوپرنیکس کا کچھ کام ہوبہو اس کے کام کی نقل تھی، بغیر کوئی ذکر کئے۔

 ضروری لگتا ہے کہ کچھ ذکر باپوں کی کتابوں کو کباڑیوں کے حوالے کرنے والوں کا بھی ہو جائے۔سبھی بچےاپنے باپوں کے کتب خانوں کو کباڑی کے سپرد نہیں کرتے صرف وہی بچے اس قسم کی حرکت کرتے ہیں جن کے باپوں نے اپنے کام کو، اپنے بچوں کے احساسات کے مقابلے پر، اس قدر اہمیت دی ہوتی ہے کہ بچوں کے دلوں میں دکھ بھر جاتا ہے یا نفرت بھر جاتی ہے یا وہ کم علم رہ جاتے ہیں اور باپ کے علم کی قدردانی سے محروم۔ بعض اوقات ماؤں کا کرداربھی ہوتا ہے جو اپنے فرائض ادا کرنے کی بجائے اپنے بچوں کے سامنے باپ کی کردار کشی کرتی دکھائی پڑتی ہیں۔ آپ جہاں بھی باپ کی کتابیں کباڑی کو بیچنے والے کو دیکھیں اس کے پیچھے آپ کو باپ کی بے دھیانی یا ماں کا اپنے پھوہڑ پن یا کم علمی کو چھپانے کو دیا ہوا باپ سے بغض ضرور ملے گا۔

(جاری ہے)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں