نامہ آتا ہے کہ ای میل چلی آتی ہے


husnain jamal (3)اگلے زمانے میں زندگی چوں کہ سست رفتار تھی تو پر سکون بھی تھی۔ لوگ راتوں کو مل بیٹھ کر گپ لگا لیتے تھے، دن میں بھی کچھ نہ کچھ گنجائش نکل آتی تھی اور مزے کی بات یہ کہ اگر دل چاہا تو کام سے چھٹی بھی ایسے لے لی جاتی کہ جیسے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ نوکریاں اس وقت بھی یقیناً اہم تھیں لیکن انسان شاید زیادہ اہم تھے۔ تو بس کوئی مہمان آنے کی دیر ہوتی تھی اور چھٹی تیار۔ اب چاہے سارا دن بیٹھے باتیں کرتے رہیے یا ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر گھومنے نکل جائیں (ہاتھ میں ہاتھ ڈالنا کچھ ایسا معیوب نہیں دکھتا تھا جیسا کہ اب ہے)، یا کسی تیسرے دوست کی طرف چلے جائیں کوئی خاص ٹینشن نہیں ہوتی تھی۔ پھر موبائل فون بھی نہیں ہوتا تھا۔ یعنی کیا آپ اب تصور بھی کر سکتے ہیں اس پرسکون دور کا کہ جب موبائل نہیں تھا؟ آپ گھر بتا کر نکلے کہ بھئی رات نو بجے تک واپسی ہو گی تو بس آیت الکرسی کے حصار ہی کا، جو ماں نے پھونکی ہوتی تھی، آسرا ہوتا تھا۔ ماں کو بھی اور خود آپ کو بھی۔ نہ وہ پریشان ہوتیں نہ آپ۔ ہاں نو کے دس ہوتے تو گنجائش ہوتی تھی لیکن دس کے بعد پریشان ہونا شروع کیا جاتا اور گیارہ بجے باقاعدہ ہرکارے دوڑائے جانے والے ہوتے کہ آپ آن دھمکتے۔ مزاج پرسی پر بتایا جاتا کہ فلاں دوست کے ابو نے کھانے کے لئیے روک لیا اور یوں دیر ہو گئی تو یقین کر لیا جاتا اور ستے خیراں کا نعرہ مار کر راوی چین کی نیند سوتا۔ یا پھر یوں بھی ہوتا کہ آپ گھر سے نکلے، کسی بھی مسئلے میں پھنس گئے، سارا دن خجل خواری ہوئی، خدا جانے کس طریقے سے شام کو سب جھگڑے نمٹا کر گھر آئے اور گھر والوں کو آج تک نہیں پتہ کہ کچھ ایسا ہوا بھی تھا۔ اب تو بھئی کہیں کوئی لانجھا ہوا نہیں اور ٹھک کر کے فون جائے گا آپ کے گھر۔ پھر آپ جانیں اور مسئلہ اور گھر والے۔ خیر، اسی پرامن اور چین کی زندگی کا ایک اہم جزو خط ہوتا تھا۔ اب خط کا یہ تھا کہ بہت اتاولے ہوئے تو ایکسپریس بھیج دیا نہیں تو اپنی عام رفتار سے اصولی طور پر تیسرے چوتھے روز ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچ جاتا تھا اور اتنے ہی دن جمع کر لیجیے (دیگر حالات بدستور رہتے ہوئے) تو جواب موجود ہوتا تھا۔ اس خط میں لکھنے والے کی خوشبو، اس کا مزاج، اس کا سواد خط، اور بس سبھی کچھ ہوتا تھا۔ تو یوں خط نویسی کے کھیل سے دور دراز رہنے والے دل بہلا لیا کرتے اور رابطے بحال رہتے۔

ray-1020کئی لوگوں کو ہم نے بھی خط لکھے۔ سب سے پہلے شاید نانا جان کو لکھنا شروع کیا، پھر گڈو ماموں کو لکھا پھر جفی کو اور یوں یہ تعداد بڑھتی چلی گئی۔ نانا کے نام خط میں تو اب یاد بھی نہیں کیا اول فول ہانکا جاتا تھا، ہاں اتنا یاد ہے کہ آٹھ دس برس کا سن تھا اور تخلص “شعلہ” رکھ کر شاعری کی جاتی تھی۔ یقیناً بے وزن! تو ایک بار ماموں صاحب کو خط لکھا اور آخر میں لکھا “فقط۔ حسنین جمال شولا” اور بھیج دیا۔ جواب میں ایک نظم آئی جو ماموں نے کہی تھی اور ٹیپ کا مصرعہ شاید یہ تھا؛ دال پکی، چاول ملے اور شولا بن گیا شولا ہمارے پشاور میں چاول، دال، گرم مصالحے اور شاید گوشت ملا کر بناتے ہیں، کشمیری الاصل ہے یا پشاوری کھانا ہے، فقیر کچھ نہیں جانتا، لیکن ہوتا بہت مزے کا ہے اور بہت ثقیل ہوتا ہے تو ذرا ہاتھ ہلکا رکھ کر کھایا جاتا ہے۔ زیادہ کھائیے گا تو تاثیر میں مولی کے پراٹھوں والا معاملہ ہونے کا امکان ہے۔ وہ خط امی نے پڑھ کر سنایا اور ہنستے ہنستے بے حال ہو گئیں۔ پھر شعلہ اور شولا کا فرق بتایا۔ پھر کچھ اور بڑے ہوئے تو “ملہار” ہو گئے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مبتلا جو دور گزرا، وہ ملہار پن کا دور تھا اور فقیر اپنے تئیں کچھ درویش درویش، کچھ شاعر شاعر تصور کرتا تھا۔

ایک دن نانا تحریک کے کسی جلسے میں گئے، واپس آئے تو بلا کر اپنا لیٹر پیڈ سامنے رکھا، کالے رنگ کا باریک مارکر دیا اور ایک خط لکھوایا جو کسی مولانا کے نام تھا کہ حضرت، آپ کو اپنی بات کی طوالت کے درمیان یہ احساس رہنا چاہئیے کہ کئی بزرگ بیٹھے ہوتے ہیں، کسی کو تقاضا ہوتا ہے، کسی کو کمر سیدھی کرنی ہوتی ہے، بات کیجیے لیکن مختصر اور جامع کیجے اور حاضرین کی عمر کا خیال رکھیے۔ پورے صفحے کا خط تھا لیکن بس اتنا ہی یاد رہا تو ذکر کر دیا۔ پھر جفی کو خط لکھنا شروع کیا۔ ہم دونوں وہ ہیں کہ ایک دوسرے کی صحبت بد کا نتیجہ ہیں۔ جن برائیوں کی اس میں کمی تھی وہ ادھر سے روانہ ہوئیں اور جو یہاں کم تھیں وہ ادھر سے مستعار لی گئیں اور کام چلتا رہا۔ پہلے وہ ملتان میں ہی ہوتا تھا تو کافی اچھا ساتھ رہا۔ پھر چچا کا ٹرانسفر ہری پور ہوا تو جفی بھائی بھی ہری پور چلے گئے۔ یہ ہم سے ایک برس بڑے تھے، پھپی زاد تھے، لیکن مکروہات دنیوی میں جب کوئی پردہ نہ رہا تو پہلے تم ہوئے پھر تو ہو گئے اور اب بھی نام خدا وہی تو تڑاکیہ معاملہ ہے۔ تو جب وہ ہری پور گیا تو خط و کتابت شروع ہوئی۔ ہم لوگ سب کچھ لکھ دیتے۔ کچھ سرگرمیاں جو سنسر کرنے والی ہوتیں ان کے لیے الگ سے کوڈورڈ ہوتے اور وہ حاشیے میں کہیں ڈال دئیے جاتے۔ گانوں کا ذکر ہوتا، دوستوں کی اچھائیاں برائیاں ہوتیں، اگلی بار کب آنا ہے، اور آنا ہے تو کیا خرگرمیاں کرنی ہیں، یہ سب کچھ لکھا جاتا، کبھی کبھی تو روزانہ کی بنیاد پر خط روانہ کیا جاتا۔ پھر ہمیں خوب صورت خط لکھنے کا جنون ہوا تو واللہ پورا دن خط کی سجاوٹ میں گزر جاتا، کبھی کاغذ کو کسی خاص نمونے پر کاٹا جاتا، کبھی رنگین پینسلوں سے ڈیزائن بنائے جاتے، کبھی لیموں کے عرق سے لکھ کر کورا کاغذ بھیج دیا اور ایک سطر گھسیٹ دی کہ باقی مدعا جاننے کے واسطے استری کریں اور من کی مراد پائیں۔ پھر جب استری ہوتی تو گرم ہو کر بھورے رنگ کے حروف کاغذ پر ابھر آتے اور یار لوگ خوش ہو جاتے۔ وہ خطوں میں اوشو کا ذکر کرتا، خلیل جبران بھگارتا، یہاں کیا تھا، بس کام چلتا جاتا۔ یوں بس ایسی عادت پڑی کہ خط لکھنے میں باقاعدہ مزا آنے لگا۔ اور کئی دوستوں سے، کزنز سے، یہاں تک کہ اجنبیوں سے بھی خط خط کھیلا گیا اور خوب عیاشی کی۔

ایک دن ابا کو ان کے ایک پرانے دوست نے ہالینڈ سے کمپیوٹر بھجوایا۔ ٹو ایٹ سکس کا دور تھا شاید، سب کچھ DOS میں ہوتا تھا۔ تو انہوں نے دکھایا کہ یہ دیکھو، یہ اینٹر کا بٹن دبایا اور یہ جو میں نے لکھا تھا، یہ ہالینڈ چلا گیا میرے دوست کے پاس۔ بہت حیرت ہوئی، یعنی کمال ہی ہو گیا، ہم اتنے پیسوں کے ٹکٹ لگائیں، ڈاک خانے والوں کو دے کر آئیں اور ادھر گھر بیٹھے معاملہ ختم۔ لیکن یہ حیرت ایک پرانے رومانس کے خاتمے کی ابتدا تھی، یہ حیرت آج کی مصروف زندگی کی طرف ایک قدم تھی، یہ خاتمہ ایک تہذیب کا خاتمہ تھا، یہ حیرت ایک روایت کی حیرت تھی، یہ ایک بٹن ہمیں کاغذ سے اٹھا کر ڈاٹ کام پر بٹھا گیا اور خط کسی پرانے ڈبے میں پڑے آج بھی پڑھنے والوں کا رستہ دیکھتے ہیں۔ اصولی طور پر یہ تحریر اس پیراگراف پر ختم ہو جانی چاہئیے تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے کہ آج رے ٹوملنس (Ray Tomlinson) رخصت ہو گئے۔ وہ کون تھے۔ جی آج سے پہلے ہم بھی لاعلم تھے۔ انہوں نے ای میل ایجاد کی تھی سن اکہتر میں۔ گویا جب ہم نے رقص آغاز کیا تو وہ ای میل کی ایجاد میں جٹے تھے۔ اس وقت یہ طریقہ مقامی طور پر ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر کو پیغام بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ وہی تھے جنہوں نے ایٹ دی ریٹ آف @ کی علامت کا استعمال ای میل کے لیے شروع کیا اور دنیا کاغذ پر خط لکھنا بھول گئی۔ ایسا نہیں کہ ہم ای میل کی افادیت نہیں مانتے، توبہ کیجیے، لیکن وہ خوب صورت کاغذ، وہ لکھنے والے (لکھنے والی کے ذکر سے حیا آتی ہے کیا۔۔۔؟ مدیر) کی خوشبو، وہ کچھ مٹا کر لکھے گئے لفظ، کچھ پھیلی ہوئی روشنائی، وہ سب لٹ گیا یار۔ تو خیر، رے ٹوملنس آج دار فانی سے 74 برس کی عمر میں کوچ کر گئے۔ سلام ہو رے صاحب، کم از کم اگلے دو دن جب بھی موبائل پر کوئی ای میل آئے گی اور بیپ ہو گی تو کوئی اور یاد کرے نہ کرے، فقیر آپ کو ضرور یاد کرے گا، دعا دے گا، سب کا بھلا، سب کی خیر!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 143 posts and counting.See all posts by husnain

3 thoughts on “نامہ آتا ہے کہ ای میل چلی آتی ہے

  • 08-03-2016 at 1:55 am
    Permalink

    اب کہ خط جانے لگا ۔۔
    شائد کہ خط جانے لگا۔۔۔

  • 08-03-2016 at 10:52 am
    Permalink

    خطوط کیا ہوتے تھے ‘ ہوا پر لکھی عبارتیں ‘ ہوتی تھیں جن کی خوشبو نہ صرف لکھنے اور پڑھنے والوں کے اندر پھیلی ہوتی تھی بلکہ پورے ماحول میں رچی بسی رہتی تھی۔ لفظوں کی سرشاری کا زمانہ تھا۔ بھائی کیا یاد کرا دیا۔

    “وقت کا ڈاکیا روز گزرتا ہے
    تم جب بھی خود کو پوسٹ کرو گی
    میں تمھیں وصول کر لوں گا
    جنم دن کے تحفے کی طرح
    لیکن تاریخ اور محبت کا کوئی جنم دن نہیں ہوتا
    یہ تو خود دنوں کو جنم دیتی ہیں”

    اب تو ڈاکیے کی شکل دیکھے مدتیں گزر جاتی ہیں۔ کبھی کبھی ٹی سی ایس والا آتا ہے وہ بھی کوئی کتاب یا ڈاکومنٹس وغیرہ دینے۔ کوئی نامہ ہے نہ نامہ بر اب ۔۔۔۔۔

  • 29-03-2016 at 8:35 am
    Permalink

    بہت پر لطف تحریر۔۔۔خطوط ھم نے بھی بھت لکھے اور آج بھی کئی ایک کے محفوظ ھیں۔۔۔جن کو ھماری بعد حمایت نسلیں دیکھ کر ھنسا کریں گی۔۔لیکن اتنا تنوع نہیں تھا۔۔۔

Comments are closed.