عمران ہاشمی “مسلسل بوسے باز” کہلانا پسند نہیں کرتے


بالی وڈ اداکار عمران ہاشمی کا کہنا ہے کہ میڈیا نے ‘سیریل کسر’ (Serial Kisser) کے ان کے ٹیگ کو کچھ زیادہ ہی لمبا کھینچ دیا ہے۔ 38 سالہ عمران ہاشمی نے تقریباً 14 سال پہلے فلمی دنیا میں کچھ اس انداز میں انٹری لی تھی کہ یہ ٹیگ جیسے ان کے ساتھ چپک کر رہ گیا۔ ظاہر ہے ان کی فلموں کا انتخاب اور ان کے کردار بھی کچھ ایسے ہی تھے جن میں فلم ‘مرڈر’، ‘عاشق بنایا آپ نے’، اور ‘اکثر’ جیسی فلمیں شامل ہیں۔

بہر حال عمران کہتے ہیں کہ انھوں نے سیریل کسر جیسے کردار صرف دو سال نبھائے لیکن میڈیا نے اسے زیادہ ہی طول دے دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک سٹار ہونے سے بہتر ہے کہ ایک اداکار کے طور پر پہچان بنائی جائے وہ کسی خاص لیبل کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور مختلف اقسام کی فلمیں اور کردار نبھانا چاہتےہیں۔

جہاں تک خاص قسم کی فلموں اور کرداروں کا تعلق ہے تو عمران کو بھٹ کیمپ سے باہر آکر بھی کام کرنا ہوگا کیونکہ ایک ہی طرح کے کردار اور فلمیں بھٹ کیمپ کی خاصیت ہیں اور جہاں تک سیریل کسر کے ٹیگ کا معاملہ ہے تو اس کے لیے وہ خود بھی ذمہ دار ہیں۔ بیچاری میڈیا کا کیا قصور! یقین نہ آئے تو ان کی تازہ فلم ‘بادشاہوں’ کا صرف ٹریلر ہی دیکھ لیں، عمران اپنے اُسی خاص انداز میں نظر آئیں گے۔

بالی وڈ میں اب فلموں کی فرینچائز اور سیکوئل عام ہے۔ ‘دھوم’، ‘سنگھم’، ‘ڈان’، ‘جولی ایل ایل بی’، ‘ایک تھا ٹائگر’ اور ‘ریس’ اس کی کامیاب مثالیں ہیں۔ ان فلموں میں بڑے بڑے سٹارز نے کام کیا اور ہر فلم کے ساتھ ایک نیا سٹار لیا گیا جیسے دھوم میں رتک، اور عامر رہ چکے ہیں تو فلم ‘ریس’ میں سیف علی خان۔

اس بار ‘ریس تھری’ کے لیے فلم کے پروڈیوسر رمیش تورانی نے مرکزی کردار کے لیے سیف کے بجائے سلمان خان کو لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب چھوٹے نواب کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے سلمان کو نہ صرف مبارکباد دی بلکہ انھیں اس کردار کے لیے بہترین انتخاب قرار دیا۔

سیف علی خان اپنی فلم ‘شیف’ کے پروموشن میں مصروف ہیں۔ خبریں تو یہ بھی ہیں کہ ریس تھری میں قطرینہ کیف کا رول جیکلین فرنانڈیز حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ لگتا ہے دونوں میں مقابلہ کافی سخت ہے۔  فرنچائز اور سیکوئل کے اس سلسلے میں فلم ‘اکثر’ بھی شامل ہے جس کا سیکوئل ‘اکثر ٹو’ چھ اکتوبر کو ریلیز ہونے والی ہے۔ فلم میں زرین خان، گوتم روڈ اور ابھینو شکلا ہیں۔ حال ہی میں فلم کا ٹریلر ریلیز ہوا اور حسبِ توقع ٹریلر کافی مصالحے دار تھا۔ ٹریلر میں زرین خان اور ان کے ساتھی کرداروں کے درمیان جو مناظر ہیں اس پر میڈیا نے زرین خان سے سوال کرنے شروع کر دیے۔ پھر کیا تھا زرین کو غصہ آیا اور انھوں نے میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔

یہاں غالباً زرین کا غصہ جائز تھا۔ فلم میں اس طرح کے کردار اور مناظر جب فلم کے ہیرو اور ہیروئن دونوں کے درمیان ہوں تو پھر سوال یا طنز کا نشانہ صرف ہیروئن ہی کیوں ہوتی ہے؟ کوئی ہیرو پر انگلی کیوں نہیں اٹھاتا اور یہ سوال کیوں نہیں کرتا کہ اس نے کم کپڑے کیوں پہنے یا ایسے سٹیمی سینز (دھواں دھار جنسی مناظر) کیوں کیے؟

(نصرت جہاں)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5689 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp