ملالہ کا روہنگیا نسل کشی پر آنگ سان سوچی کو پیغام


جب بھی میں خبریں دیکھتی ہوں، میرا دل روہنگیا مسلمانوں کے مصائب پر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔
میں مطالبہ کرتی ہوں کہ

* تشدد بند کر دیا جائے۔ آج ہم نے ننھے بچوں کی تصاویر دیکھی ہیں جنہیں میانمار کی سیکیورٹی فورسز نے قتل کیا ہے۔ ان بچوں نے کسی پر حملہ نہیں کیا تھا، لیکن پھر بھی ان کے گھر جلا کر خاک کر دیے گئے۔

* اگر ان کا گھر میانمار نہیں ہے، جہاں وہ کئی نسلوں سے رہ رہے ہیں، تو پھر وہ کہاں ہے؟ روہنگیا افراد کو میانمار کی شہریت دی جانی چاہیے، وہ ملک جہاں وہ پیدا ہوئے تھے۔

* دوسرے ممالک، جن میں میرا ملک پاکستان بھی شامل ہے، کو بنگلہ دیش کی مثال کا اتباع کرنا چاہیے اور تشدد اور دہشت گردی سے بچ کر بھاگنے والے روہنگیا خاندانوں کو کھانا، پناہ اور تعلیم تک رسائی فراہم کرنی چاہیے۔

گزشتہ کئی برسوں کے دوران، میں نے مسلسل اس المناک اور شرمناک سلوک کی مذمت کی ہے۔ میں ابھی تک انتظار کر رہی ہوں کہ میری نوبل (پرائز) پانے والی ساتھی آنگ سان سوچی بھی ایسا کریں۔ دنیا انتظار کر رہی ہے اور روہنگیا مسلم انتظار کر رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں