پختون معاشرہ: قوم پرستی اور قبائلیت کے درمیان


فضل سبحان یوسف زئی

 

 

\"fazalآج کل پختونوں کے ہرسیاسی اور معاشی فورم پر یہی نکتہ زیر بحث آتا ہے کہ ھم پختونوں میں قومی تشخّص کی بجائے قبائلی شناخت کے اظہار پر اصرار کیوں نمایاں ہے۔ قومی سوچ کے فقدان کے حوالے سے خان عبدالولی خان کا یہ قول تو ہرجگہ دہرایا جاتی ہے کہ پختونوں کاایک بات پراتفاق ہے (چی اتفاق بہ نہ کوو) یعنی پختون ایک بات پرمتفق ہیں کہ ’’کبھی متحد نہیں ہونا‘‘۔ عام طور پرقوم کے جو اجزائے ترکیبی بیان کئے جاتے ہیں ان میں مشترکہ جغرافیہ، زبان وثقافت اورمشترکہ معیشت اورمارکیٹ شامل ہیں۔ ان عناصر کے باہم ترکیب وترتیب سے معاشرے میں ایک عمومی قومی شعور اورثقافتی روئیے نمو پاتے ہیں۔ اپنے جغرافیے یعنی وطن اور زبان و معاشرت سے گہری وابستگی، قوم سے محبت کی بُنیاد ٹھہرتی ہے۔ یہ بُنیادیں جتنی گہری ہوں اورسماجی رویّوں میں اس کا جتنا واضح اظہار ہو اتنا ہی قومی ترقی کی منازل طے کرتی ہے اور اس راہ پر گامزن ہونا آسان رہتا ہے۔ یاد رہے کہ اپنی ثقافت اور قوم سے محبت کے معنی ہرگز دوسرے معاشروں اور قوموں سے نفرت اوردشمنی نہیں، نہ ہی اپنی شناخت سے وابستگی میں شاونزم در آنا چاہیئے بلکہ اس کا مطلب مثبت مسابقت اور ہم آہنگی کے جذبوں کو فروغ دینا ہے۔

اس حوالے سے جب ہم پختون معاشرے کا جغرافیائی اور معاشی حوالے سے جائزہ لیتے ہیں تو پختون آبادی پختونخوا، بلوچستان اورسندھ میں بکھری پڑی ہیں اورجغرافیائی حوالے سے وہ بلوچستان، خیبر پختونحوا اور پنجاب میں منقسم ہیں اور مزید برآں انتظامی حوالے سے فاٹا، پاٹا اور ایف آر کے نام پر جغرافیائی اور انتظامی تقسیم درتقسیم کا شکار ہے۔ یعنی پاکستان میں ان کا کوئی مشترکہ انتظامی اورسیاسی یونٹ موجود نہیں ہے اس جغرافیائی دوری اور عدم مرکزیت کی وجہ سے ان میں کوئی مربوط قومی شعورب ھی پنپ نہیں سکا ہے نہ ہی پختون قومی شناخت کی سیاست کرنے والی جماعتیں چند مبہم سلوگنز کو چھوڑ کر کوئی ہمہ گیر پروگرام دے پائی ہیں جس میں پختونخوا اور بلوچستان کے پختون اور کراچی کی بہت بڑی آبادی کو ایک ساتھ سمویا جا سکے۔ اسی لئے پختون اکثریت کے اضلاع اور شہری مراکز میں بکھرے ہوئے پختونوں میں قومی تشخّص کے برعکس قبائلی شناخت اور اس سے وابستگی پربہت زیادہ زور پایا جاتا ہے ۔

 آج کی گلو بلائزڈ دنیا میں ٹھوس معاشی اورمادی بنیادوں اور پروگرام پر ہی معاشروں کو تعمیر و ترقی کی راہوں پرگامزن کیا جا سکتا ہے۔ جدید صنعتی انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور دوسرے جدید ذرائع ابلاغ کی بنیاد پر ہی ایک مربوط اور متوازن شہری ڈھانچہ وجود میں آتا ہے جس کی بنیاد پر مشترکہ مارکیٹ وجود میں آتی ہے۔ اور جس کی وجہ سے معاشروں میں قومی شعور اور نیشنلسٹ جذبے فروغ پاتے ہیں۔ پختونوں کا علاقہ قدرتی وسائل اور معدنیات اورخام مال سے مالامال ہے۔ اور ان وسائل میں سرمایہ کاری اس خطے کو معاشی او اقتصادی طور پر ترقی کے بام عروج پر پہنچا سکتی ہے۔ مشترکہ مارکیٹ کا فروغ لوگوں کو مشترکہ مفادات کی لڑی میں پرو دیتا ہے اور لوگوں میں اپنائیت اور یکجائیت کا احساس اور شعور بڑھتا ہے۔ یہ معاشی سرگرمیاں ایک مشترکہ کاروباری کلچر اور معیشت کو فروغ دینے کا سبب بنتی ہیں۔ جس کی اساس باہمی تعاون اور اعتماد پرہوتی ہے۔

تعلیم تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے تعلیم کی ترقی اور فروغ کے لئے انتہائی سنجیدہ کوششیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی صلاحیتیں اورکاروباری کلچر اس معاشرے میں پختہ قومی شعور، اپنے سیاسی کردار کے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور طاقت کے مراکز میں زیادہ سے زیادہ اختیارات کے حصول کا جذبہ اور احساس پیدا کرتی ہے۔ اس طرح یہ مشترکہ مفادات کو جنم دیتی ہے اور معاشرے میں نئے طبقات وجود میں آتے ہیں جو سیاسی شعور، سماجی بیداری اور قوم پرستی کے رویوں کے فروغ میں ممد و معاون بنتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستانی ریاست برطانوی نوآبادیاتی سیاست کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کی مظلوم اور کمزور قومیتوں میں معاشی اورسماجی ترقی کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل اور پروگرام نہیں دے سکی بلکہ اُلٹا ان کے وسائل کا بیدردانہ استحصال کر کے ساری صنعتیں اورکاروباری مراکز کراچی اورپنجاب میں مرتکز کر دئیے۔ پختون علاقوں میں جدید صنعتی انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ اور دوسرے جدید ذرائغ کے عدم موجودگی کی وجہ سے نہ کوئی مربوط معاشی اورسماجی ترقی ہو سکی اور نہ ہی کوئی متوازن شہری اور تجارتی ڈھانچہ وجودمیں آ سکا جس کی وجہ سے پختون بیلٹ میں کوئی مشترکہ مارکیٹ یا باالفاظ دیگر شہری اورتجارتی مراکز وجودمیں آ سکے اور نہ ہی کوئی ترقی پسند اور سیاسی طور پر بیدار اور مہم جو متوسط طبقہ وجود میں آ سکا۔ بلکہ اُن کا تمام تجارتی اور معاشی انحصار دیگر شہری مراکز یعنی کراچی، لاہور اور راولپنڈی پہ بن گیا۔ اب چونکہ کسی مشترکہ مارکیٹ اور معاشی سرگرمیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان میں قومیت کے حوالے سے کوئی مضبوط احساس اورسوچ بھی جڑ نہیں پکڑ سکی ۔ بلکہ اُلٹا ان میں احساس کمتری کی سوچ پیدا ہوئی۔ جس کے نتیجے میں ان میں قبائلی اور نسلی تفاخر اور برتری کے احساسات نمو پانے لگے۔ مشترکہ مارکیٹ، جغرافیائی دوری اورسیاسی مرکز کی عدم موجودگی کی وجہ سے پختونوں میں کوئی مشترکہ بولی وجود میں نہیں آسکی بلکہ ہر علاقے اورقبیلے کی اپنی بولی اور لہجہ ہے۔ اس طرح ان میں کوئی ’’قومی ثقافت‘‘ بھی پروان نہیں چڑھی کیونکہ ثقافت تو بنیادی طورپر ذرائع پیداوار، جغرافیائی حالات، معاشی سرگرمیوں اورسماجی رشتوں کا نام ہے ۔ چونکہ پختون تو پورے پاکستان میں جغرافیائی طورپر منتشر اور بکھرے ہوئے، کسی مشترکہ معیشت سے محروم ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاں کوئی فعال سیاسی قومی قیادت بھی نہیں اُبھر سکی ہے۔ اس طرح ان کے ہاں جو تھوڑی بہت معاشی اورسماجی ترقی ہوئی ہے وہ بھی مربوط اور جامع نہیں ہیں بلکہ ایک قسم کی غیرمتوازن اور ناہموار ترقی ہے جس کی وجہ سے ان کا ارتقا ایک ہی سمت اور طرز پر مبنی نہیں۔ اس لئے ان میں کوئی سماجی یا معاشی ہم آہنگی ناپید ہے ۔نتیجتاً پختون سماج نیم قبائلی ساخت اور رویوں کا حامل ہے اس غیر مساوی اور متضاد قسم کے ارتقا کے نتیجے میں یہاں قومی سوچ اور شعور اور سماجی ترقی کا پیدا ہونا خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے  کہ پختونوں کے ہاں جدید دورکی تقاضوں سے ہم آہنگ معاشی اورصنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ سماج کی تمام پرتوں اورطبقوں کو اپنی صلاحیتوں کی نمو کا موقع مل سکے اور حقیقی معنوں میں ایک ترقی کی راہ پر گامزن قومی سماج تشکیل پا سکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “پختون معاشرہ: قوم پرستی اور قبائلیت کے درمیان

  • 09-03-2016 at 3:03 pm
    Permalink

    تا يې یواځې حالت بیان کړ. هیله چې په بل کالم کې به يې لارې چارې ولټوې.

Comments are closed.