آنگ سان سوچی : مظلوم شہزادی سے خون آشام ملکہ تک


آنگ سان سوچی ابھی دو برس ہی کی تھیں کہ ان کے والد آنگ سان کو دشمنوں نے گولی مار دی۔ ان کی والدہ نے ان کو پالا پوسا اور اعلی تعلیم دلوانے کے لئے 1964 میں آکسفورڈ یونیورسٹی بھیج دیا۔ 1972 میں انہوں نے ایک برطانوی شہری مائیکل ایرس سے شادی کر لی اور ان کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ وہ اقوام متحدہ اور دوسرے اداروں میں ملازمت کر رہی تھیں کہ 1988 میں ان کو اپنی نہایت علیل والدہ کی تیمارداری کے لئے برما واپس آنا پڑا۔

اس وقت ان کو یہ جان کر نہایت صدمہ ہوا کہ برما میں 1962 سے فوجی جرنیل حکومت کر رہے ہیں اور عوام جمہوری حقوق کے لئے بے تاب ہیں۔ انہوں نے اگست میں فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف تقریر کر دی تاکہ انقلاب لایا جا سکے۔ وہ مہاتما گاندھی اور مارٹن لوتھر کنگ کی عدم تشدد پر مبنی تحریک سے نہایت متاثر تھیں لیکن بدقسمتی سے برما کے جرنیل گاندھی بھگت نہ تھے۔ جولائی 1989 میں تحریک کو سختی سے کچل دیا گیا اور آنگ سان سوچی کو فوج میں انتشار پیدا کرنے کے الزام میں گھر پر نظربند کر دیا گیا۔

1990 میں ان کی قائم کردہ پارٹی نیشنل لیگ نے اسمبلی کی 80 فیصد سیٹیں جیت لیں۔ فوجی حکومت نے نہایت غور و فکر کرنے کے بعد الیکشن کے نتائج کو کالعدم قرار دے دیا۔ 1991 میں ان کو ”انسانی اور جمہوری حقوق کی خاطر عدم تشدد پر مبنی جدوجہد“ کرنے پر نوبل انعام دیا گیا۔ چھے برس بعد 1995 میں آنگ سان سوچی کو رہا کر دیا گیا۔ سنہ 2000 میں دوبارہ قید کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔ 2010 میں آخری رہائی عمل میں آئی۔ آنگ سان سوچی نے گزشتہ 21 برس میں سے 15 برس قید میں گزارے تھے۔

نومبر 2015 میں آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ نے انتخابات جیت لئے مگر آئین یہ پابندی لگاتا تھا کہ ایسا شخص صدر نہیں بن سکتا جس کے قریبی عزیز غیر ملکی شہری ہوں۔ اس لئے وہ وزیر خارجہ، وزیر پانی و بجلی اور وزیر تعلیم مقرر کر دی گئیں اور بعد میں ان کے لئے ریاستی کونسلر نامی ایک خاص عہدہ تخلیق کر دیا گیا۔

انسانی حقوق کے لئے پندرہ برس جیل کاٹنے والی کتنی بڑی ہیروئن ہے۔ اس کے دل میں انسانیت کا کتنا درد ہو گا جس نے اپنے عظیم مقصد کے لئے اپنے شوہر اور بیٹوں سے طویل دوری برداشت کی۔ بستر مرگ پر لیٹے شوہر کے پاس نہ گئی کہ واپسی نصیب نہ ہو گی۔ نوبل کمیٹی کے علاوہ روس سے لے کر امریکہ تک دیس دیس کے ملکوں نے اس کی انسانیت کے لئے خدمات کا اعتراف کیا اور اس کو اعلی ترین اعزازات دیے۔ برما کے عوام نے اسے ہمیشہ اپنا نجات دہندہ سمجھا اور اس کی بہت عزت کی۔ انسانوں کے لئے اپنی زندگی قربان کر دینے والی 72 سالہ شفیق بڑھیا کی عزت بھلا کون نہیں کرے گا؟

اب اگر وہ یہ کہتی ہیں کہ روہنگیا کی نسل کشی نہیں ہو رہی ہے، بلکہ محض کچھ مخاصمت سی ہے، اور مسلمان بھی مسلمان کو مار رہا ہے، تو ان کی بات جھٹلائی تو نہیں جا سکتی۔ یہ بھی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کا پروپیگنڈا ہی ہو گا کہ برما کے فوجی روہنگیا بچوں کے سر کاٹ رہے ہیں، روہنگیا کو گھروں میں بند کر کے ان کو زندہ جلا رہے ہیں، ان کو جلتے گھروں میں دھکیل رہے ہیں، ان کو گولی کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان کی عورتوں کو گینگ ریپ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اگر واقعی کسی انسان کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا تو انسانی حقوق کی خاطر اپنی زندگی قربان کر دینے والی آنگ سان سوچی بھلا اس پر خاموش کیوں رہتیں؟

یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ روہنگیا کو انسان نہ سمجھتی ہوں۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ حکمران بننے کے بعد نظریات تبدیل ہو جاتے ہوں۔ وہ مظلوم شہزادی جو انسانیت کی خاطر قربانی دیتی تھی اب تخت کی خاطر خون آشام ملکہ بن کر انسانی قربانی کرنے لگی ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1010 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar