برکس اعلامیہ: پاکستان کے خلاف بھارت کی کامیابی


پاکستانی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے اندر یا باہر جن عناصر کا خیال ہے کہ چین دہشت گردی کے حوالے سے بہرحال پاکستان کی حکمت عملی اور پالیسیوں کا ساتھ دیتا رہے گا، جنوب مشرقی چین میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس کے اعلامیہ سے ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ دنیا کی پانچ تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں پر مشتمل اس گروپ کے سربراہان سالانہ اجلاس کے لئے چین کے شہر ژیا مان میں جمع ہوئے تھے۔ یہ کانفرنس اگرچہ شمالی کوریا کی طرف سے چھٹے ایٹمی دھماکہ کے فوری بعد منعقد ہو رہی تھی لیکن اس میں بنیادی طور پر دنیا کو دہشت گردی سے لاحق خطرات پر غور کیا گیا۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں پہلی بار دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے اور اس حوالے سے دیگر گروہوں کے علاوہ لشکر طیبہ، جیش محمد، تحریک طالبان پاکستان، حقانی نیٹ ورک اور حزب التحریر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں سے نمٹنا ہر ملک کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی تعاون میں ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام ضروری ہے۔ کانفرنس کے دوران چینی حکام کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور جدوجہد کا اعتراف بھی کیا گیا۔ تاہم اعلامیہ میں پاکستان میں موجود گروہوں کا ذکر بھارت کی سفارتی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔

اسلام آباد سے اگرچہ اس اعلامیہ پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن برکس ملکوں کا یہ اعلامیہ پاکستانی حکام اور فوج کے لئے چشم کشا ہونا چاہئے۔ اس میں دنیا کے ایسے پانچ ملکوں نے ایک رائے کا اظہار کیا ہے جو عالمی معیشت کے 40 فیصد حصہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ پاکستان نے اس جارحانہ الزام تراشی کا مقابلہ کرنے کے لئے چین اور روس کی ہمدردی اور تعاون کے سبب ہی امریکہ کے خلاف سخت موقف اختیار کیا تھا۔ یہ دونوں ملک برکس کے اہم رکن ہیں۔ اب برکس اعلامیہ میں بعض مخصوص دہشت گرد گروہوں کے ذکر سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے معاملہ میں عالمی طاقتیں اختلافات کے باوجود ایک نکتے پر جمع ہو رہی ہیں۔ اب اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے کہ دہشت گرد اور عسکری گروہوں کو پراکسی وار میں استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ملک دنیا کے امن کے لئے خطرہ کا سبب نہیں بن سکتا ورنہ اسے دوست تلاش کرنے اور عالمی برادری میں وقار حاصل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہو گا۔

امریکہ اور پاکستان کے ہمسایہ مملک افغانستان اور بھارت پاکستان پر کئی برس سے ایسے گروہوں کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہیں جو افغانستان کے علاوہ بھارت میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ افغانستان میں صورتحال کو غیر مستحکم کرنے کی ذمہ داری حقانی نیٹ ورک پر عائد کی جاتی ہے جو افغان طالبان کا حصہ ہے اور جس کے پاکستانی ایجنسیوں سے قریبی مراسم رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے تمام دہشت گردی گروہوں کا بلا تخصیص خاتمہ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے البتہ امریکہ اور افغانستان ان پاکستانی دعوؤں کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا موقف ہے کہ پاکستانی فوج نے صرف ان دہشت گرد گروہوں کی بیخ کنی کی ہے جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ لیکن حقانی نیٹ ورک اور ایسے ہی دوسرے گروہوں کو نقصان نہیں پہنچایا گیا جو افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں اور افغان سکیورٹی فورسز و شہریوں کے علاوہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔

امریکہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی قیادت کو بھی پناہ فراہم کرتا ہے جو کوئٹہ اور پشاور میں سرکاری سرپرستی میں محفوظ زندگی بسر کرتی ہے۔ اس الزام کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے 40 فیصد علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے، اس لئے اس کے لیڈروں کو پاکستان میں پناہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور پاکستان دشمن دیگر گروہ اور عناصر مشرقی افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس کی ایجنسیاں افغانستان میں بلوچستان کے قوم پرست عناصر اور دیگر جنگجو گروہوں کی مدد اور تربیت کے ذریعے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے میں سرگرم ہے۔ اس لئے صدر ٹرمپ نے جب افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں میں اضافہ کی بات کی تھی تو اس پر اسلام آباد کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں واضح کیا گیا تھا کہ بھارت علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے یا افغانستان کی ترقی میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں۔

پاکستان کا یہ موقف اس کی پرانی خارجہ و سلامتی پالیسی کے عین مطابق ہے۔ فی الوقت فوج اس پالیسی پر سختی سے عمل کرنے کا اعلان کر رہی ہے اور حکومت اور قومی اسمبلی نے بیک زبان اس معاملہ پر فوج کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت پاکستان افغانستان کے جنگجو گروہوں سے راہ و رسم برقرار رکھتا ہے اور اسے اپنے قومی مفادات کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ اس کے قومی مفادات اور سلامتی کے لئے کابل میں پاکستان نواز حکومت ہونا بے حد ضروری ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ امریکہ جب بھی افغانستان سے نکلے گا یا جب بھی طالبان کو سیاسی قوت حاصل ہو گی تو کابل میں ان کے ذریعے پاکستان کا اثر و رسوخ بھی بڑھنے لگے گا۔

تاہم یہ قیاس آرائی ایک طویل المدت حکمت عملی کا حصہ ہے کیونکہ فی الوقت امریکہ نے غیر معینہ مدت تک افغانستان میں موجود رہنے کا اعلان کیا ہے اور وہ وہاں پر اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ پاکستان کی اسی پالیسی کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور امریکہ ، بھارت اور افغانستان یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان عسکری گروہوں کی حمایت اور امداد کر کے افغانستان میں امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ دنیا کے باقی ممالک اگر براہ راست ان الزامات کی تائید نہ بھی کریں تو بھی پاکستانی موقف کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان کی طرف سے بھارت پر افغانستان کے راستے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے الزامات پر عالمی سطح پر کوئی خاص حمایت دیکھنے میں نہیں آتی۔ پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دستاویزی ثبوت اقوام متحدہ اور امریکہ و دیگر ممالک کو فراہم کر چکا ہے۔ لیکن ان شواہد کی بنیاد پر کبھی پاکستانی موقف کی حمایت نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس بھارتی موقف کو ہر عالمی فورم پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اب برکس اعلامیہ میں حقانی نیٹ ورک کے علاوہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کا نام شامل ہونے سے چین جیسے قریبی حلیف ملک نے بھی بھارتی دلائل اور موقف کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لشکر طیبہ اور جیش محمد پر بھارت میں دہشت گردی میں ملوث ہونے اور مقبوضہ کشمیر میں عسکری گروہ منظم کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان نے متعدد بار تعاون کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن ان دونوں گروہوں کی قیادت پاکستان میں نہ صرف محفوظ ہے بلکہ وہ کسی نہ کسی طور پر تنظیمی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی فوج کے ان تنظیموں کے ساتھ تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ملک کی جو بھی سول حکومت اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی بات کرتی ہے، اسے فوج کے عتاب اور اس کے نتیجے میں میڈیا کی طرف سے وطن دشمنی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ اس پاکستانی حکمت عملی کو دوغلا پن قرار دیتا ہے اور دہشت گردی کی جنگ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ اب برکس کانفرنس میں چین اور روس جیسے ملکوں نے اگرچہ امریکہ جیسا تند و تیز لب و لہجہ تو اختیار نہیں کیا لیکن اس اصول سے اتفاق کیا ہے کہ جیش محمد ، لشکر طیبہ یا حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی کرنے کا رویہ یا پالیسی قابل قبول نہیں ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کو دنیا کا بہترین ملک بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ برکس اعلامیہ کی روشنی میں اب انہیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ترقی و خوشحالی اور عالمی احترام کے سفر میں اب انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔ کیا وہ فوج کے سیاسی عزائم کو محدود کرکے سول منتخب حکومت کو معاملات طے کرنے اور رسوائے زمانہ اور ناکام پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا حق دیں گے یا اب بھی وہ اس بات پر اصرار کرتے رہیں گے کہ ملک میں جمہوریت تو ضرور رہے لیکن جمہوری حکومت ان رہنما اصولوں کی پاسداری کرے جو فوج نے متعین کئے ہیں۔ اب انہیں جان لینا چاہئے کہ پاکستان کے قریب ترین دوست بھی ان اصولوں کو مسترد کر رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 957 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali