برما مگر یمن نہیں


پاکستان میں رپورٹنگ نام کی کوئی شے باقی رہ گئی ہوتی تو گزشتہ ہفتے کی خبر صرف ایک تھی جس کا مستقل Follow Up درکار تھا۔ جی ہاں میں ذکر انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت کے اس فیصلے کا کررہا ہوں جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث پانچ افراد کو تقریباً 10سال کی سماعتوں کے بعد مناسب ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر رہا کردیا ہے۔ اس رہائی کے باوجود لمبی سزاؤں کا حقدار دو پولیس افسران کو ٹھہرایا گیا ہے۔ جرم ان افسران کا نظر بظاہر محترمہ کی شہادت کے چند ہی لمحوں بعد جائے وقوعہ کو فائربریگیڈ کے ٹینکروں سے دھوڈالنا تھا۔ یہ باور کرلیا گیا ہے کہ جائے وقوعہ کی عاجلانہ صفائی کے باعث مجرموں تک پہنچنے میں مدد فراہم کرنے کے قابل Clues مٹ گئے۔

ابھی تک یہ بات اگرچہ واضح نہیں ہوپائی ہے کہ جائے وقوعہ کو دھونے کا فیصلہ ان افسران نے از خود کیا یا انہیں اس کام کے لئے حکم کسی ایسے شخص یا ادارے کی جانب سے ملا جس کا اصولی طورپر قتل کی تفتیش پر مامور پولیس کی Chain of Command سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

جنرل مشرف کو جو محترمہ کے قتل کے دنوں میں پاکستان کے بہت ہی با اختیار صدر ہوا کرتے تھے اس مقدمے میں ”اشتہاری“ محض اس بنیاد پر قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے اس مقدمے کی تفتیش اور بعد ازاں عدالت کے روبروپیش ہوکر اس سے متعلق سوالات کا سامنا کرنے کا تردد ہی نہ کیا۔ محترمہ کے قتل کی سازش میں ان کا ذاتی طورپر ملوث ہونا اگرچہ ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔

پاکستان میں رپورٹنگ نام کی کوئی شے باقی رہ گئی ہوتی تو تقریباً ہر اخبار اور 24/7 چینل کے مدیر اپنے کرائم رپورٹرز کی جانوں کے درپے ہوتے۔ ان کی بدولت ہم کم از کم اتنا تو جان لیتے کہ جائے وقوعہ کی دھلائی کے باوجود ”القاعدہ“ یا ”TTP“ سے تعلق رکھنے والے ان 5 افراد تک کیسے پہنچا گیا جنہوں نے مبینہ طورپر محترمہ کو قتل کرنے والے خود کش بمبار کو واردات سے قبل رہائش کی سہولت فراہم کی۔ اسے خودکش جیکٹ دی اور واردات کے روز جائے وقوعہ تک پہنچایا۔

محترمہ کی شہادت کے بعد رحمن ملک وفاقی حکومت کے وزیر داخلہ بنائے گئے تھے۔ ہم یہ فرض کرنے میں حق بجانب ہیں کہ انہوں نے ذاتی طورپر اپنی رہ نما کے قتل میں ملوث افراد تک پہنچنے میں ذاتی طورپر بہت دلچسپی لی ہوگی۔ پانچ ملزمان کی رہائی کے فیصلے کے بعد ان کا پیشہ وارانہ اور اخلاقی فرض تھا کہ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مبینہ سہولت کاروں تک پہنچنے کے عمل کی کہانی بیان کرتے۔

رحمن ملک صاحب نے ایسی وضاحت کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ فیصلے کے فوری بعد بلکہ انہوں نے طولانی مضمون لکھا جس کی جناتی انگریزی اور اُردو کے ذریعے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے بنائی”نئی پالیسی“ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت ہوئی۔

میری دُعا ہے کہ اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کے ذریعے مذکورہ مضمون وائٹ ہاؤس تک پہنچادیا گیا ہو۔ وہاں مقیم مشیر برائے قومی سلامتی، جنرل میک مارتھر خود بھی ایک مصنف ہے۔ وہ یقینا رحمن ملک کے لکھے مضمون کو بارہا پڑھنے کے بعد ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے چند جوابی دلائل تیار کررہا ہوگا۔ شاید ان دلائل کی عدم دستیابی اسے امریکہ کو افغانستان کے بارے میں بنائی ”نئی پالیسی“ کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک کر کچھ نیا سوچنے پر مجبور کردے۔ محترمہ کے قتل کے عقدہ مگر اس کے باوجود اپنی جگہ موجود رہے گا۔ اس کے بارے میں اُٹھے سوالات کے جواب بھی تو ضروری ہےں۔

کسی بھی قتل کے بارے میں اُٹھے سوالات کا جواب مانگنا البتہ مقتول کے لواحقین کا حق اور فرض ہوا کرتا ہے۔ رحمن ملک اسی حوالے سے ازخود سوالات اٹھانے کے حقدار نہیں۔ محترمہ کے بچوں نے بھی لیکن ابھی تک محض چند جذباتی ٹویٹس لکھے ہیں۔ یہ ٹویٹس ریاست کو مناسب جوابات فراہم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ میرے ساتھی رپورٹر لہذا یہ عذر تراشنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر محترمہ کے قریبی لواحقین بھی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے ہوئے فیصلے پر مستقل اور مناسب سوالات نہیں اٹھا رہے تو وہ ”تو کون میں خوامخواہ“ والا کردار کیوں ادا کریں۔ محترمہ کا خون، خونِ خاک نشیناں تھا، خاک ہوا۔ لہذا آگے بڑھا جائے۔

ویسے بھی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ سنائے جانے کے فوری بعد عید کاسیزن شروع ہوگیا تھا۔ لوگ جاننا چاہ رہے تھے کہ قربانی کے جانوروں کا ریٹ کیا ہے۔ ہمارے مختلف النوع Celebrities نے قربانی کے لئے کون سے جانور خریدے۔ عید کیسے منائی۔ وغیرہ وغیرہ۔

Celebrities سے یاد آیا کہ ہمارے 24/7 چینلوں کی سکرینوں پر براجمان صداقت و امانت کی علامتیں بھی اب Celebrities ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بھی قربانی کے جانور خریدے ہیں۔ ہمارے ایک جید ساتھی اور میرے پسندیدہ صحافیوں میں سے ایک جناب طلعت حسین صاحب نے ان اینکرز کی قربانی کے جانوروں کی خریداری کے حوالے سے ایک زبردست پروگرام ریکارڈ کیا۔ ہمارا دل بہلایا۔

عید کے دنوں میں ہم نے بہت کوشش کی کہ طوفانی بارشوں کے باعث شہر کراچی میں بھی کچھ ایسے مناظر تلاش کرسکیں جو اس شہر کو امریکی شہر ٹیکساس کی طرح طوفانی بارش کا نشانہ بنا ہوا دکھائے۔ تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی صاحب نے ”متاثرین“ کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے ایک نہیں دو جدید ترین کشتیوں کا انتظام بھی کیا تھا۔ میں نے ان کشتیوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر دیکھی ہیں۔ ان کی مدد سے ”موت کے منہ سے “نکالے گئے افراد کی تعداد اگرچہ معلوم نہ ہوسکی۔ خبر البتہ یہ ضرورملی ہے کہ ہمارے ”نکمّے، بدعنوان اور بھتہ خور“ سیاست دان کراچی کو بارش سے بچانے کا کوئی مناسب بندوبست نہ کرپائے۔ بالآخر ذمہ داری پاک فوج اور رینجرز کے جوانوں ہی کو نبھانی پڑی۔ حالانکہ بارش کے پانی کی مناسب نکاسی کا بندوبست ان کا بنیادی فرض ہرگز نہیں تھا۔

پاکستان کو ویسے بھی اب فوری طورپر برما میں ظلم کا نشانہ بنے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لئے کچھ ٹھوس اقدامات اٹھانا ہے۔ دُنیا بھر کے مسلمانو ںکی معاونت کو ہمہ وقت تیار امیر جماعتِ اسلامی نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو اس ضمن میں ٹیلی فون کردیا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ فوری طور پر OIC کا اجلاس بلایا جائے۔

شام کا تاریخ شہر حلب خانہ جنگی کے باعث 3 سالوں تک دو متحارب خطوں میں تقسیم رہا۔ ”باغی“ قرار پائے علاقے میں تین لاکھ سے زائد ا فراد خوراک اور ادویات جیسی بنیادی ضرورتوں سے قطعاً محروم رہے۔ سراج الحق کے نیک دل کو ان کی فکر نے کبھی پریشان نہیں کیا۔ احتیاطاً یہ بات یاد دلانے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ایک مسلم ملک یمن بھی ہوتا ہے۔ ملکہ سبا کا ملک۔ اس تاریخی ملک پر بھی ان دنوں ایک جنگ مسلط ہے۔ ہزار ہا بچے مناسب خوراک اور پینے کا صاف پانی مہیا نہ ہونے کی وجہ سے اس ملک میں ہیضے کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ ان بچوں کی فکر ہمیں ہرگز محسوس نہیں ہوئی۔

OIC کے چند سرکردہ ممالک یمن پر ان دنوں مسلط ہوئی جنگ کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ یمن کی سرزمین پر ”اپنا حق“ ثابت کرنے میں مصروف یہ ممالک باہمی اختلافات کو بھلاکر روہنگیا مسلمانوں کی کیا مدد کرپائیں گے۔ یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہم محسوس ہی نہیں کریں گے۔ فقط ترکی ہی رہ گیا ہے جس کا صدر بنگلہ دیش سے التجا کررہا ہے کہ وہ اپنی سرحد کو روہنگیا مسلمانوں کے لئے کھول دے۔ انہیں پناہ گزین کیمپوں تک پہنچانے کا بندوبست کرے۔ صدر اردوان کا وعدہ ہے کہ ان کیمپوں پر خرچ ہوئے اخراجات اس کا ملک ادا کرے گا۔ بنگلہ دیش کی حکومت مگر اب بھی لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔

ہمارے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ایک مسلم NATO کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ اس NATO کے ممالک کے پاس یقینا وہ فوجی اور معاشی قوت موجودہے جوبرما کے سرحد کے اندر روہنگیا مسلمانوں کے لئے Safe Areas قائم کرسکتی ہے۔ برما مگر یمن نہیں۔ نہ ہی یہ شام ہے۔ نام نہاد مسلم NATO وہاں کے مسلمانوں کے بارے میں پریشان کیوں ہوگی؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں