عورتوں پر تشدد کے اثرات


tanveer Jahanتشدد بری چیز ہے۔ تشدد کا مطلب ہے جسمانی قوت استعمال کر کے کسی کو تکلیف دینا‘ مارنا پیٹنا‘ دھمکانا‘ خوفزدہ کرنا‘ زبردستی کوئی بات ماننے پر مجبور کرنا۔ تشدد کا متبادل ہے اپنی بات منوانے کے لئے بات کرنا‘ مکالمہ کرنا‘ دوسرے کی بات سننا‘ نرم لہجہ اختیار کرنا‘ دوسرے کی عزت کرنا‘ اصولی موقف اختیار کرنا‘ قانون کے دائرے میں رہنا‘ اپنا نقطہ نظر کھل کر بیان کرنا۔

کیا تشدد مناسب فعل ہے؟ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ کیا ہم پسند کریں گے کہ ہم پر تشدد کیا جائے؟ کیا ہم پسند کریں گے کہ ہمارے کسی عزیز‘ پیارے اور بزرگ ہستی پرتشدد کیا جائے؟ اگر ہمارا جواب نفی میں ہے تو تشدد نامناسب اور غلط رویہ ہے۔

کیا تشدد سے اچھے اور مفید مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بھی بہت سادہ ہے۔ اگر ہمارے مقاصد اچھے اور نیک ہیں تو ہم تشدد کی بجائے اپنے نقطہ نگاہ کھل کر‘ سرعام اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیوں بیان نہیں کرتے؟ انسانوں کو اکثریت بدنیت اور سازشی نہیں ہوتی۔ اگر ہمارا نقطہ نگاہ منصفانہ ہے تو لوگ ہماری حمایت کریں گے۔ معاشرتی تعاون انصاف کے حصول میں سب سے اہم ذریعہ ہے۔ تشدد کرنے والے کبھی یہ حوصلہ نہیں رکھتے کہ اپنے افعال، رویے اور طریقہ کار کو ہر سطح پر تسلیم کر سکیں جو لوگ گھر کی چار دیواری میں تشدد کرتے ہیں وہ اپنی گلی میں آ کر تسلیم نہیں کرتے کہ انہوں نے کسی پر تشدد کیا۔ گلی محلے میں طاقتور لوگ تشدد کریں تو مقامی انتظامیہ کے سامنے مکر جاتے ہیں۔ اپنے علاقے میں اثرورسوخ کی بنیاد پر کھلے عام تشدد کرنے والے کمرہ عدالت میں تشدد کے الزام پر قسمیں کھا کر اپنی بے گناہی کا اعلان کرتے ہیں۔ جابر حکومتیں ریاستی وسائل کے بل پر عوام پر سرعام تشدد کرتی ہیں مگر بین الاقوامی برادری کے سامنے تشدد کی حمایت سے گریز کرتی ہیں۔ جو ریاستیں اپنی طاقت کے بل پر کھلے عام زیادتی، تشدد اور جبر کا اعلان کرتی ہیں انھیں آئندہ تاریخ میں اپنے
گھناﺅنے کردار پر پردے ڈالنا پڑتے ہیں۔ تشدد جرم ہے، تشدد ناانصافی ہے، تشدد دن کی روشنی سے خوفزدہ رہتا ہے، تشدد انسانی ضمیر ہے منہ چھپاتا ہے۔ تشدد ناجائز ہے‘ انسانیت تشدد کو کبھی تسلیم نہیں کرتی۔ تشدد کو جلد یا بدیر رد کر دیا جاتا ہے۔ تشدد جھوٹ ہے اور ناحق ہوتا ہے۔ ناحق وقتی کامیابی تو حاصل کر سکتا ہے لیکن کبھی حق پر حتمی فتح نہیں پا سکتا۔

downloadطاقت کے بل پر اُصولوں کو روندنے کا نام تشدد ہے۔ تشدد قانون شکنی اور زبردستی کا نام ہے۔ اگر سماج کسی بھی طرح کے مقاصد کے لئے تشدد کا استعمال روا قرار دے لے تو اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ تشدد کا دائرہ اپنے بیان کردہ مقاصد تک محدود رہے گا؟ تشدد کا مطلب قوت کا بے روک ٹوک اور کسی اصول ضابطے کے بغیر استعمال ہے۔ تشدد کو ایک اُصول کے طور پر ماننے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طاقت، زبردستی، دھونس اور دھاندلی اخلاقیات اور قانون کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔ سماج میں مظلوموں کو اُن کا حق دلانے اور طاقتور کو زبردستی سے روکنے کی واحد ضمانت یہ ہے کہ معاشرہ مکمل طور پر تشدد کو رد کر دے۔ امن کمزور اور قانون پسند شہریوں کی طاقت ہوتا ہے۔ تشدد طاقتور قانون شکن اور بدمعاش لوگوں کا ہتھیار ہوتا ہے۔

تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ آج جس گروہ پر تشدد کیا جائے گا کل وہ دوسروں پر اس سے بھی زیادہ تشدد کرے گا۔ تشدد سے مزید تشدد جنم لیتا ہے۔ جس معاشرے میں تشدد کی اجازت دی جائے وہاں انصاف قانون کی حکمرانی‘ خوشی‘ امن‘ پیداوار‘ تخلیق‘ ترقی اور خوشحالی کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔

ایسا معاشرہ مہذب انسانی سماج کہلانے کا حق نہیں رکھتا جہاں تمام باشندے تشدد کے خوف سے مکمل طور پر آزاد نہ ہوں۔ معاشرے کی تعمیر کے قیام کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ فرد کو تشدد کے خوف سے نجات دلائی جائے۔

تشددپسند معاشرے کے باشندے بزدل، بددیانت اور بیمار ہوتے ہیں۔ پرامن معاشرے کے شہری بہادر،دیانت دار اور صحت مند ہوتے ہیں۔ تشددپسند معاشرے کے باشندے بے حس‘ اجڈ اور خودغرض ہوتے ہیں۔ پرامن معاشرے کے شہری دوسروں کے دُکھ درد کا احساس کرنے والے مہذب اور دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھنے والے ہوتے ہیں۔

تشدد پسند معاشرے کے باشندے غیر ذمہ دار،دوسروں کا استحصال کرنے والے اور کم عقل ہوتے ہیں۔ پرامن معاشرے کے باشندے ذمہ دار‘ محنتی اور ذہین ہوتے ہیں۔ تشددپسند معاشرے کے شہری قانون شکن‘ جرائم پیشہ اور منافق ہوتے ہیں۔ پرامن معاشرے کے شہری قانون پسند اور بااصول ہوتے ہیں۔ تشددپسند معاشرہ جلد یا بدیر زمین بوس ہو جاتا ہے۔ اس کے ادارے کام نہیں A Pakistani policewoman arrests human rights activist Asma Jehangir (C-L) as she talks to media representatives, in Lahore, 14 May 2005. Asma, an internationally known Pakistani human rights activist, was detained along with scores of supporters ahead of a rally in support of women's rights.کرتے۔ ایسے معاشرے میں وعدے پورے ہوتے ہیں اور نہ ہی اُمیدیں بر آتی ہیں۔ دوسری طرف پرامن معاشرہ ترقی کرتا ہے اس کے ادارے خوش اسلوبی سے اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ یہاں اجتماعی امیدیں پوری ہوتی ہیں اور اجتماعی ہدف حاصل ہوتے ہیں۔

کیا ہم ایک پرتشدد معاشرہ چاہتے ہیں؟ یقینا ہمارے جواب نفی میں ہو گا۔ اگر ہم پرتشدد معاشرہ نہیں چاہتے تو ہمیں پرامن معاشرہ تعمیر کرنے کا ڈھنگ سیکھنا چاہیے۔ ایسا معاشرہ جو تشدد‘ زبردستی اور مارپیٹ کی حوصلہ شکنی کرتا ہو۔ جہاں تشدد کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ ایسا پرامن معاشرہ تعمیر کرنے کا بنیادی اور اہم ترین طریقہ یہ ہے کہ عورتوں کے خلاف تشدد کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

مردوں اور عورتوں کے درمیان براہ راست رشتوں کی بنیادی شکلیں کیا ہیں؟ ماں‘ بہن‘ بیوی اور بیٹی۔ ہم میں سے ہرایک کو محبت کرنے والی ماں، خیال رکھنے والی بہن،دُکھ درد کی ساتھی بیوی اور معصوم بیٹی سے محبت ہوتی ہے۔ انسانی سماج میں ایسا کوئی مرد نہیں جسے ان چار رشتوں میں سے کم از کم ایک کے ساتھ گہری محبت نہ ہو۔ کیا ہم یہ پسند کرتے ہیں کہ ہماری عزیز خاتون کو کسی بھی صورت تشدد اور مارپیٹ کا نشانہ بننا پڑے؟

اگر ہمارا جواب نفی میں ہے تو ہمیں عورتوں کے خلاف تشدد اور مارپیٹ کی کبھی حمایت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہر ماں ایک بہن‘ بیوی اور بیٹی بھی ہوتی ہے۔ ہر بہن کسی نہ کسی کی ماں‘ بیٹی اور بیوی بھی ہوتی ہے۔ ہر بیوی کا ماں‘ بیٹی اور بہن کا روپ بھی ہوتا ہے۔ ہربیٹی کو ماں‘ بہن اور بیوی کا کردار بھی نبھانا ہوتا ہے۔

انسانی معاشرے کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ عورتوں کے بغیر انسانی سماج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ عورتیں محض معاشرے کی آدھی آبادی نہیں ہوتیں، وہ انسانی سماج کا ایک ایسا حصہ ہیں جو پوری طرح سے سماج کے تانے بانے میں رچا ہوا ہوتا ہے۔ عورتوں کو آدھی آبادی قرار دے کر دور دراز جزیروں میں نہیں بسایا جا سکتا۔ وہ ہمارے گھروں، گلی images (2)کوچوں اور ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ ہیں۔ اگر عورتوں کو تشدد اور خوف کے سائے میں جینا پڑے تو پورا معاشرہ تشدد‘ نفرت اور ناانصافی سے بھر جاتا ہے عورتوں پر تشدد ختم کیے بغیر معاشرے سے تشدد کی ثقافت ختم نہیں کی جا سکتی۔

انسانی سماج میں عورتیں اور مرد ایک دوسرے کی حیثیت اور حالات زندگی سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ تشدد‘ زیادہ اور مارپیٹ کے خوف میں زندہ رہنے والی عورت کو متشدد باپ‘ بھائی‘ بیٹے اور شوہر کا ورثہ دیتی ہے۔ ایک عورت پر تشدد کے نتیجے میں پورے معاشرے میں تشدد کی جڑی بوٹیاں اُگنے لگتی ہیں۔

عورتوں پر تشدد گھر سے شروع ہوتا ہے۔ ہم عام طور پر اس پر توجہ نہیں دیتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی کو اس کی خبر نہیں ہوتی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ جس گھر میں ماں‘ بہن‘ بیوی اور بیٹی پر تشدد کیا جاتا ہے وہاں تشدد پسند اور زبردستی کے عادی باپ‘ بھائی ‘ بیٹے اور شوہر پیدا ہوتے ہیں۔ گھر کی چار دیواری میں کیا جانے والا تشدد گلیوں، سڑکوں، عدالتوں، دفتروں‘ بازاروں حتیٰ کہ اسمبلیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ عورتوں پر تشدد کرنے والا گھرانہ متشدد معاشرے کی بنیادی اینٹ فراہم کرتا ہے۔

عورتوں پر تشدد کسی گھرانے کا نجی معاملہ نہیں ہوتا۔ درحقیقت تشدد سرے سے نجی فعل ہی نہیں ہے۔ تشدد ایک اجتماعی جرم ہے کیونکہ معاشرے میں کسی ایک فرد پر تشدد کے اثرات سب کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ ایک عورت پر تشدد سارے معاشرے پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی کہ عورتوں پر تشدد کی کسی بھی شکل کی نشاندہی کریں۔ عورتوں پر تشدد کہیں بھی ہو ہم اس کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ عورتوں پر تشدد کوئی بھی کرے اس کی حوصلہ شکنی کریں۔

٭٭٭


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “عورتوں پر تشدد کے اثرات

  • 08-03-2016 at 10:31 am
    Permalink

    Very well written, plz keep writing.

  • 08-03-2016 at 1:33 pm
    Permalink

    تشدد کی یہ تعریف بہت محدود اور سطحی ھے۔ ہر وہ عمل تشدد کی زمرہ میں آتا ھے جو بلادلیل زبردستی کیا جائے۔ اس تناظر میں عورت کا عورت پر تشدد، مرد کا عورت پر تشدد سے کئی گنا زیادہ ھے۔ اس معاشرہ کی ہر عورت تشدد کی کسی نہ کسی شکل کا شکار ھے جس میں عورت کا عورت پر تشدد کُل کے۹۰ فیصد سے زیادہ ھے

  • 08-03-2016 at 6:37 pm
    Permalink

    عافیہ صدیقیوں پر جو تشدد ہوتا ہے وہ بھی اسی زمرے میں اتا ہے یا تشدد کی وہی تعریف قابل قبول ہے جو عزت ماب عاصمہ جہانگیر اور فرزانہ باری عرف کوہستانی لڑکیوں کی ویڈیو والی سرکار کریں۔؟؟

Comments are closed.