محمد یوسف ایک علم دوست شخصیت


بالآخر محمد یوسف دنیا سے رخصت ہوگئے۔ دو ہفتے قبل ملاقات ہوئی تو زندگی میں پہلی دفعہ متفکر پایا یوسف پر امید اور رجائیت پسند انسان تھے شوگر کی وجہ سے بینائی متاثر ہوئی پھر ٹانگ سے محروم ہوئے۔ بیماریوں سے نبرد آزما رھے لیکن کبھی مایوس دکھائی نہ دیے لیکن اس روز کہنے لگے اب مرے لئے دعا کریں کہ میں دنیا سے پردہ کر جاؤں۔ گردوں کے امراض کا شکار ہونے کے بعد ان کی ہمت جواب دے گئی۔

محمد یوسف اسلام آباد سپر مارکیٹ میں کتابوں کی مشہور دکان مسٹر بکس کے مالک تھے میری خوش نصیبی کہ میرے والد محترم فتح محمد ملک کتابوں سے لگاؤ رکھتے تھے۔ ہر ماہ پہلی تاریخ کے بعد راولپنڈی صدر میں بک سنٹر سے کتابیں خریدتے مجھے اور طارق بھائی کو بھی ساتھ لے جاتے یوں ہم میں بھی ذوق مطالعہ پروان چڑھنے لگا۔ کبھی اسلام آباد چکر لگاتے تو مسڑ بکس بھی جانا ہوتا۔ یوسف صاحب ادیب اور شعرا کے قدر دانوں میں سے تھے۔ دکان میں قائم ان کے دفتر میں نشست ہوتی جس میں سیاستدان شاعر ادیب صحافی بیوروکریسی کے افراد شریک ہوتے۔ جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ تھی۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی گٹھن کو دور کرنے کے لئے اس طرح کی محفلیں کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھیں۔ اسلام آباد کے کافی شاپ وجود میں نہیں آئے تھے اور صحافی اتنے صاحب ثروت نہ تھے کہ بڑے بڑے ریستورانوں میں شامیں گزار سکتے۔

جب کبھی سنگ میل پبلی کیشن کے مالک نیاز احمد مرحوم اور ان کے بیٹے افضال احمد اسلام آباد آتے تو یوسف صاحب کے ساتھ خوب محفل جمتی پھر جب میں جرمنی پڑھنے کے لئے گیا تو ہر سال فرینکفرٹ بک فیر میں یوسف صاحب، نیاز احمد صاحب اور افضال احمد صاحب میرے پاس ہائڈل برگ آتے اور یوں شام کو خوب محفل جمتی۔ پاکستان واپس آنے پر یہ ملاقاتیں مزید باقاعدگی سے ہونے لگیں ۔

یوسف صاحب بتاتے کہ پہلے اہل سیاست باقاعدگی سے کتابیں خریدتے۔ محترمہ بینظیر بھٹو ان کی دکان پر باقاعدگی سے آتیں۔ میں نے نوازشریف کے بارے میں پوچھا تو مسکرانے لگے۔ اسلام آباد صحافیوں سے لبریز رھتا ہے لیکن چند صحافی ہی ان کی دکان پر باقاعدگی سے کتابیں خریدنے آتے جن میں رؤف کلاسرا، حامد میر۔ طلعت حسین، عامر متین، ہارون الرشید وغیرہ شامل ہیں۔

ہفتے کے روز کافی کا دور چلتا اور دوستوں سے ملاقات ہوتی۔ یوسف صاحب کو اللہ تعالیٰ نے دولت سے نواز رکھا تھا لیکن وہ درد دل کی دولت سے بھی مالا مال تھے۔ مجھ سے دریافت کرتے کہ کسی طالب علم کی فیس کا مسئلہ ہو تو آگاہ کیجیے گا اور یوں وہ کئی نادار طلبہ کی چپکے سے مدد کرتے۔ وہ صرف اپنی تجوریاں بھرنے کے قائل نہ تھے بلکہ سامان آخرت کا بندو بست کرنے میں بھی مصروف رھتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں