مرگ یوسف کی خبر۔۔۔۔


یہ خادم بہ سلسلہ روزگار پہلی بار سن دوہزار تین میں وطن بدر ہوا اور اسلام آباد مستقر ٹھہرا۔ اس کے بعد تو پاؤں کا ایسا چکر پڑا کہ ڈھاکہ، بشکک، جنیوا، سووا، ہونیارا، ٹونگا ٹاپو، بیروت، دوشنبے، نیروبی، مغادیشو۔۔ بقول محترم افتخار عارف۔۔ جہاں جہاں کی بھی مٹی ہمیں پسند آئی۔۔ وہیں وہیں پہ کیا دفن اک دفینہ خواب۔۔ اس خادم کو جس نشے کی طلب ہمہ وقت اور ہر جگہ رہتی ہے وہ کتاب کا نشہ ہے۔ عمر کوئٹہ میں گزری تھی جہاں اس جنسِ خوش انداز کے میخانے متعدد تھے۔ تعلیم کے لیے کراچی اور مانچسٹر میں مقیم رہا تو وہاں بھی جلد ہی مقامی کتب خانوں کا محاورہ ہوگیا۔ ساقی گردوں کی مہربانیوں کے قربان جائیے کہ تشنگی کے ادوار اگر کبھی آئے بھی تو مختصر ٹھہرے۔ بات چلی تھی اسلام آباد منتقلی سے اور پہنچ گئی میخانوں تک۔

اسلام آباد میں اولین قیام کی خوش بختی دیکھیے کہ سر چھپانے کو جو ٹھکانا ایک یار عزیز کی وساطت سے میسر آیا، وہ ایف سکس نامی علاقے میں تھا اور گلی کا موڑ مڑتے ہی اسلام آباد کی سب سے اچھی کتابوں کی دکان “مسٹر بُکس” سامنے آ جاتی تھی۔ روز روز کی آر جار کے سبب دکان کے کارپردازان سے چہرہ آشنائی ہوئی، کچھ کے نام بھی معلوم ہوئے۔ ایک روز دکان کے کاونٹر پر ہمہ وقت متحرک مالک یوسف صاحب نے خود ہی سلام میں پہل کی، اس خادم کے ذوق کتب بینی کی تعریف کی اور اہلکاران کو خصوصی التفات کی سفارش بھی۔ کہا جاتا ہے کہ “ماضی اچھا زمانہ تھا” ایک مہیب فکری مغالطہ ہے۔ ایسا ہی ہوگا، مگر کچھ مستثنیات میں شاید اسلام آباد کا وہ دور بھی شامل ہے کہ بڑے بڑے افسران، ادیب، دانش ور، سیاستدان، سماجی کارکن بغیر کسی خاص تکلّف اور حفظ مراتب کی پروا کیے کتابیں خریدنے آجایا کرتے تھے۔ ان میں سے بہت سوں سے، جن کے نام اور کام سے شناسائی تھی، مسٹر بُکس پر ہی چہرہ شناسی ہوئی۔

اس دوران بہت سا پانی پلوں تلے سے بہہ گیا، دربدری کا دائرہ وسیع ہوا اور وطن عزیز سے فراق تقریبا مستقل ہو گیا۔ جب کبھی اسلام آباد آنا ہوتا، مسٹر بُکس اور یوسف صاحب کی زیارت کے بغیر دورہ نامکمل لگتا۔ یہ خادم نوجوان سے جوان اور اب سفید ریش ادھیڑ عمر کے زمرے میں شامل اور ایک عدد بچے کا باپ بن گیا مگر یوسف صاحب سے تعلق مستحکم تر اور انفرادی سے بڑھ کر خاندانی ہو گیا۔ یوسف صاحب کی صحت بگڑتی گئی۔ دونوں پیروں سے معذور ہوے بینائی بھی متاثر ہوئی مگر اخلاق کا اعلی معیار برقرار رہا۔ دکان نئی جگہ پر آ گئی، آب و تاب میں اضافہ اور کتب کے ذخیرے میں کشائش ہوئی مگر ایک بات انتہائی حیران کُن رہی۔ دکان کے جن اہلکاران سے ڈیڑھ عشرے قبل ملاقات ہوئی تھی، ان میں سے اکثر آج بھی مسٹر بُکس کے ہی دامن سے وابستہ ہیں۔ جو لڑکے تھے وہ مرد، اور جو جوان تھے بزرگ ہو چکے ہیں۔ یہ یوسف صاحب کی خوش معاملگی کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔

ہمارے ہاں کاروباری طبقے کو عموما عافیت کوش سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ سماجی تبدیلی یا سیاسی جدوجہد میں حصہ لیتے بھی ہیں تو پس پردہ رہ کر۔ ایسے میں جنرل پرویز مشرف کی عدلیہ پر چڑھائی اور اس کے ردِ عمل میں پاکستان کی سول سوسائٹی کی مزاحمت کے دور میں ایک روز ایف سکس سے گزر ہوا تو کیا دیکھا کہ عین دکان کے سامنے ایک بینر پھڑپھڑا رہا ہے جس پر جلی حروف میں مرقوم ہے “جان چھوڑو مشرف – از طرف مسٹر بُکس”۔ بینر تو خیر نادیدہ قوتوں نے دیدہ قوتوں کو استعمال کرکے کچھ دیر بعد اتروا لیا مگر یوسف صاحب کی جرات اور فکری سلاست کا سکہ دل پر جم گیا۔ سوشل میڈیا سے پتا چلا کہ وہ مردِ متواضع بالآخر خالق کے حضور پہنچ گیا ہے۔۔۔ عجب آزاد مرد تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں