بھائی جان ٹرمپ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں


کونسا ملک سپر طاقت ہے اس کا اندازہ ہم کیسے لگائیں گے۔ آسان سا طریقہ ہے آپ بس یہ دیکھیں کہ کیا وہ ملک اپنی غلط بات دوسرے سے منوا سکتا ہے۔ امریکی کہتے ہیں کہ وہ صرف شک کی بنیاد پر بھی کہیں بھی حملے کرنے کی پہل کا اختیار رکھتے ہیں۔ کوئی ہے روکنے والا ایبٹ آباد واقعہ کو یاد کریں عالمی قوانین کو دیکھیں پھر غور کریں کہ طاقت کیا ہوتی ہے۔ مذہبی جذبات ایک سائیڈ پر رکھیں اپنا ایمان تازہ کریں طاقت کا ایک ڈائلاگ پڑھ کر۔ بیٹھے بٹھائے کسی قوم کو اک دن اک اونٹ سوار پیغام دے کہ منٹ مارو، پیسے کڈھو یا پھر گھل لو۔

یہ آدھا سا جملہ انسان کو حاصل بے پناہ طاقت کا بڑا ہی زوردار اظہار ہے۔ ہم اسی طاقت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں جو طاقت ہمیں خود پر حاصل ہوتی ہے۔ نہیں سمجھ آئی یار آپ پھنسائیں گے وسی بابے کو لیکن چلیں پھر بھی کہہ دیتے ہیں۔ یہ ہماری فوج کی اپنی اندرونی طاقت ہے جس سے وہ سسٹم کو نیچے لگا لیتی ہے۔ اگلی بات بھی سنیں کہ یہ ہمارے سیاستدانوں کی اپنی اندرونی مردانہ کمزوری ہے جو انہیں تھلے لگا دیتی ہے۔ مطالعہ پاکستان پڑھ پڑھ کر ہماری تربیت کیونکہ بہت اچھی ہوئی ہے اس لیے ہم طاقت کے ننگے مظاہروں کو بدمعاشی بھی کہتے ہیں۔

امریکی جب اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو وہ اصل میں ان کے اندرونی نظام کی مضبوطی کا اظہار ہے۔ ایسا ملک جس کا کوئی سرحدی تنازعہ نہیں۔ جس نے اپنی سرزمین پر صدیوں سے کوئی جنگ نہیں لڑی۔ جو دنیا میں ہر چیز کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ وہ بدمعاشی کی حد تک پہنچی ہوئی طاقت کا مظاہرہ کر ہی سکتا ہے۔ کیا بھارت ایسی طاقت رکھتا ہے جواب ہے بالکل نہیں۔ کیا وہ اس طاقت کا مظاہرہ کر سکتا ہے تو اس کا بھی یہی جواب ہے کہ بالکل نہیں۔

یہاں آپ کو ایک بہت مقامی مثال بھی دینی ہے کہ طاقتور کو چیلنج کون کرتا ہے۔ ایک بدمعاش کو گرمی زیادہ لگی، سرکار پر غصہ آیا تو باہر نکل کر اس نے باڑہ روڈ بلاک کر دی۔ پولیس پاس جانے سے گھبرائے کہ کون لڑے اس پاگل سے لوگ الگ پریشان۔ اتنے میں ایک آفریدی ملک صاحب اپنی پرانی گاڑی میں تشریف لائے۔ حالات کا جائزہ لیا صورتحال سمجھی گاڑی سے نکلے بدمعاش کو ہاتھ کے اشارے سے پاس بلایا۔ اس سے پوچھا کہ بچے ایک بہت ضروری کام ہوتا ہے جو ہر انسان سویرے سویرے کرتا ہے۔ تم بھی وہ کرتے ہو یا نہیں بدمعاش نے گھبرا کر کہا کہ جی کرتا ہوں۔ ملک صاحب نے کہا جب وہ کام کرتے ہو تو پھر بدمعاشی کرنا بنتا نہیں ہے۔ اس بیچارے ڈان کو بھی پتہ تھا کہ ملک صاحب ویسے تو خالی ہاتھ ہیں اکیلے بھی ہیں لیکن ان کو چھیڑنے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پھر اک ننھا منا سا قبائلی لشکر اس کو سارے پاکستان میں ڈھونڈتا پھرے گا، اس نے خاموشی سے راستہ چھوڑ دیا۔

بھارت ہے تو ابھرتی ہوئی معاشی اور فوجی طاقت۔ پھر بھی اس کی ساری اوقات ہم پاکستانیوں کو معلوم ہے۔ جب ہم اس کو طاقت سمجھتے ہیں نہیں تو اس کی بدمعاشی مان بھی نہیں سکتے۔ وجوہات بھی ویسی سی ہی ہیں جو ملک صاحب نے ہمارے لوکل بدمعاش سے پوچھی تھیں۔ لیکن صورتحال بدل رہی ہے وہ ایسے کہ دنیا کی چھوٹی اور بڑی طاقتیں ہمارے خلاف اکٹھی ہو رہی ہیں۔ امریکی صدر نے ایک آتشیں سے تقریر کر دی ہے جس میں پاکستان کے خلاف کھل کر بولے ہیں۔ انہوں نے کچھ نیا نہیں کہا یہی سب باتیں پہلے وہ بند کمروں میں کرتے تھے۔

پاکستان کی پوزیشن پر غور کرتے ہیں۔ ستر سال سے ہم اپنے سب سے بڑے ہمسائے بھارت کے ساتھ گھول کرنے میں مصروف ہیں۔ چالیس سال سے افغانستان میں ہم نے اپنے پٹھے اتار رکھے ہیں جو وہاں پہلوانی کر رہے ہیں۔ دس سال ہم نے روس کے ساتھ کبڈی کی ہے۔ پچھلے سترہ سال سے ہم امریکیوں افغانستان میں لڑنے کی تربیت دے رہے ہیں ان کی طاقت آزما رہے ہیں۔ یہ سب اب پک چکے ہیں ہمارے خلاف اکٹھے ہو کر واویلا کر رہے ہیں۔ اس سب میں نیا کیا ہے یہ سب تو ہم چالیس سال سے بھگت رہے ہیں۔ ہم اس دوران کافی ترقی کر گئے ہیں فوجی حساب سے بھی اور معاشی حساب سے بھی۔

اب ذرا تاریخ میں ڈانگ پھیرتے ہیں۔ افغانستان واحد ملک ہے جس نے پاکستان کو تسلیم کرنے کی مخالفت کی تھی۔ افغانیوں کو کوئی خواب نہیں آیا تھا نہ انہیں کسی نے ورغلایا تھا۔ وہ غلط یا صحیح یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے پختون علاقوں پر ان کا حق ہے۔ برطانیہ بہادر انہیں پاکستان میں شامل کر کے زیادتی کر رہا ہے۔ لیاقت علی خان کو قتل کرنے والا سید اکبر افغانی تھا۔ قوم پرست افغان حلقے اس پر فخر وغیرہ بھی کر لیتے ہیں۔ یہ مسلسل پاک افغان محاذ آرائی تھی جس کا علاج بھٹو نے افغانستان میں مذہبی شدت پسندی کی سپورٹ میں ڈھونڈا تھا۔ پاکستانی اداروں نے یہ پالیسی بعد میں زود اثر جان کر مستقل اختیار کر لی تھی۔

پاکستان میں آج کل سول ملٹری قیادت امریکی دھمکیوں کے بعد سر جوڑ کر بیٹھی ہے۔ ایک بات تو واضح کے ہم بدمعاشی نہیں مانیں گے۔ کوئی جتنا بھی تگڑا ہو جو مرضی کہتا رہے یکطرفہ مسلط کردہ فیصلے نہیں مانے جائیں گے۔ پاکستان تب ہی یاری دوستی والا ہاتھ پکڑائے گا جب ہمارے بنیادی مسائل پر بات ہوگی اور ان کا حل پیش کیا جائے گا۔ وہ مسائل افغانستان سے متعلق ہوں یا بھارت کے ساتھ ان پر بات کرنی پڑے گی۔

ہماری قیادت جتنا مرضی صاحب بنتی رہے ان کی اکثریت کھوتی سکولوں سے پڑھی ہوئی ہے۔ مرغا بن کر استادوں سے نامناسب مقام پر ڈنڈے کھا کھا کر جوان ہوئی ہے۔ آپ ہمارے ساتھ ایسا کیا نیا کریں گے جو پہلے نہیں ہوا۔ ڈاکٹر قدیر والا آئٹم ہو چکا۔ سلالہ اور ایبٹ آباد ہو چکے۔ ملا عمر کی خبر لیک ہو چکی۔ ملا اختر ڈرون سے ہٹائے جا چکے۔ اب کیا ہے زنبیل میں؟ ہمارے پاس تو چالیس سال کا تجربہ بھی ہے اوپر نیچے ہوتے رہنے کا۔ ملکہ ترنم کا لطیفہ یاد آ گیا کہ بس ایسے ہی باتیں بنی ہوئیں ہیں۔ انہوں نے نہیں بھی گایا تو گاتی ہیں کہ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 334 posts and counting.See all posts by wisi