65 ء کی جنگ، عنایت حسین بھٹی کے 250 روپے اور ریڈیو پاکستان


ہمارے گلوکاروں، شاعروں، موسیقاروں اور ریڈیو پاکستان نے 1965 کی جنگ میں قوم کو ایسے انمول اور لاجواب قومی نغمے سنائے جن کی خوشبو،جذبات، ساز اور آواز کو آج بھی سن کر لہو گرما جاتا ہے۔ جذبہ حب الوطنی میں ایسے ترانے تخلیق کیے گئے جن کا آج بھی کوئی ثانی نہیں۔ 1965 کی جنگ میں ریڈیو پاکستان لاہور سے عنایت حسین بھٹی کی منفرد اور گرج دار آواز میں ایک ترانہ گوجتا ہے ”اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا ” اور اسی جنگی ترانے سے پاکستان میں قومی موسیقی کے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح شاعروں، فنکاروں موسیقاروں نے ریڈیو پاکستان کا رخ کیا اور مشہور و معروف گلوکار سلیم رضا بلا معاوضہ سب سے پہلے ریڈیو پاکستان پہنچے اور سب سے زیادہ قومی نغمے ریکارڈ کروائے۔“زندہ رہے گا سیالکوٹ تو زندہ رہے گا” اسٹوڈیو سے لے کر جنگی محاذ تک اپنی آواز کا جادو جگاتے رہے۔

ںاصر کاظمی کے قلم اور عنایت حسین بھٹی کی آواز نے سرگودھا کے باسیوں کو زندہ دلی کا ایسا خراج تحسیں پیش کیا جس کی آج تک کوئی مثال نہیں ملتی “زندہ دلوں کا گہوارہ سرگودھا شہر ہمارا”۔ پاکستان اور بھارت کی جنگ جاری تھی کہ عنایت حسین بھٹی نے اپنا تمام سرمایہ پاک فوج کے دفاعی فنڈ میں جمع کروا دیا اور اپنے پاس صرف 250 روپے رکھے جب ان کی اہلیہ نے ان سے پوچھا کہ اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو پھر کیا ہوگا ؟ جواب میں بھٹی صاحب نے فرمایا کہ اگر میرا وطن ہی نہ رہا تو پھر کیا ہوگا ؟ اس لیے میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے، اور وطن پر سب کچھ قربان۔

6  ستمبر 1965 کو ایک طرف پاک فوج نے اپنا مورچہ سنبھالا تو دوسری طرف شاعروں، موسیقاروں اور گلوکاروں نے بھی اپنا محاذ ریڈیو پاکستان لاہور پر سنبھالا ہوا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ نغمے فضاؤں میں ہتھیار بن کر گونج رہے ہوں۔ صوفی تبسم کے تحریر کردہ گیت ”اے پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے” کو میڈم نور جہاں نے اپنے درد بھری آواز میں گا کر پوری قوم کو جذبہ حب الوطنی سے سرشار کر دیا اور خود انمول بن کر آسمان کو چھونے لگیں۔

65  کی جنگ میں مہدی حسن بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے

” اپنی جاں نذر کروں،اپنی وفا پیش کروں

قوم کے مردِ مجاہد تجھے کیا پیش کروں”

حقیقت میں مسرور انور صاحب نے اس گیت کو لکھ کر قوم کو اپنا سلام پیش کیا ہے اور مہدی حسن صاحب نے اسے گا کر اصل میں وطن عزیر پر جان نچھاور کر کے دکھائی ہے۔

 اسی طرح مشیر کاظمی صاحب نے بھی ایک شاہکار نغمے کو جنم دے کر اپنے آپ کو امر کر دیا؛

 ”اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں”

 ٹھیک اسی طرح نسیم بیگم نے بھی اس نغمے کو گا کر اس کا حق ادا کیا اور یہ سچ ثابت کر دیا کہ جو بھی مجاھد اس نغمے کو سنے گا یقیناً وہ جام شہادت مانگے گا۔ نذیر بیگم بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں اور پنجابی میں” بلے بلے لاھورئیے سیالکوٹیے” کو ایسا گایا جس کو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر رشید انور کی “جگنی پاکستان دی اے” نے عالم لوہار کو پورے عالم میں مشہور و معروف کردیا۔

حمایت علی شاعر کے قلم سے لکھا ہوا تاریخی ملی نغمہ “جاگ اٹھا ہے سارا وطن” جس کو مسعود رانا اور شوکت علی نے گایا اور مقبولیت کے عروج پر پہنچایا۔

دیکھا جائے تو 65 کی جنگ میں میڈم نورجہاں، مہدی حسن، نسیم بیگم، مسعود رانا، تاج ملتانی استاد امانت علی، روشن آرا بیگم، طفیل نیازی, عالم لوہار اور شوکت علی سلیم رضا،احمد رشدی، ناہید نیازی،عشرت جہاں، نگہت سیما، مالا بیگم اور اس وقت کے تمام شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں نے نایاب شاہکاروں کو جنم دیے کر شہیدوں، غازیوں اور عوام کو ایسا خراج تحسین پیش کیا جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔

65 کی جنگ میں ریڈیو پاکستان اور ہمارے شاعروں، فنکاروں اور گلوکاروں کے کردار کو کبھی جدا نہ کیا جاسکے گا،کیونکہ ریڈیو پاکستان سے گونجنے والے ملی نغموں اور جنگی ترانوں نے اس جنگ کو پاکستانیوں کے لیے راہ حق اور وفا کی جنگ بنا دیا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں