گوری لنکیش کو سیکولر خیالات کی بنا پر قتل کیا گیا


انڈیا میں بائیں بازو کی ایک سرکردہ صحافی گوری لنکیش کو ملک کی جنوبی ریاست کے شہر بنگلور میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا ہے۔ 55  سالہ گوری ہفت روزہ ’لنکیش پتریک‘ میگزین کی مدیر تھیں جسے ان کے والد پی لنکیش نے شروع کیا تھا۔

گوری نے حال میں مصنفہ اور صحافی رانا ایوب کی کتاب ‘گجرات فائلز’ کا کناڈا میں ترجمہ کیا تھا۔ رانا ایوب نے بی بی سی کے نامہ نگار کلدیپ مشرا کو بتایا کہ’گوری کو گزشتہ کچھ برس سے دائیں بازو کی تنظیموں سے مبینہ طور پر دھمکیاں مل رہی تھیں اور بی جے پی کے ایک لیڈر نے ان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔’

رانا ایوب کہتی ہیں کہ’میں ان کے لیے خوف محسوس کرتی رہتی تھی کیونکہ ان کے خلاف کیس فائل ہوا تھا اور ابھی ابھی ان کے نام ورانٹ جاری ہوئے تھے۔ مجھے ڈر لگتا تھا کہ انہیں ایسے کام اور کرنے چاہیئں یا نہیں۔ ان کا قتل انہی لوگوں کا کام ہے جو گوری لنکیش کی آواز سے ڈرتے تھے۔’

رانا ایوب کا کہنا ہے کہ’بنگلور میں یا ملک میں وہ اکیلی خاتون تھیں جن کی آواز دائیں بازو کی قوتوں کے خلاف اٹھ رہی تھی اور ان کے قتل میں انہی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ رانا ایوب کا کہنا ہے کہ گوری نے کئی بار انہیں بتایا تھا کہ ان کے نظریات، مضامین اور تقاریر پر انہیں قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ’میں حال میں کینیڈا گئی تھی اور جانے سے پہلے میری گوری لنکیش سے بات ہوئی تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں بنگلور جا کر اپنی کتاب کی تشہیر کروں۔ منگل کو میں واپس آئی اور میں نے اپنے خلاف دائیں بازو کے پروپیگنڈہ کے بارے میں ایک پوسٹ میں لکھا تھا۔‘ ’اس کے فوراً بعد ہی انہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ آپ ڈریں نہ اور جو کر رہی ہیں اسے بے خوف ہو کر کرتی رہیں۔‘

آر ایس ایس، بی جے پی اور اس کی محاذی تنظمیمیں حالیہ دنوں کئی ریاستوں میں ہندوئیت کے اپنے ایجنڈے پر کھل کر سامنے آ گئی ہیں

گوری لنکیش کے بارے میں مصنف منگلیش ڈبرال نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ان کا قتل یقیناً نظریات کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ گزشتہ دو سال سے دائیں بازو کی قوتوں کے نشانے پر تھیں اور بالآخر وہ ان کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے ٹویٹ کی کہ دابھولكر، كلبرگي، پانسرے اور ب گوری، اگر ایک طرح کے لوگ مارے جا رہے ہیں تو کس قسم کے لوگ قاتل ہیں

انھوں نے بتایا کہ ‘اپنے والد پی لنکیش کی طرح گوری بھی ایک بے خوف صحافی تھیں۔ کناڈا صحافت اور ادبی صحافت میں ان کے ہفت روزہ ‘لنکیش پتریکے’ کا اہم کردار رہا۔’

منگلیش بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو برس سے انھیں قتل کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔’گوری نے بار بار لکھا کہ میں ایک سیکولر ملک کی شہری ہوں اور میں کسی بھی طرح کے مذہبی تعصب کے خلاف ہوں۔’

وہ کہتے ہیں کہ کرناٹک میں بہت جلد انتخابات ہونے والے ہیں، اس کی وجہ سے وہاں دائیں بازو کی طاقتیں اور فاشسٹ شدت پسند بہت فعال ہو چکے ہیں۔ سنگھ پریوار کے لوگ کسی بھی طرح سے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو دھمکی دینا، دھمکانا اور دہشت پیدا کرنا اور لوگوں کو خاموش کرانے کی کوشش کرنا اس کا ایک طریقہ ہے۔’

مگلش بتاتے ہیں کہ’ لنکیش کا میگزین کافی مقبول تھا اور اس کا معاشرے پر ایک اثر تھا۔ اس اثر کو مٹانے کے لیے ان طاقتوں کو گوری کو ہی ختم کرنا پڑا۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘اس سے پہلے وہاں ایم ایم كلبرگي کا قتل ہوا تھا۔ نریندرا دابھولكر اور گووند پانسرے کا قتل ہوا، اس سے پتہ چل رہا ہے کہ ان کو قتل کرنے کا طریقہ بھی ایک جیسا ہی ہے۔ کئی اداروں کا نام سامنے آیا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔’

ان کا الزام ہے کہ ‘علاقائی سطح پر کئی طاقتیں سر اٹھا رہی ہیں اور انہیں حمایت حاصل ہے۔ کئی بار ان ہلاکتوں پر سناتھن سنستھا کا نام سامنے آیا ہے، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔’ وہ کہتے ہیں کہ ‘اس کے برعکس حال میں گوا میں ہندو کانفرنس منعقد ہوئی جس میں سناتھن سنستھا نے شرکت کی۔ یہ صاف ہے کہ انہیں براہ راست حمایت حاصل ہوئی ہے۔’

‘یہ فکر کی بات ہے کہ ہمارے وقت کی حکمراں سیاست اس طرح کے واقعات کو انجام دینے والی قوتوں کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5746 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp