خواہشات، اولاد اور زندگی


”باجی بڑی بیٹی کی شادی کرنی ہے، میرے حالات تو آپ کو معلوم ہی ہیں، مہربانی کر کے کچھ امداد کر دیں، دعائیں دوں گا ہمیشہ“۔ رکشے والے نے سکول پہنچانے سے پہلے ہی راستے میں اپنی درد بھری کہانی موقع ملتے ہی سنا ڈالی۔ گھر کے یہی حالات بتا کر ہر مہینے مجھ سے پیسے لیتا رہتا تھا۔

اِس کو خدا ترسی کہہ لیں یا رحمدلی کہ میری کوشش ہوتی تھی کہ اس کے گھر کے حالات کی وجہ سے اسکی مدد کرتی رہوں۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے اسکا فرمائشی پروگرام بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اب مجھے غصہ آنے لگا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے مجھے بیوقوف بنایا جا رہا ہو۔ میں جانتی تھی کہ یہ ضرورت مند پھر بھی غصہ آتا تھا۔ پھر جب اس کی جگہ خود کو رکھ کر سوچتی تو دل ملامت کرتا تھا۔

غصہ شاید اس بات پر بھی آتا تھا کہ یہ اپنا خرچ اپنی آمدن کے مطابق کیوں نہیں کر لیتا۔ اس کا نام افضل تھا اس نے جب اپنی بیٹی کی شادی کے لیے مدد چاہی تو میں نے اسے کوئی فوری جواب نہیں دیا۔ حامی تو بھر لی تھی پر یہ نہیں بتایا تھا کہ کتنے پیسے کب تک دے سکتی ہوں۔

نیکی کا کہنا سوچنا آسان ہے کرنا بڑا مشکل ہے۔ اپنی کمائی آسانی سے اس کے ہاتھ جاتے سوچ کر اسے کوسنا شروع کر دیا۔ چھ بیٹیاں دو بیٹے پیدا کرنے پر اس کو اپنے دل میں خوب سنائیں۔ آخر اسے کس نے کہا تھا کہ وہ آبادی بڑھا کر قوم پر احسان عظیم کرے۔

یہ سب سوچتے دھیان کب اس کی کہانی کی جانب چلا گیا پتہ ہی نہیں لگا۔ پہلی بیوی سے اس کی اوپر تلے تین بیٹیاں ہوئی تھیں۔ اس کو بیٹے کی خواہش تھی چھوٹی بیٹی سال کی بھی نہیں تھی جب اس کی بیوی پھر امید سے ہو گئی۔ اس کی بیوی کو بھی بیٹے کی خواہش تھی۔ ساس اور شوہر کے طعنوں کا ڈر جو تھا۔ خوراک کی کمی آرام کی کمی گھر کے کاموں کا بوجھ ڈاکٹر سے مشورے کی زحمت نہ کرنے کی وجہ سے بندی کی حالت خراب ہوتی رہی۔

وہ صبر کرتی رہی لیکن ہونی ہو کر رہی۔ جب اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا تو وہ مردہ بچے کو جنم دے کر خود بھی مر گئی۔ قدرت کے رنگ بھی نرالے ہیں اس بار لڑکا ہوا تھا۔ لیکن وہ بچہ اپنی سانسیں لکھوا کر لایا ہی نہیں تھا۔ بیوی کو مرے دو مہینے بھی نہیں ہوئے تھے کہ بچوں کو سنبھالنے کے لیے افضل نے ایک جوان بیوہ سے دوسری شادی کر لی۔ اس نے بچوں کو ایسے سنبھالا کہ مزید تین لڑکیوں اور دو لڑکوں کو جنم دیا۔ افضل کی پہلی بیوی سے تینوں بیٹیاں بری مشکل سے صرف پرائمری تک پہنچ سکیں۔ سب سے بڑی بیٹی کسی کے گھر کام کر کے باپ کا ہاتھ بٹا رہی تھی۔ افضل کو اسی کی شادی کے لیے اب مدد کی ضرورت تھی۔

بات سخت ہے پر کہنی پڑے گی کہ خواہشات نفسانی کے چکر میں اولاد پیدا کرتے جائیں تو زندگی بد مزا ہو کر رہ جاتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں