مذہبی نفرت کی بھینٹ چڑھنے والے بچے شمرون مسیح کی موت پر سوشل میڈیا خاموش


17 سالہ شمرون مسیح کا ایم سی ماڈل بوائز گورنمنٹ ہائی اسکول واقع ماڈل ٹاؤن بوریوالا ضلع وہاڑی کی نہم کلاس میں پہلا دن تھا۔ 23 اگست 2017 کا دن تھا۔ جیسے ہی شمرون مسیح اپنی کلاس میں داخل ہوا استاد نے اسے سب کے سامنے“چوہڑا“ کہہ کر مخاطب کیا۔ اپنے والد کے پیشے کی نسبت سے شمرون کو ملنے والا یہ نام اس کے لیے نیا نہیں تھا۔ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا اس کے پورے خاندان کو اسی نام سے پکار کر نفرت کا نشانہ بنایا جانا معمول تھا۔ اس لیے شمرون نے کلاس میں ٹیچر کی نفرت آمیز باتیں خاموشی سے سنیں اور بیٹھنے کے لیے نشست دیکھنے لگا۔

اسے آخری رو میں خالی جگہ نظر ائی۔ وہاں بیٹھنے کی کوشش کی کلاس فیلوز نے اسے “ چوہڑا“ کہتے ہوے ساتھ بٹھانے سے انکار کر دیا تو شمرون نے کلاس روم کے کونے میں الگ ہو کر بیٹھنے میں عافیت سمجھی۔ اگلے دو تین دن اس نے نفرت آمیز رویہ کا بڑے صبر سے سامنا کیا مگر جب ہم جماعتوں کا مذہب کی تبدیلی کے لیے بھی دباؤ سخت سے سخت ہوتا گیا تو بلاخر تنگ آ کر اس نے اسکول آنا چھوڑ دیا ۔

تیس اگست کو والدین کے مجبور کرنے پر شمرون کو اسکول حاضر ہونا پڑا۔ آج اس کے ساتھیوں کی نفرت بہت شدید تھی۔ وقفہ کے دوران الگ گلاس سے پانی پیتے ہوے اس کا ہاتھ “مسلمانوں کے گلاس” کو چھو گیا۔ یہ منظر دیکھتے ہی نفرت سے بھرے لڑکوں کی ٹولی نے اس کو گھونسوں، لاتوں سے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ اسکول کے دوسرے طالب علم بھی مار پیٹ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوے زمین پر گرے شمرون کے جسم پر اچھلنے کودنے لگے۔ تشدد کے اس دلسوز منظر کو اسکول احاطہ میں موجود درجنوں اساتذہ اور سٹاف نے اطمینان سے دیکھا لیکن کسی نے “چوہڑے “ کی جان بچانے کی معمولی سی بھی کوشش نہیں کی ۔ تیس اگست دنیا اور اسکول میں شمرون مسیح کا آخری دن ثابت ہوا۔ گھر والوں کو خبر ہونے تک ادھ موے شمرون کا جسم اسکول کے احاطے میں پڑا دم توڑتا رہا۔ روتی بلکتی ماں، بے بس باپ اور دیگر لواحقین کوئی رد عمل دیے بغیر شمرون کے نیم مردہ جسم کو ہسپتال لے گۓ یہاں اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی  ۔۔۔

اس المناک کہانی کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اسے نہ تو مین سٹریم میڈیا نے کوئی کوریج دی اور نہ ہی انسانی حقوق کی پاسداری کا علم اٹھانے والے لبرل دانشوروں اور این جی اوز نے اس ظلم کے خلاف پرنٹ اور سوشل میڈیا پر کسی قسم کا احتجاج کیا۔ گویا پاکستان میں غریب مسیحیوں کو اب مسلمانوں کے تعلیمی اداروں و سماجی زندگی کا حصہ بننے کی کسی طور اجازت نہیں۔

شمرون مسیح کی موت چونکہ طالب علموں کے ہجوم کے ہاتھوں ہوئی ہے اس لیے بہت جلد اس کے قتل کی فائل بھی داخل دفتر ہو جائے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

زوار حسین کامریڈ کی دیگر تحریریں
زوار حسین کامریڈ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں