دشمن کی گولیاں ، ہمارے سینے اور خارجہ پالیسی


گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان کے وزرائے دفاع و خارجہ کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات سے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہونے کی بجائے مزید دھندلا گیا ہے۔ اس دوران چین میں دنیا کی 5 ترقی پذیر معیشتوں کی سربراہی کانفرنس برکس BRICS کے اعلامیہ میں بعض گروہوں کو عالمی دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ اس فہرست میں لشکر طیبہ، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کے نام بھی شامل تھے۔ پاکستان میں بعض حلقوں کو اس بات پر حیرت تھی کہ چین نے جو پاکستان کا قریب ترین حلیف ہے، کس طرح ایسے انتہا پسند گروہوں کا نام اس فہرست میں قبول کر لیا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان سے اپنی سرگرمیاں کرتے ہیں۔ اس اعلامیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کل وزیر دفاع خرم دستگیر نے اس بات کو مسترد کیا تھا کہ کوئی دہشت گرد گروہ پاکستان میں موجود ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم کل رات ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے اعتراف کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے واضح موقف کو تسلیم کروانے کےلئے لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ ہم نے 2014 میں دہشت گردی کے خلاف جو قومی ایکشن پلان تیار کیا تھا، کیا اس پر پوری طرح عمل کیا جا سکا ہے۔ اگر ہم اپنے اہداف پورے نہیں کریں گے تو دنیا ہم پر انگلیاں اٹھاتی رہے گی۔

ملک کے دو اہم ترین وزیروں نے ایک انتہائی حساس اور اہم معاملہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے دو مختلف طریقے سے پاکستان کا موقف سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ دونوں وزیر دراصل دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب ، رد الفساد اور خیبر۔4 کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ البتہ اپنے تبصرے میں وزیر دفاع خرم دستگیر ان کمزوریوں کی پردہ پوشی کر رہے تھے جن کی وجہ سے پاکستان کو عالمی برادری میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قبل ازیں امریکہ ، مغربی ممالک ، بھارت اور افغانستان پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی طرف سے ہمسایہ ملکوں میں تخریب کاری کا الزام لگاتے تھے لیکن چین ہر سطح پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا تھا۔ حتیٰ کہ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کروانے کی بھارتی کوششوں کو بھی اب تک چین کے ویٹو کی وجہ سے ناکام بنایا گیا ہے۔

اس حوالے سے یہ سوال بجا طور سے سامنے آتا رہا ہے کہ اگر پاکستان ہمہ قسم کے دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہے تو وہ ایک خاص گروہ کے سربراہ کو عالمی فہرست میں شامل کرنے پر کیوں اپنی سفارتی صلاحیتیں ضائع کرتا ہے۔ البتہ گزشتہ دنوں چین کے شہر ژیا مان میں چین ، روس ، برازیل ، جنوبی افریقہ اور بھارت پر مشتمل گروہ برکس کے اعلامیہ میں جیش محمد اور لشکر طیبہ کا ذکر یہ واضح کر رہا ہے کہ چین بھی پاکستان کی حکمت عملی سے پوری طرح مطمئن نہیں ہے۔ بھارت برکس کی سابقہ کانفرنسوں میں بھی لشکر طیبہ اور جیش محمد کا نام دہشت گرد گروہوں میں شامل کروانے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن چین نے کبھی اس کی اجازت نہیں دی۔ تاہم اس بار دیگر دہشت گرد گروہوں کے علاوہ پاکستان سے متحرک گروہوں کا ذکر برکس اعلامیہ میں شامل کیا گیا۔ اس طرح ان پانچوں ملکوں نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ عالمی امن کےلئے خطرات سے آگاہ ہیں اور ان گروہوں کے خلاف کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو دہشت گردی کے ذریعے امن و امان خراب کرنے اور انسانوں کو ہلاک کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر دفاع عالمی سطح پر اپنے قریب ترین حلیف ملک چین کے بدلتے ہوئے رویہ کا نوٹس لینے اور قومی حکمت عملی میں مناسب تبدیلی کا اشارہ دینے میں ناکام رہے۔ خرم دستگیر کے علاوہ وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں برکس اعلامیہ کو مسترد کیا اور افغانستان سے کارروائیاں کرنے والے گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں سے پاکستان کو لاحق خطرات کا حوالہ دیا۔ یہ بیان بھی لشکر طیبہ اور جیش محمد کے حوالے سے برکس ممالک یا عالمی تشویش کا جواب دینے میں ناکام رہا۔ فی الوقت وزارت خارجہ اور وزیر دفاع کا بیان ہی دراصل پاکستان کے سرکاری موقف کے طور پر سامنے آیا ہے۔ البتہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے منگل کی رات ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران یہ اعتراف کرکے کہ پاکستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرکے پاکستان دنیا کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنے عزم سے آگاہ کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔ ایک مختلف اور زیادہ قابل فہم موقف اختیار کیا ہے۔ گو کہ یہ بیان ملک کے وزیر خارجہ نے دیا ہے لیکن بوجوہ اسے مملکت کی پالیسی قرار دینا مشکل ہے۔ نہ ہی اس کی حیثیت کسی پالیسی بیان کی ہے کیونکہ خواجہ آصف نے ایک ٹیلی ویژن ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے یہ باتیں کہی ہیں۔ انہوں نے خود ہی واضح بھی کیا کہ وہ کوئی سیاسی بیان نہیں دے رہے بلکہ حقائق بیان کر رہے ہیں۔ تاہم وزیر دفاع کی طرف سے دہشت گردوں کی موجودگی سے انکار کے بعد وزیر خارجہ کا یہ کہنا کہ پاکستان کو عالمی رائے کو متاثر کرنے کےلئے کچھ نیا کرنا پڑے گا، یہ ضرور واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی حکومت غیر واضح حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ۔ ایک اہم ترین معاملہ پر حکومت پاکستان کا غیر واضح موقف ملک کی مشکلات میں اضافہ کا سبب ہی بنے گا۔

یہ صورتحال ایک بار پھر اس سچ کو سامنے لائی ہے کہ اگرچہ ملک کی منتخب حکومت میں بعض عناصر پاکستان کی موجودہ سلامتی پالیسی کو تبدیل کرنے کے خواہشمند ہیں لیکن وہ ملک کی فوجی اسٹیبشلمنٹ کے لائحہ عمل اور طریقہ کار سے سرتابی کی مجال نہیں کر سکتے۔ اس لئے غیر رسمی طور پر تو صورتحال کو تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار سامنے آتا ہے لیکن خواہ ان خیالات کا اظہار ملک کا وزیر خارجہ ہی کیوں نہ کر رہا ہو، وہ بھی اپنی وزارت کے اعلان پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ایسے میں اہل پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا یہ کہنے اور ماننے پر مجبور ہوتی ہے کہ ملک کے فیصلے نہ منتخب حکومت کرتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ بلکہ یہ فوجی قیادت کی طرف سے نافذ کئے جاتے ہیں۔ موجودہ نام نہاد جمہوری انتظام میں چونکہ فوج کے فیصلوں پر عملدرآمد کی ذمہ داری بہرحال سول حکومت پر عائد ہوتی ہے اس لئے نہ قومی ایکشن پلان پر خلوص نیت سے عمل ہوتا ہے اور نہ حکومتی وزرا کے بیانات میں تال میل دکھائی دیتا ہے۔ یہ صورتحال عوام کے خوف و سراسمیگی میں اضافہ کرنے کے علاوہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔ حتیٰ کہ اب اس کے قریب ترین حلیف بھی بالواسطہ ہی سہی اپنی مایوسی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔

انتہا پسندی کے حوالے سے ہونے والے ان مباحث ہی کے دوران پاک فوج کی سرکردگی میں آج یوم دفاع پاکستان منایا جا رہا ہے۔ 52 برس قبل 6 ستمبر 1965 کو ہونے والی افسوسناک جنگ کے حوالے سے کئی ہفتے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ISPR کی طرف سے متعدد ٹیلی ویژن اشتہارات جاری کئے گئے جن میں قومی جذبہ کو ابھارنے اور دشمن سے نبرد آزما ہونے کی تلقین کی گئی تھی۔ اسی حوالے سے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ بیان سامنے آیا ہے جس میں وہ فوجی دستوں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ :’’ہمارے دشمن خواہ مشرق (بھارت) میں ہوں یا مغرب (افغانستان) میں، کان کھول کر سن لیں کہ تمہارا بارود اور گولیاں ختم ہو جائیں گی لیکن ہمارے جوانوں کے سینے کم نہیں ہوں گے‘‘۔ یہ بیان حب الوطنی اور فوج کی اولاالعزمی کی خواہ کیسی ہی نمائندگی کرتا ہو لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں سستی جذباتیت اور دین و ملت کے گمراہ کن تصور کو عام کرنے کی وجہ سے انتہا پسندی کا زہر اب مدرسوں سے نکل کر یونیورسٹیوں تک پہنچ چکا ہو، اس کے منفی مہلک اثرات کا اندازہ کرنا بھی ضروری ہے۔ فوج کے سربراہ ضرور اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھائیں لیکن وہ دشمن تلاش کرنے اور ان کے ارادوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے امن ، مفاہمت اور بقائے باہمی کا پیغام عام کریں تب ہی پاکستان کے ارادوں کے بارے میں خوش گمانیاں جنم لیں گی۔

پاکستان دشمنوں میں گھرا ہے کیونکہ اس نے دوستی کےلئے کوئی اقدام کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ پاکستان دنیا میں تنہا ہے کیونکہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے سے انکار کرتا ہے۔ پاکستان میں جمہوری حکومت عضو معطل ہے کیونکہ پاک فوج قومی سلامتی کو اپنی اجارہ داری سمجھتی ہے۔ یہ چلن آگے بڑھنے اور ترقی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے ٹھوکر کھا کر گرنے کا سبب بنے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 933 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali