وقت نے بھٹو اور ضیا کو غلط ثابت کیا


ترجمہ: لائبہ زینب

قائد اعظم کے مطابق پاکستان میں ’’اقلیتیں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں، ان کی حفاظت کی جائے گی۔ ان کا دین یا ایمان یا عقیدہ محفوظ ہوگا۔ ان کی عبادت میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں ہو گی۔ وہ اپنے دین، عقیدے، زندگی اور ثقافت کے حوالے سے مکمل طور پر محفوظ ہوں گے۔ وہ اپنی ذات یا عقیدے پر کسی فرق کے بغیر ہر لحاظ سے پاکستان کے شہری ہوں گے۔‘‘ یہاں بھی قائد کا مطلب ہندو، سکھ یا عیسائی سب ہی تھا اور انہوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ہم اس اقلیت و اکثریت کے پیمانے سے نکلنا چاہیئے کیونکہ اب ہمارے پاس ایک آزاد ریاست ہے جہاں سب آزاد ہیں۔ مگر ان کی وفات کے فوراً بعد ہی کچھ مذہبی گروہوں نے پاکستان کو مذہبی ریاست بنانے کی کوشش کی جب کہ وہ پاکستان کے قیام کے بھی خلاف تھے جیسے کہ جماعت الاحرار، دیوبندی علماء کا ایک گروہ اور جماعت اسلامی۔

ان کے نشانے پر سب سے پہلے احمدی تھے اور کسی طرح پرتشدد جدوجہد اور اسلامی ممالک کے آمروں کو ملا کر ذولفقار علی بھٹو نے 7 ستمبر 1974 میں دوسری آئینی ترمیم کی اور فخریہ کہا ’’ہم نے قادیانی  مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کر دیا ہے۔‘‘ اس کے بعد پاکستان ایک کافر فیکٹری بن گیا، جہاں ریاست تمام انسانی حقوق کے بنیادی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے  ایک شخص کے مذہب کا تعین کر کے اسے مسلط کر سکتی ہے۔ یہیں سے فساد کا آغاز ہوا اور پھر ضیاالحق نے آرڈیننس بیس نافذ کر کے احمدیوں کو اپنے مذہبی عقائد پر عمل پیرا ہونے سے روک دیا جس کے مطابق احمدیوں کو مسلمانوں کی طرح ظاہر کرنے کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اس قانون کے مطابق احمدیوں کو تین سال کی قید ہو سکتی ہے اگر وہ صریحاً یا غیر صریحاً خود کو مسلمان ظاہر کرے، یا کہے، یا اپنے عقیدے کا حوالہ اسلام دے، یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا تعلیم دینے کی کوشش کرے، یا دوسروں کو اپنا عقیدہ ماننے کی دعوت دے، اپنے الفاظ، بولے یا لکھے گئے، یا ظاہری نمائندگی یا کوئی بھی ایسی حرکت جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرے۔”

دیگر پابندیوں کے ساتھ ساتھ احمدیوں کے لئے اپنی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ کہنا یا عبادت کے لئے پکارے جانے کو ’’اذان‘‘ کہنا بھی غیر قانونی قرار دیتا ہے۔

1984 میں آنے والے اس قانون نے مشتعل ہجوموں اور احمدی مخالفوں کے لئے احمدیوں پر حملوں کے لئے مزید راہیں ہموار کر دیں۔ تب سے ہزاروں احمدی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور ان کے خلاف اس قانون کو ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہر سال 7 ستمبر کر مولوی اور ریاست اس فیصلے کا جشن مناتی ہے اور احمدیوں کے خلاف مختلف کانفرنسوں کا انعقاد کرتی ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس وقت نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کام کرنے والی حکومت اور سکیورٹی ادارے کہاں ہیں؟ لاہور یا راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں آپ دکانوں پر بینر اور سٹیکر دیکھ سکتے ہیں اور احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر سننے کے لئے کسی بھی جلسے یا کانفرنس کا حصہ بن سکتے ہیں۔

مگر قسمت نے بھٹو ازم اور ضیاالحق کے مشن کا ساتھ نہیں دیا جیسا کہ اس نے کہا تھا ’’میں تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک اس دنیا سے قادیانیت (احمدیت) کا کینسر نہیں ختم کر دیتا۔‘‘ حال ہی میں لندن میں احمدیوں کے سالانہ کنونشن میں دعوی کیا گیا کہ دنیا بھر کے بے شمار ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد احمدی کمیونٹی کا حصہ بنے ہیں اور ہر سال دنیا بھر سے کم و بیش اتنے ہی افراد اس کمیونٹی کا حصہ بنتے ہیں۔ چند برس پہلے پاکستان کی پنجاب اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والے قانون سازوں نے برطانیہ میں تب کے پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن کے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ احمدیوں کو پاکستان میں اقلیت قرار دینے کا فیصلہ غلط تھا۔

احمدیہ کمیونٹی کی جانب سے منعقد کئے جانے والا سالانہ کنونشن سفارت کاری اور امن کی گفتگو کرنے کے لئے نیا مقام بن گیا ہے۔ ’’جلسہ سالانہ‘‘ کے نام سے منعقد کئے جانے والا کنونشن لندن، برطانیہ، امریکہ، جرمنی اور دنیا بھر کے مختلف مقامات میں ہوتا ہے۔ کینیڈا کا سالانہ کنونشن مسی سگا کینیڈا کے بین الاقوامی سنٹر میں منعقد ہوتا ہے۔ اس تین روزہ تقریب میں کینیڈا کے سابقہ وزیراعظم سٹیفن ہارپر، موجودہ وزیر اعظم جسٹن تریڈو، کونسل جنرل آف پاکستان اصغر علی گولو، کونسل جنرل آف انڈیا اکھہیلیش مشرا اور دیگر مقامی سیاستدان شرکت کرچکے۔ شرکا میں کینیڈا، امریکہ اور دنیا بھر سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔

ایک جلسے میں جب پاکستانی سفیر کے سامنے نعرہ تکبیر لگایا گیا اور انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ’’پاکستانیوں کو اتنی بڑی تعداد میں دیکھنا میرے لئے خوش آئند ہے، پاکستان کے تمام سفارت کار جو کینیڈا جیسے ملک میں بہترین کام کر رہے ہیں، اور میں دنیا بھر سمیت کینیڈا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے پاکستانیوں کی نمائندگی کرنے میں فخر محسوس کرتا ہوں۔‘‘

پس تلواریں سر تو جھکا سکتی ہیں مگر ذہن نہیں، طاقت زمین تو فتح کر سکتی ہے مگر دل نہیں۔ ہم نے ایک کمیونٹی پر بندشیں لگائیں، انہیں صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں مگر پھر بھی وہ ترقی کرتی گئی۔ آج پاکستان میں اسماعیلی برادری اور ہزارہ برادری کو ان کے عقائد کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ آج اہل تشیع افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، کیا یہی ہمارا ملک بنانے کا مقصد تھا؟

ہمارے ساتھ متحدہ ہندوستان میں ایک کمزور اقلیت کی طرح کا سلوک ہوا، ہم نے آزادی کے لئے جدو جہد کی اور اس خوبصورت ملک کو حاصل کیا مگر یہ مذہبی انتہا پسندی اس ریاست کے لئے باعث شرم اور ناکامی ہے۔ ہم نفرت پر مبنی تقریر کو ختم کرنے کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ سلمان تاثیر، سبین محمود اور شہباز بھٹی جیسے لوگ جو بولنے کی جسارت کرتے ہیں انھیں مار دیا جاتا ہے۔ قدرت نے بھٹو اور ضیاء کے پاکستان کی مخالفت کی اور انشااللہ پاکستان ایک عظیم پرامن مملکت ضرور بنے گا مگر اس کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب کہ ہم انتہاپسندوں کے خلاف آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں اگلی نسل کو تعلیم کے زور سے آراستہ کرنا ہوگا اور ملاؤں کو اس فسادی رویے سے باز کرنا ہوگا۔ کیا ہم میں کوئی ایسا ہے کہ ان ظالمانہ قوانین کے خلاف آواز اٹھائے؟ انسانی حقوق کے ادارے یا سپریم کورٹ؟ میں اپنا مقدمہ یہاں ختم کرتا ہوں!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں