رہائی کے لئے ایک نظم


عشرت آفریں

ishrat afreenاسیر لوگو اُٹھو
اور اُٹھ کر پہاڑ کاٹو
پہاڑ مردہ روایتوں کے
پہاڑ اندھی عقیدتوں کے
پہاڑ ظالم عدالتوں کے
ہمارے جسموں کے قید خانوں میں
سینکڑوں بے قرار جسم
اور ….اُداس روحیں سسک رہی ہیں
ہم اِن کو آزاد کب کریں گے
ہمارا ہونا ہماری اِن آنے والی نسلوں کے واسطے ہے
ہم اِن کے مقروض ہیں
جو ہم سے وجود لیں گے
نمود لیں گے
کٹے ہوئے ایک سر سے لاکھوں سروں کی تخلیق
اب کہانی نہیں رہی ہے
لہو میں جو شے دھڑک رہی ہے
گمک رہی ہے
ہزاروں آنکھیں
بدن کے خلیوں سے جھانکتی بے قرار آنکھیں
یہ کہہ رہی ہیں
اسیر لوگو
جو زرد پتھر کے گھر میں یوں بے حسی کی چادر لپیٹ کر
سو رہے ہیں
اُن سے کہو
کہ اُٹھ کر پہاڑ کاٹیں
ہمیں رہائی کی سوچنا ہے


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “رہائی کے لئے ایک نظم

  • 08-03-2016 at 10:33 am
    Permalink

    Wah!

Comments are closed.