برِصغیر میں مسلم خواتین کی تعلیم کے اولین علمبردار


اردو کے ممتاز صحافی اور ادیب بے بدل عبدالمجید سالک مرحوم کی کتاب “یارانِ کہن”سے اقتباس۔

mumtaz03سید ممتاز علی1862ءمیں راولپنڈی میں سید ذولفقار علی کے ہاں پیدا ہوئے۔اُردو ، فارسی اور عربی کی تعلیم دیوبند میں گھر پرحاصل کی۔ فیروزپور اور لاہور میں انگریزی تعلیم پائی اور پنجاب چیف کورٹ میں مترجم کی حیثیت سے نوکر ہو گئے۔ مولوی صاحب کی طبیعت میں تحقیق،تنقید اور تجسس کا مادہ بہت زیادہ تھا۔ تصنیف وتالیف اور مطالعے کا بے حد شوق تھا اس لیے سرکاری ملازمت چھوڑ کر رفاہِ عام پریس کے نام سے ایک چھاپا خانہ قائم کردیا۔
مولوی صاحب علم ِ دین سے بھی بہرہ ور تھے اور اکابرِدیوبند سے تعلقات مخلصانہ رکھتے تھے ۔ اِس کے ساتھ ہی سرسید، حالی، شبلی اور نذیر احمد سے بھی بے تکلفانہ رسم و راہ تھی۔مولانا محمد حسین آ زاد کو ادب وانشا میں اُستاد مانتے تھے۔ اِن گوناگوں اثرات کی وجہ سے اُن میں بے نظیر توازن و اعتدال پیدا ہو گیا تھا۔ چنانچہ جب اُنھوں نے مسلمان عورتوں کی تعلیم و تہذیب کا بیڑا اُٹھایاتو اُن کی مساعی میں اُس بے اعتدالی کا نام و نشان بھی نہ تھا ۔ وہ اساسی اعتبار سے مسلمان عورت کا دائرہ¿ عمل اندرونِ خانہ سرگرمیوں یعنی خانہ داری، تربیتِ اولاد اور تہذیب واطوار ہی تک محدود سمجھتے تھے۔
میں ستمبر 1915ءمیں مولوی صاحب کے ہفتہ وار اخباروں یعنی تہذیبِ نسواں اور پھول کا ایڈیٹر مقرر ہوا ۔ مسائلِ نسواں میں مولوی صاحب کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ وہ بیواو¿ں کے نکاحِ ثانی اور پردے کے متعلق رضامندی کو شرط قرار دیتے تھے،اگر بیوہ رضامند ہو تو اُس کا نکاح ِثانی کیا جائے ورنہ نہیں۔ کوئی عورت پردہ نہ اُٹھانا چاہے تو مختار ہے اور اگر ترک کرنا چاہے تو اُسے روکنا درست نہیں۔ایک دفعہ میں نے ”آزادی¿ نسواں “ کی ترکیب لکھ دی تو کہا” میاں سالک! آزادیِ نسواں کی جگہ حریت نسواں لکھا کرو۔ ’حریت‘ ایک دینی اصطلاح ہے جس کا مقصود ہے دین کے ودیعت کردہ بنیادی حقوق ۔آزادی کا لفظ غلط فہمی پیدا کرتا ہے“۔
مولوی ممتاز علی صاحب نے لڑکیوں کے لیے”تہذیبِ نسواں“ جاری کیا تو اِس جہالت کے زمانے میں شور مچ گیا اور مولوی صاحب کے نام گالیوں سے بھرے خطوط آنے لگے۔اُس وقت بڑے بڑے مدعیان روشن خیالی بھی عورتوں میں تعلیم کی تحریک کو شبہ کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ مولوی صاحب نے اپنی مشہور کتاب ”حقوقِ نسواں“ لکھی تو اُس کا مسودہ لے کر سر سید کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ سر سید اِس مسودے کو جستہ جستہ مقامات سے دیکھنے لگے لیکن مولوی صاحب نے دیکھا کہ سر سید کے چہرے کا رنگ متغیر ہو رہا ہے۔آخر سرسید نے اِس مسودے کو چاک کرکے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور کہا” ممتاز علی! ہماری حکومت چھن گئی،ہماری تہذیب مٹ گئی ۔اب کیا ہماری عورتیں بھی ہمارے قبضے سے نکل جائیں گی؟“ مولوی صاحب نے بہتیرا کہا کہ میں نے اِس کتاب کی تحریر میں شریعتِ مقدسہ سے ذرا بھی تجاوز نہیں کیا لیکن سر سید کا مزاج رو بہ راہ نہ ہوا اور مولوی صاحب ناچار اپنے مسودے کے ٹکڑے ردی کی ٹوکری سے اُٹھا کر چلے آئے۔آج اِس کتاب کو پڑھیے تو تعجب ہوتا ہے کہ اِس میں وہ کونسی بات تھی جس نے سر سید جیسے روشن خیال اور تجدد پسندشخص کو بھی چراغ پا کر دیا۔
حقیقت میں اِن دونوں بزرگوں کے نقطہ¿ نظر میں فرق تھا۔سر سید کا خیال تھا کہ پہلے مسلمان لڑکوں کو جدید تعلیم سے بہرہ ور کیا جائے ،اِس کے بعد وہ مناسب حد تک اپنی عورتوں کو بھی پڑھا لیں گے۔ مولوی ممتاز علی کہتے تھے کہ ماں بچے کی تعلیم و تربیت کا سر چشمہ ہوتی ہے اِس لیے لڑکیوں کو بہترین تعلیم دینی چاہیے تاکہ آئندہ نسل تعلیم و تہذیب سے بہرہ اندوز ہو سکے۔
اکبر ا لہ آبادی جدید تعلیم اور مغربی تہذیب کے بے حد سرگرم نکتہ چیں تھے۔ آپ نے دو شعر لکھے جن میں روئے سخن سر سید اور سید ممتاز علی کی طرف تھا۔ (اکبر ا لہ آبادی کے اشعار ’ہم سب‘کی پالیسی کے مطابق بر بنائے فحاشی حذف کیے جا رہے ہیں ۔ مدیر ) مولوی صاحب نے اکبر الہ آبادی سے شکایت کی تو اُنھوں نے جواب میں لکھا کہ میں ترقی و تہذیب کا ہرگز مخالف نہیں ہوں، جن نظموں کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں پبلک کے خیالات موزوں کر دیے گئے ہیں۔ میں کیا اور میرے اشعار کیا، شعرا قافیہ پیمائی ہی کیا کرتے ہیں۔دُنیا کے قوانین شعر سے نہیں چلتے۔زمانے کا رنگ اور زمانے کی ضرورتیںفیصلہ کرتی ہیں اور اِ س وقت بھی کر رہی ہیں۔
مولوی ممتاز علی نے حمایتِ نسواں کے جرم میں لوگوں کی گالیاں کھائیں، لعنت ملامت اُٹھائی لیکن اپنی پوری زندگی اِس مظلوم طبقے کی حمایت میں بسر کردی جسے اِسلام نے تو پورے حقوق عطا کیے تھے لیکن مسلمانانِ ہند نے غلامی و کس مپرسی کے گڑھے میں گرا رکھا تھا۔ مولوی صاحب نہایت روشن دماغ ماہرِ تعلیم بھی تھے چنانچہ سال ہا سال تک مسلم یونی ورسٹی کورٹ اور پنجاب یونیورسٹی سینیٹ کے رکن رہے اور شعبہ¿ تعلیمات کی راہنمائی کرتے رہے۔
مولوی ممتاز علی کی اہلیہ محترمہ محمدی بیگم پڑھی لکھی ،شائستہ اور درد مند خاتون تھیں۔اُنھوں نے لڑکیوں اور عورتوں کے لیے متعدد پاکیزہ کتابیں شائع کیں ۔ مولوی صاحب کی نگرانی میں دارالاشاعت پنجاب نے عورتوں اور بچوں کے لیے سیکڑوں کتابوں کی صورت میں معیاری ادب شائع کیا۔ اگر مولوی سیدممتاز علی اپنی پوری زندگی تہذیبِ نسواں میں صرف نہ کر دیتے تو اُن کی قوتِ تحریر بیسیوں کتابیں تصنیف کر ڈالتی۔مولوی ممتاز علی کی ساری زندگی تعمیری و اصلاحی ادب کے فروغ اور مسلمانوں کی اصلاحِ معاشرت میں صرف ہوئی۔اُن کی خدمات سرسید کے حلقہ¿ رجال کے کسی بزرگ کے کارناموں سے کم نہیںہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “برِصغیر میں مسلم خواتین کی تعلیم کے اولین علمبردار

  • 08-03-2016 at 1:32 pm
    Permalink

    محترم، خود احتسابی بیحد اچھا عمل ہے لیکن اکبر آلہ آبادی کے اشعار کو بر بنائے فحاشی آپ نے اپنی تحریر سے خارج کرکے کچھ اچھا تاثر قائم نہیں کیا ۔ اب یہی سوچ رہا ہوں کہ اکبر کے وہ کونسے اشعار ہو سکتے ہیں جو ’’ ہم سب ‘‘ کی پالیسی کے تحت ’’ فحاشی ‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں ؟

  • 08-03-2016 at 2:23 pm
    Permalink

    واقعی اگر اشعار سالک صاحب کی کتاب “یاران کہن” میں جگہ پا چکے ہیں تو پچاس برسوں بعد “فحاشی” کے زمرے میں کیوں؟ تجسس پیدا کر دیا مدیر محترم نے۔

Comments are closed.