دلہن کے دام، منکوحہ گرل فرینڈ اور غدار اسمبلی


adnan Kakar

چینی دلہنیں

ابن انشا بھی کیا خوب آدمی تھے۔ زمین کا گز بنے ابن بطوطہ کے تعاقب میں دنیا گھومتے رہے۔ کبھی امریکہ نکل جاتے کبھی روس۔ کبھی برطانیہ پہنچتے کبھی امریکہ۔ کبھی جاپان جاتے اور کبھی چین چل پڑتے۔ ہم تو یہی سمجھتے تھے کہ ان کی شاعری کا حاصل ’کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا‘ ہے، لیکن گزشتہ دنوں کچھ ایسی خبریں سننے کو ملیں کہ علم ہوا کہ اصل کمال تو انہوں نے اس شعر میں کیا ہے

اس حسن کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانا کیا

chinese-bride2

بخدا یہ خیال ان کو اسی وقت آیا ہو گا جب انہوں نے چینی لنڈورے دیکھے ہوں گے جو جیب میں دھیلا نہیں رکھتے اور پھرتے ہیں دلہن کی تلاش میں۔ ہمارے برصغیر میں تو یہ رواج ہے کہ لڑکی کو جہیز میں خوب مال و دولت لانا پڑتا ہے۔ نہ لائے تو پھر اسے سسرال کی طرف سے تیل کا پھٹا ہوا چولہا دینے کی روایت بھی گرم رہی ہے۔ مگر ادھر چین اور عربستان کے لوگوں کے دماغ الٹے ہیں۔ ادھر لڑکے کے ذمے ہے کہ وہ لڑکی کے باپ کو خوب مال و دولت دے تو پھر ہی شادی کر سکتا ہے۔ اب حسن کے خزانے تو وہاں چین میں بہت ہیں، لیکن بہت سے لوگ انہیں بس دیکھ ہی سکتے ہیں، جیب میں چھونے کا پیسہ نہیں رکھتے۔

سنا ہے کہ اچھے وقتوں میں چین میں شادی کرنا بہت آسان ہوا کرتا تھا۔ پرانے وقتوں میں ایک تھرماس یا چارپائی کے بدلے دلہن مل جاتی تھی۔ پھر قیمتیں بڑھیں تو لڑکی کی قیمت فرنیچر، ریڈیو اور گھڑی وغیرہ ہو گئی۔ پھر فریج یا ٹی وی دے کر بیوی پائی جا سکتی تھی۔ اب اتنی زیادہ نقد رقم دینی پڑتی ہے جو بہت سے جوانوں کی حیثیت سے زیادہ ہے۔ قیمت اس لیے بڑھ رہی ہے کہ لڑکیاں کمیاب ہوتی جا رہی ہیں۔

chinese-bride3

کمیونسٹ انقلاب کے بعد چیئرمین ماؤ نے سوچا کہ جتنی آبادی ہو، ملک اتنا طاقتور ہوتا ہے، سو انہوں نے قوم کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر لگا دیا۔ تیس سال سے بھی کم عرصے میں ہی چین کی آبادی دگنی ہو کر ایک ارب ہو گئی۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ نے 1978 میں اقتدار سنبھالا تو انہیں زیادہ آبادی کے نتائج بھگتنے پڑے۔ آبادی کم کرنے کی مہم شروع ہوئی اور ایک جوڑے کو ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت ملی۔ دیہاتی جوڑے کے اگر پہلا بچہ لڑکی ہوتا تھا تو اسے دوسرے بچے کی اجازت تھی۔ اس سے زیادہ بچوں کو ریاست قتل کر دیتی تھی۔

اب چینی بھی ہم دیسیوں کی طرح بلند اقدار رکھتے ہیں۔ وہاں بھی لڑکے بڑھاپے کا سہارا بنتے ہیں اور لڑکیاں نرا بوجھ ہوتی ہیں۔ اب اگر لڑکی پیدا ہو جاتی تو وہ اسے مار ڈالتے تاکہ دوبارہ کوشش کر کے اپنے بڑھاپے کا سہارا پیدا کر سکیں۔ اس لیے لڑکے زیادہ ہو گئے اور لڑکیاں کم۔ گزشتہ سال یہ پالیسی ختم کر دی گئی۔ لیکن بچارے وہ نوجوان اور ادھیڑ عمر کیا کریں جن کے پاس پیسہ نہیں ہے اور لڑکیاں مہنگی اور کمیاب ہیں۔ اوپر سے ان بچاروں کا نام بھی ’گنجی شاخیں‘ رکھ دیا گیا ہے۔

عربی دلہنیں

arab-bride

بہرحال، چین کے علاوہ دلہنوں کی قیمت بے تحاشا بڑھنے کی یہ صورت حال عربستان میں بھی پیدا ہو رہی ہے۔ وہاں بھی یہی رواج ہے کہ دلہن پانے کے لیے اس کے والد بزرگوار کو زر کثیر ادا کرنا پڑتا ہے۔
العربیہ کہتا ہے کہ ماہرین کے مطابق سعودی شہریوں کی بڑی تعداد ناقابل برداشت مصارف زندگی کے ہاتھوں مجبور ہو کر نکاح مسیار کو باقاعدہ شادی پر ترجیح دینے لگے ہیں۔

جدہ میں او آئی سی کا ایک ذیلی ادارہ مجمع الفقہ الاسلامی ہے جو کہ عالم اسلام کے نامور علما و فقہا پر مشتمل ہے۔ اس میں پاکستان کی نمائندگی گزشتہ دو عشروں سے مفتی تقی عثمانی کر رہے ہیں۔ اس ادارے کا اٹھارہواں اہم اجلاس نکاح کے مروجہ نئے طریقوں سے متعلق مکہ مکرمہ میں منعقد ہوا۔ اس کے بعد مندرجہ ذیل متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

’ایسا عقد زواج جس میں عورت رہائش اور خرچ اور تقسیم یا کچھ دوسرے حقوق اپنی مرضی و خوشی سے ختم کر دے کہ مرد جب چاہے دن یا رات میں اس کے پاس آ سکتا ہے اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ ایسا عقد نکاح جس میں عورت اپنے گھر والوں کے ساتھ میکے میں ہی رہے اور میاں بیوی جب چاہیں عورت کے میکے یا کسی اور جگہ مل لیں۔ اس طرح خاوند بیوی کو نہ تو رہائش دے اور نہ ہی خرچ وغیرہ۔ یہ دونوں عقد اور اس طرح کے دوسرے عقد اس وقت صحیح ہوں گے، جب اس میں شادی کے ارکان اور شروط موجود ہوں اور کوئی مانع نہ پایا جائے، لیکن یہ خلاف اولی ہے۔ ایسا نکاح جائز ہے، چاہے اسے مسیار کا نام دیا جائے یا کچھ اور۔ شرط یہ ہے کہ نکاح کے تمام شرعی تقاضوں کو پورا کیا گیا ہو۔ ایجاب و قبول بھی ہو، لڑکی کے سرپرست بھی ہو (سرپرست کی شرط احناف کے نزدیک ضروری نہیں ہے) اور دو گواہ بھی موجود ہوں۔ نکاح کے لیے کوئی محدود وقت مقرر نہ
کیا گیا ہو‘۔ (بحوالہ روزنامہ امت نو دسمبر 2014)۔

یعنی دونوں اپنی اپنی زندگی الگ الگ جیتے ہیں، جب کبھی دل چاہے کچھ دیر کے لیے کہیں مل لیتے ہیں، اور پھر اپنی اپنی راہ پر چل پڑتے ہیں۔ نکاح متعہ اور نکاح مسیار میں فرق یہ ہے کہ نکاح مسیار میں ساتھ رہنے کی مدت کا تعین نہیں کیا جاتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں یہ سب جان کر لگتا ہے کہ یہ مسیاری منکوحہ نہ ہوئی، گرل فرینڈ ہو گئی۔ کیا اس سے زیادہ گھریلو ماحول مغرب کی سول یونین والی گرل فرینڈ کو میسر نہیں ہے؟

iran-cafe-couple

ادھر ایران میں نکاح ’مسیار‘ اور ’متعہ‘ کو باقاعدہ قانونی حیثیت دلوانے کے لیے پارلیمنٹ میں جون 2014 ایک نیا مسودہ قانون پیش کیا گیا جس میں تجویز کیا گیا کہ منتخب ایوان ملک میں عارضی نکاح یعنی ’متعہ‘ اور سنیوں کے لئے نکاح مسیار کو منظم کرنے کے لیے باقاعدہ مراکز قیام کرنے کی اجازت فراہم کرے۔ ایرانی پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق اسی فیصد غیر شادی شدہ خواتین ایسی ہیں جو کہ بوائے فرینڈ رکھتی ہیں۔

مسیار۔ ایک ایسی شادی جس میں بس جنس ہی ہوتی ہے، کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے۔ خاندان کا تصور نہیں ہوتا ہے۔ عموماً لڑکا لڑکی الگ الگ گھروں میں رہتے ہیں۔ کوئی خاندانی نظام نہیں ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے بعد اب چین، عرب، ایران اور توران کی ہانکنا چھوڑتے ہیں اور وطن عزیز کی طرف پلٹتے ہیں۔

تحفظ نسواں اور غدار اسمبلی

پنجاب کی قانون ساز اسمبلی نے عورتوں کو تشدد سے بچانے کے لئے ’تحفظ نسواں‘ نامی ایک قانون پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق اگر عورت پر تشدد ہو اور متعلقہ جج اس بات کو درست تسلم کر لے تو وہ دوسری شرائط کے علاوہ مرد کو گھر سے باہر رہنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق نے اسے روایتی خاندانی نظام کی تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اسے مشترکہ طور پر مسترد کیا اور اسے رشتوں کو ختم کرنے کا باعث قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام نے جتنے حقوق خواتین کو دیے ہیں، وہ مغرب نہیں دے سکتا ہے۔ انہوں نے اسلام میں مرد و عورت کے حقوق اور خاندانی نظام کو سکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کا کہا اور بتایا کہ یہ قوانین ایسے مغربی معاشرے کے عکاس ہیں جہاں پر خونی رشتوں کی کوئی قدر نہیں ہوتی ہے اور والدین پر ان کے بچوں اور بچوں پر ان کے والدین کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے۔

ہمارے ایک عزیز کالم نگار جناب انور غازی صاحب، تحفظ نسواں کے بل پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ

مغربی تہذیب یہ ہے کہ عورتوں سے زیادہ سے زیادہ جنسی تسکین حاصل کی جائے اور کوئی ذمہ داری بھی نہ آئے۔ اور کون نہیں جانتا کہ بے پردگی کے بے شمار نقصانات ہیں۔ گھر تباہ ہوجاتا ہے۔ اس گھر میں سکون نہیں رہتا۔ میاں بیوی میں ہم آہنگی نہیں رہتی۔ دونوں میں بداعتمادی پیدا ہوجاتی ہے۔ اولاد تباہ اور آوارہ ہوجاتی ہے۔ ان کی تربیت نہیں ہوسکتی۔ انہیں والدین کی توجہ اور شفقت بھی حاصل نہیں ہوتی۔ انسان کی تربیت میں سب سے بڑا حصہ محبت کا ہوتا ہے اور اس گھر میں محبت نہیں رہتی۔ خاندان معاشرے کا بنیادی یونٹ ہے، لہٰذا جب خاندان برباد ہوا تو پورا معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔ اس ماحول میں رشتہ داریاں ختم ہوجاتی ہیں۔ وہاں صرف شہوت پوری کرنا ’رشتہ داری‘ ہوتی ہے‘۔

غازی بھائی، نکاح مسیار میں خاندانی نظام پر بھی روشنی ڈالیں۔ کیا وہی ان سب ’فضائل‘ کا حامل ہے جس کی آپ بات کر رہے ہیں، یا پھر پنجاب اسمبلی کا تحفظ نسواں کا بل ہی یہ سب کچھ کرتا ہے؟

اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے میں آئین و اسلام کی خلاف ورزی کرنے والی پنجاب اسمبلی نے تو بس یہی حکم لگایا ہے کہ اگر کسی عورت پر اس کا شوہر ظلم و ستم کرتا ہے تو ریاست اس عورت کی والی وارث بن کر اسے قاضی کے ذریعے بچائے اور ظلم روکنے کے طریقوں پر مبنی احکامات دے۔ اگر کوئی شوہر ایسا ہی مزاج والا ہے ہے کہ غصے سے دیوانہ ہو کر بیوی کو مارنے پیٹنے لگے اور اس امر سے روکنے پر بیوی سے عارضی طور پر الگ کیے جانے پر اسے طلاق دے دے گا، تو وہ جلد یا بدیر یا تو اسے مار ڈالے گا یا طلق دے دے گا۔ تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اسے الگ رہ کر سکون سے سوچنے کا موقع دیا جائے اور اس عرصے میں عورت کو تشدد سے بچا لیا جائے؟ اسلامی میں تین طلاقوں اور رجوع کی مہلت کس لیے دی گئی ہے؟ کیا کوئی اس پر روشنی ڈال سکتا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

3 thoughts on “دلہن کے دام، منکوحہ گرل فرینڈ اور غدار اسمبلی

  • 08-03-2016 at 1:02 pm
    Permalink

    محبت والوں کے لیے اچھا موضوع ماں باپ کے لئے لمحہ فکریہ

  • 08-03-2016 at 8:15 pm
    Permalink

    What is the difference between Massiar and civil union then, except the inclusion of the will of the women? What’s the status of the issues (children)? Whether either member of such a couple gets the share of the deceased spouse? And a million dollar question, did this concept evolve out of the needs/constraints of men or out of the wishes and needs of independent and self-sufficient ladies? Plz write more on the topic.

  • 08-03-2016 at 10:36 pm
    Permalink

    بہت عمدہ اور قابل غور ہے۔ یہ فقیہان کرام صدیوں سے اسی کام ہر لگے ہوئے ہیں کہ زنا کے کتنے طریقوں کو جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ایک مولانا صاحب ہوتے تھے جو خود تو ساری عمر مجرد رہےمگر معاشرے میں پھیلنےوالی بے حیائی کی ذمہ داریلونڈیوں کے خاتمے پر ڈالتے تھے۔ کیا یہ فقیہان کرام اس بات کی وضاحت کرنا پسند فرمائیں گے کہ قرآن حکیم میں نکاح کےلیے حصن کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے کیا معنی ہیں۔

Comments are closed.