ایک عام مراکشی اور سعودی پاکستان کے بارے میں کیا جانتا ہے؟


ویسے تو ہم جانتے ہی ہیں کہ ساری امت ایک بدن کی مانند ہے۔ ہمیں مسلم ممالک کے بارے میں معاشرتی علوم کے بارے میں خوب پڑھایا جاتا ہے کہ کون کون سا مسلم ملک ہے، اس کے کیا حالات ہیں، کیسا موسم ہے، کیا کیا تجارت ہے، لیکن ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ ان برادر مسلم ممالک کے عام لوگ امت کے بدن کے اس حصے کے بارے میں کیا جانتے ہیں جسے پاکستان کہتے ہیں۔

آج انٹرنیٹ پر ایک دلچسپ سوال نظر سے گزرا۔ ”مراکشی لوگ پاکستان کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ “ اس کا جواب دو مراکشیوں نے دیا تھا جو کچھ یوں ہے۔

پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ہے۔
یہ دنیا کے گنجان آباد ترین مسلم ممالک میں سے ہے۔
پاک ہند سرحد دنیا کی خطرناک ترین سرحدوں میں سے ایک ہے۔

پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔
چند برس پہلے نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم تھے۔
اردو قومی زبان ہے۔

عبدالستار ایدھی ایک نہایت مقبول انسان دوست شخصیت ہیں جو ساری دنیا میں مشہور ہیں۔
ملالہ یوسفزئی، جو نوبل انعام یافتہ ہیں اور خواتین کے حقوق کی ایک نوجوان علمبردار ہیں۔
جھنڈا سبز اور سفید ہے جس کے درمیان میں ایک چاند اور ستارہ ہے۔

ایک دوسرے صاحب بولے
یہ ایک خوبصورت ملک ہے۔
اس میں سیکیورٹی کم ہے۔
بینظیر بھٹو جو 2007 میں قتل کر دی گئیں۔

یہی سوال سعودیوں سے بھی کیا گیا کہ وہ پاکستان کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ ایک صاحب نے جواب دیا

پاکستان کا ملک افغانستان، ایران اور انڈیا کے درمیان واقع ہے۔
یہ انڈیا (سندھ) کا حصہ تھا اور پھر اس نے ایک مسلم ملک کے قیام کی خاطر آزادی کا اعلان کر دیا۔
یہ واحد ایٹمی مسلم ملک ہے۔
اس کی آبادی بہت زیادہ ہے لیکن میں صحیح طور پر نہیں جانتا کہ کتنی۔

یہ انڈیا سے کشمیر کی وجہ سے ازل سے جھگڑے میں پڑا ہوا ہے۔ اس افغان سرحد پر شمالی وزیرستانی پہاڑوں میں طالبان کے ساتھ بھی مسائل چل رہے ہیں۔
اردو اور پنجابی دو بنیادی زبانیں ہیں۔
بینظیر بھٹو قتل کر دی گئی تھیں اور ہر شخص اس پر غصے سے دیوانہ ہو گیا تھا۔
شلوار قمیض میں ہی زندگی ہے۔

بہت سے اچھے کھانے اور مٹھائیاں پاکستان سے آئے ہیں، جن میں سب سے مشہور بریانی ہے۔ میرے خیال میں دوسرے کھانے پاکستان اور انڈیا میں مشترک ہیں۔
اعلی کوالٹی کا شہد اور کپڑے کشمیر سے آتے ہیں۔
ادھر ایک شہر ہے جہاں بے شمار مکڑے درختوں کو گھیرے ہوئے ہیں (ان صاحب نے غالباً وہ مشہور تصویریں دیکھ رکھی تھیں جن میں سیلاب کے دنوں میں درختوں پر مکڑی کے جالے تنے ہوئے تھے)۔
پشاور، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد مشہور شہر (یا ممکن ہے کہ خطے) ہیں جن کے بارے میں میں نام کے سوا کچھ نہیں جانتا۔

ہمارے لئے یہ بات دلچسپ تھی کہ ان ممالک کے لوگوں میں پاکستان کی شناخت ملالہ یوسفزئی، عبدالستار ایدھی، نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے نام سے ہے۔ اس سیریز میں آگے چل کر ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ فرانسیسی، روسی اور آسٹریلوی لوگ پاکستان کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ (ختم شد)۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1008 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar