فرشتہ آئی جی اور موہنجوڈارو: الیکشن کمیشن کنفیوژن دور کرے


زمانہ قدیم کی تاریخ میں موہنجوڈارو ایک ہنستے بستے شہر کا ذکر ملتا ہے پانچ ہزار سالہ پرانی اس تہذیب میں پانی کے نکاس کا انتظام تھا اجتماعی طور پر غلے کو ذخیرہ کیا جاتا تھا لوگ زراعت پیشہ تھے اس تہذیب کی دو نشانیاں آج بھی مشہور ہیں ایک مذہبی پروہت جس کا مجسمہ اب سندھی سائیں کی علامتی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور دوسری بھارت کے میوزیم میں موجود پیتل کی ڈانسنگ گرل یہ نشانیاں اب بھی اس تہذیب کے عروج کی کہانیاں سناتی ہیں۔ اس تہذیب کے کچھ دیر بعد ایسا وقت بھی آیا کہ اسی صوبے میں حکومت عوام اور کابینہ سب کرپٹ ہو گئے صرف بیچارا ایک انسپکٹر جنرل آف پولیس اے ڈی خواجہ نامی شخص رہ گیا جو صوبے کو ٹھیک کرنا چاہتا تھا، رشوت ختم کرنا چاہتا تھا، دہشت گردی کے خلاف چٹان کی طرح ڈٹ جاتا تھا وہ موہنجو ڈارو کے مذہبی پروہت کی علامتی حیثیت اختیار کر چکا تھا جبکہ سندھ کے عوام کی اکثریت کی منتخب کردہ حکومت اور کابینہ کے سب وزراء اس ڈانسنگ گرل کی علامتی حیثیت رکھتے تھے جو اس فرشتہ صفت مذہبی پروہت کو کام سے روکنا چاہتے تھے۔

تاریخ میں یہ لکھا ہے کہ یہ شیطان قسم کے منتخب لوگ کامیاب ہو جاتے مگر ایسے وقت میں غیبی امداد آئی اور کالے چوغے پہنے لوگ عرش بریں سے اترے اور آئی جی کی مدد اور حمایت کرنی شروع کر دی بس پھر کیا تھا صوبے کی حکومت، عوامی حمایت کے باوجود بے بس ہو گئی۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے کے پاس آئی جی کو بدلنے کا اختیار تھا پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد کے کئی آئی جی بدلے گئے مگر ان کی مدد کو کوئی نہ آیا۔ انہوں نے سر جھکایا اپنی حکومتوں کا حکم مانا اور جا کر نئی ڈیوٹی جوائن کر لی مگر اے ڈی خواجہ چونکہ خدائی خدمت گار کا درجہ رکھتے تھے اس لئے انہیں ٹرانسفر کرنا جرم تھا ایسا فرشتہ صفت اگر کبھی ٹرانسفر ہو گیا تو موہنجو ڈارو کا کیا ہو گا۔ اس کے مذہبی پروہت کا کیا ہو گا؟ پیتل کی بنی ڈانسنگ گرل کی خواہشات کی کسی کو کیا پڑی؟ عوام کی عقل پر پردہ پڑا ہے۔ غیبی امداد ہی کو علم ہےکہ کیا درست ہے اور کیا غلط، عوام، حکومت، کابینہ، ان کی آخر حیثیت کیا ہے۔ پہلے کہا گیا کہ چونکہ وزیر اعلیٰ نے فیصلہ کیا ہے کابینہ نے فیصلہ نہیں کیا اس لئے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوگا بعد میں کابینہ نے بھی فیصلہ کر دیا مگر سندھ کابینہ کے فیصلے کو کیوں مانا جائے ہاں اگر کسی اور صوبے کی کابینہ کا فیصلہ ہوتا تو اور بات تھی۔

چچ نامہ یعنی تاریخ ہندو سندھ لکھی جا رہی ہوتی تو یہ کہا جاتا کہ سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ کے پنجاب میں چاہنے والے بہت کم تھے مگر جس طرح ان کے مینڈیٹ کے ساتھ ظلم ہو رہا تھا یہ آئین، قانون اٹھارویں ترمیم اور صوبائی حقوق کے نام پر ایک سنگین مذاق تھا۔

تاریخ پڑھیں تو ایسا لگتا ہے کہ اے ڈی خواجہ سندھ کے لئے ناگزیر ہو چکے تھے تاریخ یہ عالم دیکھنا چاہتی ہے کہ اب آئی جی کس طرح سندھ حکومت کو بحران سے دوچار کریں گے اور اپنے پورے اختیارات کے ساتھ اگلے الیکشن میں پیپلز پارٹی اور اس کے حواریوں کو چاروں شانے چت کرکے دکھائیں گے۔

ساتویں اور آٹھویں صدی میں سندھ کی تاریخ پر لکھے جانے والے چچ نامے کے مصنفین نے روز مرہ واقعات اور جنگوں کی فتح و شکست کی کہانیاں لکھیں لیکن یہ ہدایت نامہ نہ لکھ سکے کہ آنے والے دنوں میں سندھ میں عوامی راج نہیں غیبی راج ہو گا۔ آئین کی تشریح پنجاب اور دوسرے صوبوں میں اور ہو گی اور سندھ میں اور ہو گی۔ سندھ میں وزیر اعلیٰ کے مشیر فارغ ہو چکے جبکہ باقی صوبوں اور وفاق میں قائم ہیں کوئی ہے جو اس تضاد پر آواز بلند کرے؟ سب خاموش ہیں کہ ہم سندھ کی حکومت اور وزیر اعلیٰ کو پسند نہیں کرتے ہم پیپلزپارٹی جیسی کرپٹ جماعت کے حق میں بات کیوں کریں؟

چچ نامہ میں یہ بھی درج نہ ہو سکا کہ جب لوگ متعصب ہو جائیں دانشور مصلحت پسند ہو جائیں جب جج جانبدار ہو جائیں اور جب حکومتیں چلانے والے اپنے مفادات کے تابع ہو جائیں تو پھر موہنجو ڈارو زندہ نہیں رہتے پھر وہاں کی آبادیاں غائب ہو جاتی ہیں۔ مذہبی پروہت اکیلے موہنجوڈارو نہیں چلا سکتے اے ڈی خواجہ جتنے بھی فرشتے ہوں وہ اتنے خودسر نہیں ہونے چاہئیں کہ منتخب حکومت سے مسلسل پھڈا ڈالے رکھیں۔ ریاست اور ملک صرف پاکیزہ روحوں کے لئے نہیں ہوتے وہاں موہنجوڈارو کی طرح پیتل کی ڈانسنگ گرلز بھی ہوتی ہیں گناہ گار عوا م اور کرپٹ حکمران بھی ہوتے ہیں بلڈوزر پھیرے جائیں تو پھر انقلاب فرانس کی طرح ہر بدن پر سر بھاری ہو جاتا ہے اور پھر نپولین بونا پارٹ کی طرح کے خود سر آمر جگہ لے لیتےہیں ریاست کو آئین، قانون اور اصولوں کے مطابق چلائیں کچھ روحوں کو مقدس گرداننا اور باقیوں کو شیطانی قرار دینا درست نہیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جس کا جو فریضہ ہے وہی کرے۔ جج حکومت نہ کریں کیونکہ جب بھی ججوں نے انتظامی معاملات میں بلاجواز مداخلت کی ہے اس کے نتائج برے ہی نکلے ہیں۔ جج حکمرانوں کی غلطیوں پر ان کو سزائیں دیں مگر حکمرانوں کے اختیارات محدود نہ کریں وگرنہ کل کو ہر جلوس عدالتوں کے سامنے انصاف کے لئے احتجاج کیا کرے گا۔ عدالت دو فریقوں میں منصفی کا ادارہ ہے اگر وہ حکومت کے خلاف مسلسل فریق بنی رہی تو حکومت کیسے چلے گی، ریاست کیسے چلے گی؟ کیا آئندہ آئی جی کورٹس کے ذریعے ہی لگیں گے؟

بشکریہ روز نامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سہیل وڑائچ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

suhail-warraich has 132 posts and counting.See all posts by suhail-warraich