پروفیسر مشتاق شعبہ مائیکرو بائیولوجی آئی ٹی یونیورسٹی کے چیئرمین نکلے


 

کوئٹہ سے انصار الشریعہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار پروفیسر مشتاق بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے شعبہ مائیکرو بائیولوجی کے چیئرمین نکلے۔ آئی ٹی یونیورسٹی ذرائع کے مطابق پروفیسر مشتاق آئی ٹی یونیورسٹی کوئٹہ کے ملازم اورشعبہ مائیکرو بائیولوجی کے چیئرمین ہیں۔ پروفیسر مشتاق چار سال سے یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ یونیورسٹی کے بیچلر ہاسٹل ہی میں قیام پذیر تھے۔

ادھرجامعہ بلوچستان کے رجسٹرار طارق جوگیزئی نے کہا ہے کہ گرفتار پروفیسر مشتاق کاجامعہ بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ جامعہ میں ملازم ہیں۔

انصار الشریعہ کے گرفتار دہشت گردوں سے تحقیقات کے دوران اہم انکشافات ہوئے ہیں ، اس تنظیم کے دہشت گرد تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے موبائل فون ایپلی کیشن کے 5 سافٹ ویئرز بھی بنارکھے تھےجن کا علم حساس اداروں کو ان کی گرفتاری کے بعد ہوا۔ ذرائع کے مطابق پانچوں سافٹ ویئر فون کالنگ اور پیغامات کے لیےنہایت محفوظ تھے۔

 

مزید اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر حملے میں ملوث مفتی حبیب اللہ کے حیدرآباد میں واقع گھر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مارا ہے۔ واضح رہے کہ مفتی حبیب اللہ کو گذشتہ روز سیکورٹی فورسز نے پشین کے علاقے سے انصار الشریعہ نامی کالعدم تنظیم سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انصار الشریعہ کی نشاندہی رواں برس اپریل میں ہوئی ہے۔ اس تنظیم کو کب اور کن احکامات کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا جا رہا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں نے لیپ ٹاپ، پاسپورٹ، دینی کتب اور دیگر دستاویزات تحویل میں لے لیں تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ چھاپے سے مدارس کے اساتذہ اور طلباءمیں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ایس ایس پی حیدرآباد امجد شیخ نے کہا ہے کہ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

جے یو آئی حیدرآباد کے ترجمان نے کہا ہے کہ مفتی حبیب اللہ جے یو آئی حیدرآباد کے عہدے دار ہیں۔ وہ گزشتہ 20 سال سے سائٹ ایریا میں واقع مدرسہ مفتاح العلوم کے استاد ہیں۔ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی یا دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں.

مفتی حبیب اللہ کے گھر گذشتہ شب چھاپہ مارا گیا۔ گھر پر ایک نوعمر نوجوان کے سوا کوئی نہیں تھا۔ چھاپے کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ مفتی حبیب اللہ نے گلشن خیر محمد میں بھی طالبات کا ایک مدرسہ تین سال قبل قائم کیا تھا.

مفتی حبیب اللہ عید کی چھٹیاں گزارنے اپنے آبائی شہر پشین گئے تھے جہاں سے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

 

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں