نوجوانوں کو دہشت گرد بننے سے کیسے روکا جائے؟


کراچی میں ایک پر امن کمیونٹی کی بس پر حملے اور سبین محمود کے قتل میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ملوث ہونے کے بعد سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ہمارے نوجوان دہشت گردی کی راہ پر کیوں چل نکلے ہیں؟ نورین لغاری کی کہانی سامنے آنے کے بعد اس سوال نے اور شدت پکڑ لی تھی۔ اب خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے بعد تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یونیورسٹیوں سے طلبہ کا ڈیٹا جمع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ معاملہ صرف پاکستان کا نہیں، دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر آئی ہوئی ہے اور نوجوان اس میں بہتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بقول ’ بین الاقوامی امن اور سلامتی دہشت گردی کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ ہمیں جرائم اور دہشت گردی کے باہمی رابطوں سے نمٹنے کے لئے نوجوانوں کے ساتھ بحث مباحثے میں اضافہ کرنا ہو گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجیز کی مدد سے متشدد اور انتہاپسند نظریات کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور نوجوان دوسرے ملکوں میں جا کر مذہبی یا نظریاتی جنگوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ‘

ماہر نفسیات لوسیسرو ان دو بھائیوں کے محلے میں رہتی ہیں جو 2013 میں بوسٹن میراتھن کے بم دھماکوں کے ذمہ دار تھے۔ دونوں بھائی ان کے بچوں کے ساتھ ایک ہی اسکول میں پڑھے ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اس بارے میں تحقیق شروع کی کہ بچے اپنے لئے ایسی متشدد زندگی کا انتخاب کیوں کرتے ہیں ۔ حال ہی میں ان کی ایک کتاب شائع ہوئی ہے ’’اچھے بچے‘‘ خوفناک دہشت گرد کیوں بن جاتے ہیں؟

alice locicero

ان کی رائے میں موقع پرست، انتہا پسند مذہبی لوگوں کو بچوں اور نوجوانوں کے استحصال سے روکا جا سکتا ہے۔ بچے اور نوجوان بہت جلدی دوسروں کی باتوں کا اثر قبول کرتے ہیں، اب یہ کمیونٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں ایسی جنگوں میں مہرہ بننے سے روکیں جنہیں وہ پوری طرح سمجھ بھی نہیں پاتے۔

9/11 کے بعد کچھ امریکی یونیورسٹیوں نے دہشت گردی کے بعد لوگوں کو ٹراما کی کیفیت سے نکالنے کے لئے کچھ کورسز پڑھانا شروع کئے تھے ،جن میں دیگر باتوں کے علاوہ طلبہ کو یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ دہشت گردی کے مرتکب ہونے والے نوجوانوں کے حالات کے بارے میں جاننا ضروری ہے، نہ صرف ان کی موجودہ زندگی کے بارے میں، بلکہ ان کے آباؤ اجداد کی زندگی کے بارے میں بھی، ان کے کیا حالات تھے، ان کے ساتھ کیا زیادتیاں ہوئیں وغیرہ۔ میرا خیال ہے اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیاں خاص طور پر عمرانیات کے شعبے اس ضمن میں تحقیق کا آغاز اور کورسز تیار کریں۔ اور حکومت کو تجاویز پیش کریں۔

دنیا بھر میں حکومتوں کا یہی چلن رہا ہے کہ دہشت گردی کے ہر واقعے کے جواب میں وہ ایسے اقدامات کرتی ہیں جن سے شہری آزادیوں اور انسانی حقوق پر زد پڑتی ہے، ظاہر ہے سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے محافظ اس طرح کے اقدامات کی مزاحمت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات عوام کے دلوں میں خوف پیدا کرتے ہیں اور حکومتیں اس خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہری آزادیوں کو کچلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ امریکی نیشنل وار کالج کی پروفیسر آڈرے کرونن کے بقول’ اچھی بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی کوئی بھی لہر ہمیشہ چلتی نہیں رہتی، یہ کبھی نہ کبھی ختم ضرور ہوتی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کب اور کیسے؟‘اس کے جواب کا دارومدار حکومتی پالیسی پر ہے۔

Audrey Cronin

ایک اور امریکی ماہر کے بقول’ معاشرے کو کیا برداشت کرنا چاہئے اور کس پر سزا دینی چاہئے کے درمیان واضح لکیر کھینچنا ضروری ہے۔ 2008میں ایک پندرہ سالہ امریکی بچے کو سائنٹالوجی نامی تنظیم کو ایک CULTکہنے پر سزا دینے کی دھمکی دی گئی جب کہ ابو حمزہ برسوں متشدد انتہا پسندانہ نظریات کا پرچار کرتا رہا۔ ہمیں آزادی اظہار کی حفاظت کرنی چاہئے مگر متشدد انتہا پسندی کو ہر گز برداشت نہیں کرنا چاہئے۔ شہری آزادیوں کی قربانی دینے کا مطلب دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کھیلنا ہو گا۔ نظام انصاف یا عدلیہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلے کے حل کا حصہ ہے۔ ہم دہشت گردی سے لڑ سکتے ہیں اور آزادی کا دفاع کر سکتے ہیں۔‘

خواجہ اظہار الحسن پر ہونے والے حملے میں کراچی یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کے ملوث ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ یونیورسٹیوں سے طلبہ کا ڈیٹا حاصل کریں گے۔ ظاہر ہے یہ بات سول سوسائٹی کے لئے تشویش کا باعث تھی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کراچی یونیورسٹی کے نام اپنے خط میں اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یونیورسٹیوں میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ہر باشعور شہری کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ انٹلیجنس ایجنسیاں یونیورسٹیوں میں گھس کر طلبہ کا ریکارڈ چیک کریں۔ اس کا حل بہت سیدھا سا ہے جو وسعت اللہ خان نے اپنے ٹی وی پروگرام میں بھی بتایا کہ طلبہ یونینوں کو بحال کیا جائے تاکہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث لوگ سامنے آ سکیں۔ ظاہر ہے سینکڑوں میں ایک آدھ طالبعلم ہی اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے، باقی حصول علم کے لئے ہی یونیورسٹی کا رخ کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی نصاب کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، بچوں اور نوجوانوں کو وہ چیزیں پڑھائی جائیں جس سے ان کی تعمیری اور تخلیقی صلاحیتوں کو جلا ملے اور جرات تحقیق ملے۔ دور غلامی اور ضیاء الحق کے بخشے ہوئے ملغوبے سے نجات پانا ضروری ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں