لنڈی کوتل میں موسیقی کے آلات نذر آتش کر دیے گئے


 

اطلاعات کے علاقے لنڈی کوتل کے علاقہ آش خیل میں نماز جمعہ کے بعد آلات موسیقی نذر آتش کر دیے گئے ہیں۔ موسیقی کے آلات مقامی مذہبی مدرسے دارالعوام و آستانیہ بنوریہ آش خیل کے عہدے داران نے مختلف سماجی تقریبات کے دوران اپنے قبضے میں لئے تھے۔

 

اس موقع پر مقامی مذہبی رہنما محمد ابراہیم عرف باچا جان نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ شادی بیاہ اور خوشی کے تقریبات میں موسیقی اور نشہ سے گمراہی اور فحاشی پھیلتی ہے، اس لئے کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسیقی پر پابندی کے سلسلے میں ساتھ دینے پر ضلعی انتظامیہ اور مشران علاقہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

 

علاقہ شیخ مل خیل اور مختار خیل میں محفل موسیقی پر دھاوا بولا گیا۔ سٹیج پر توڑ پھوڑ کی گئی اور موسیقی کے آلات قبضے میں لے لئے گئے جنہپیں نماز جمعہ کے بعد مقامی بازار میں نذر آتش کر دیا گیا۔

اس موقع پر مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ مذہبی مدرسے کے عہدے داروں نے قانونی طور پر منعقد ہونے والی نجی تقریبات میں مداخلت کی۔ شہریوں کی جائیداد کو نقصان پہنچایا۔ پرامن شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالا۔ نقص امن کا امکان پیدا کیا۔ امن عامہ کی صورت حال کو مخدوش کیا۔ غیر قانونی اجتماع منعقد کیا۔ سرعام اشتعال انگیزی سے کام لیا۔ عوامی سطح پر خوف و ہراس پیدا کیا۔ بلوے کو ہوا دی۔ سڑکوں پر آمد و رفت میں خلل ڈالا۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس ضمن میں قانون تعزیرات اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔ صحافیوں اور عام شہریوں نے مقامی انتطامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس صورت حال کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ آئندہ ایسی کسی حرکت کے نتیجے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کے ذمہ داروں کی فوری نشاندہی کی ضرورت ہے۔

 

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں