روداد ریل کی


ایک نثر علی سفیان آفاقی لکھتے تھے۔ فلمی الف لیلہ ہر ہفتے اخبار یا رسالوں میں نظر آیا کرتی اور باوجود ان کرداروں سے ایک دم ناواقف ہونے کے، چھوٹے چھوٹے بچے بھی انہیں پڑھا کرتے تھے۔ لکھنے کا انداز ہی ایسا پیارا تھا۔ کوئی زبردستی کی لفاظی نہیں ہوتی تھی، سادہ اور من موہنے چھوٹے جملے ہوتے تھے۔ کسی رواں دواں نہر کی مانند لفظ بہتے چلے آتے اور آخر میں اگلی قسط کی کلی ٹنکی ہوتی تھی۔ یہ اگلی قسط بالکل ایسے تکلیف دیتی جیسے اخبار میں بقیہ صفحہ سات والی کوفت ہوتی ہے۔ پھر ایک اور لکھنے والے اے حمید تھے۔ بارش، چائے، سماوار، خوشبو، ٹرین اور سینما سے کبھی نکلتے تو سیدھے سنہالی حسیناؤں کے درمیان لینڈ کرتے تھے، لیکن وہ بھی کمال ہی تھا۔ جتنے مرضی صفحے پڑھ لیجیے باوجود ریپیٹیشن کے بوریت کا احساس کبھی نہیں ہوتا تھا۔ ہر چیز اپنے ہی رومانوی ڈھنگ میں بیان کرتے تھے۔ اسی طرح حمید اختر کے ہر کالم کا ادب دوستوں کو باجماعت انتظار رہا کرتا تھا۔ قصے کہانیاں سناتے، آسان ڈکشن میں اطمینان سے اپنی ساری بات کہہ جاتے تھے۔ سینتالیس کا سفر اور نکودر کیمپ ان کے ہر چوتھے کالم پر چھایا ہوتا، لیکن وہ یاد کرکے بھی اب نوسٹیلجیا ہوتا ہے۔ تو یہ تینوں نثر نگار وہ تھے جو بات کہنے کا گر جانتے تھے۔ پرانی بات کو نیا کیسے کرنا ہے یہ انہیں معلوم تھا اور لوگ کس تحریر کو کیوں پڑھیں گے، اس سوال کے جواب سے بھی بخوبی واقف تھے۔

ان سب کا ایک مشترکہ عشق ریل گاڑی تھی۔ ریل کا عشق بڑی ظالم چیز ہے، یہ بندے کو چین سے سونے نہیں دیتا، بس میں سفر نہیں کرنے دیتا، جہاز کا آپشن ہونے پر بھی ریل کا ٹکٹ کٹایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ٹرینیں لیٹ بھی ہوتی ہیں، ریلوے کا نظام پرانا ترین بھی ہے، سفر کوئی اتنا سیف بھی نہیں ہے، سامان اتارنے چڑھانے کی الگ ٹینشن ہے، واش روم میں بعض دفعہ پانی نہیں ملتا، پھر بھی لوگ ریل گاڑی سے پیار کیوں کرتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہر بچہ بچپن میں دو بے جان مگر جانداروں جیسی چلنے والی چیزوں کو ہاتھ ہلا کر ٹاٹا کرتا ہے، ایک جہاز اور دوسری یہی اپنی ٹرین۔ تو جہاز جو ہے وہ اس قدر دور ہوتا ہے کہ اسے خواب سمجھ کر بھلا دیا جاتا ہے، اس میں پہلی بار بیٹھتے ہوئے بھی شاید ہی کسی کی ایموشنل فیلنگ ہوتی ہو، حیرانی ایک الگ چیز ہے۔ اس کے برعکس ٹرین جو ہے وہ تو اپنے سامنے پائی جانے والی دلدار ہوتی ہے۔ ابھی ابا کے ساتھ ویسپا پر جا رہے ہیں، ریل کا پھاٹک بند ہوا، ٹرین گزری۔ یہ سامنے، بالکل پاس، اسے دیکھ کے ہاتھ ہلایا تو کتنے مسافروں نے بھی ہاتھ ہلا دیا۔ تو یہ جو ٹو وے کمیونیکیشن ہوئی اس نے دل ملا دیے۔ ریل گاڑی اس طرح کی بہت سی انجانی وجوہ کی بنا پر محبوب ہوتی گئی اور باقی ذرائع آمد و رفت سے للہی بیر ہو گیا۔

ذاتی تجربہ پوچھیے تو ریل گاڑی ایک طرف، فقیر تو ریلوے سٹیشنوں کا بھی عاشق ہے۔ اور لاہور جیسے گرینڈ سٹیشن کو چھوڑ بھی دیا جائے تو ہر سٹیشن کا اپنا ایک ماحول ہوتا ہے۔ جیسے کوئی پرانی عبادت گاہ، بزرگوں کی کائی لگی قدیم حویلی یا سفید چونے میں نہائی سادی سی، مقدس سی عمارت۔ سٹیشن خود اپنے آپ میں ایک فینٹیسی ہے، ایک عجیب چیز ہے۔ کبھی کسی پلیٹ فارمز کو ملانے والے پل پر کھڑے ہو کر نیچے سے گزرتی ٹرین اور الوداع کہتے لوگوں کو دیکھیے، منظر سے ہٹ کر منظر میں موجود ہونے کا احساس کیا ہوتا ہے، ادھر معلوم ہو گا۔ یا پھر کبھی کسی پلیٹ فارم پر قسمت سے گوروں کے زمانے کی لمبے بازوؤں والی آرام کرسی مل جائے تو اس پر بیٹھ کر یا لیٹ کر توجہ کیجیے، وہ بھی ایک الگ رومانس ہے، مسافر ہونے کی صحیح کیفیت اس پوسچر میں بنتی ہے۔ تھکن سے نڈھال ہیں، انتظار ہے، باقی جسم لیٹا ہوا ہے لیکن پاؤں زمین پر ٹکے ہیں کہ ٹرین اب آئی کہ تب آئی۔ اچھا پاؤں اگر اوپر کرسی کے بازوؤں پر رکھے تو وہ عجب واہیات سا معاملہ ہو جائے گا۔ تو بہرحال ریل گاڑی کا سفر اور اس کے متعلقات جو ہیں پورا ایک فلسفہ ہیں۔

رضا علی عابدی کی ریل کہانی کا آغاز ایک اقتباس سے ہوا، ”جب سے ریل گاڑی چلی ہے، لوگ اپنی بیٹیوں کو دور دور بیاہنے لگے ہیں“۔ نہ ہوا حافظ شیرازی کہ سمرقند و بخارا بخشتا، نہ کوئی غالب سا قدر شناس تھا جو ایک شعر پسند آنے پہ ساری شاعری بدلے میں آفر کر دیتا، یہاں کنگلا صاحب جمال گفت تھا، لے دے کر اسی جملے کا سرمہ آنکھوں میں لگائے پھرتا ہے اور خوبیاں اس سفر کی بیان کرتا ہے۔ ابھی کل ایک کتاب میں پڑھا کہ جب 1835ء کے آس پاس یورپی ممالک میں ٹرین کی شروعات ہو رہی تھی تو وہاں بھی ایک سے بڑھ کر ایک فتوے باز موجود تھا۔ ایک جرمن ڈاکٹر نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ اگر ریل گاڑی کے ٹریک پر دونوں طرف دیواریں یا لوہے کے پردے نہ ڈالے گئے تو لوگ اس کے گزرنے کا منظر دیکھ کر اور اس کا شور سن کر پاگل ہو جائیں گے، اور اگر ہماری گائے بھینسیں یہ سب کچھ دیکھیں گی تو وہ کھٹا دودھ دینے لگیں گی۔

ایک جرنلسٹ کی رائے تھی کہ ٹرین کا سفر لوگوں میں ہذیانی کیفیت پیدا کر دے گا اور وہ خود کشی بھی کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی رائے میں ٹرین سراسر خسارے کا سودا تھی، ان کا پوائنٹ یہ تھا کہ ایک ایسی سواری کا اعتبار آپ کیسے کر سکتے ہیں، جس کی پٹڑی پہ اگر کوئی بچہ ایک شیشے کا بنٹا بھی رکھ دے تو وہ حادثے کا شکار ہو سکتی ہو۔ 1848ء میں فرانس کے بادشاہ سلامت کا پروگرام بنا کہ ٹرین میں سفر کریں، انہوں نے پوری شوریٰ کا اجلاس بلایا، کافی بحث ہوئی لیکن پھر شاہ کے وفاداروں نے ریل کا سفر ان کے لیے شدید ان سیف قرار دیتے ہوئے انہیں بگھی پر ٹخا ٹخ روانہ کر دیا۔ ادھر ہندوستان میں ریل آنے لگی تو کارل مارکس نے بھی کم بقراطیت نہیں دکھائی، وہ اسے حسبِ لغت ہائے کمیونسٹاں، ”سامراج کا تحفہ“ کہتے تھے۔ سارے شوروغل کے باوجود 16 اپریل 1953ء کو ریل گاڑی ہندوستان میں بھی سفری سہولیات دینا شروع کر چکی تھی۔ یہ سب باتیں فضل الرحمن قاضی اپنی کتاب ”روداد ریل کی“ میں بتاتے ہیں۔

فضل الرحمن قاضی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں کہ جو علی سفیان آفاقی، اے حمید یا حمید اختر کا تھا۔ باتوں باتوں میں 310 صفحے پڑھا دیتے ہیں اور جب کتاب ختم ہوتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بھائی برصغیر میں ٹرین ہسٹری کا حافظ ہو چکا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر دوسرے صفحے پر ایک کے بعد ایک دلچسپ واقعات ملتے ہیں تو بندہ کتاب چھوڑ ہی نہیں سکتا۔ پھر معلومات کا بیش بہا خزانہ ہے۔ پورے ریلوے نظام کی ایک ایک کڑی یہاں درج ہے بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ ”کھڈے لائن“ انجن کو کیسے لگایا جاتا تھا اور یہ لفظ افسروں پر کب فٹ ہونا شروع ہوا۔ اسی طرح ”وایا بٹھنڈہ“ والے محاورے پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ریل شاید چیز ہی ایسی ہے، رضا علی عابدی سفر کریں تو ”ریل کہانی“ لکھی جائے، حسن معراج بیٹھیں تو سوپر ڈوپر ہٹ ”ریل کی سیٹی“ پڑھنے کو مل جائے اور فضل الرحمن قاضی یاد کریں تو ”روداد ریل کی“ جیسی دلچسپ تحریر وجود میں آئے۔

بگ بینگ تھیوری پندرہ بیس منٹ کا ایک ڈرامہ سیریل (سٹ کام) ہے، نو دس سیزن اس کے آ چکے ہیں۔ اس کا ایک پیارا کردار ڈاکٹر شیلڈن کوپر جس طرح ٹرین کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے، کاش کہ اسے کوئی یہ تینوں کتابیں گفٹ کر دے۔ باقی جو بھی وطنِ عزیز میں محبان ریل اور اچھی دلچسپ نثر کے شوقین پائے جاتے ہیں ان کے لیے گنجینہ معنی کا یہ طلسم حاضر ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 458 posts and counting.See all posts by husnain