کر بھلا تو ہو بھلا انت بھلے کا بھلا


نقی اشرف 

naki-ashraf

ہمارے بچپن میں ہمارے ہاں درجنوں پھل مقامی سطح پر پیدا ہوتے تھے۔ سیب، خوبانی،آڑو،آلو بخارے، ناشپاتی، اخروٹ اور دیگر پھلوں کی وہ تمام اقسام جو کسی بھی ٹھنڈے علاقے میں کاشت ہوسکتی تھیں، راولاکوٹ اور اس کے گرد و نواح میں بکثرت پائی جاتی تھیں۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کو یہ تمام پھل مارکیٹ سے خریدنے کی نوبت کم ہی آتی تھی۔ وہ سارے پھل جن پودوں پر لگتے تھے انھیں ہمارے اجداد نے کاشت کیا تھا۔ ان پودوں کے کاشتکاروں کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ وہ پودا جو وہ کاشت کررہے ہیں وہ ان کی زندگی میں درخت نہیں بن سکتا مگر یہ سوچ کہ ’ جو پودے وہ لگا رہے ہیں ان پر لگنے والے پھل وہ نہیں کھا سکیں گے‘ انھیں اس عمل سے باز نہ رکھ سکی۔ اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ ہمارے اسلاف کو یہ شعور تھا کہ انسان اپنی زندگی میں جو کچھ کرسکتا ہے وہ محض مستقبل کے لئے ہی کرسکتا ہے۔

پھر ہماری نسل نے پودوں کی کاشت کے حوالے سے وہ پہلو تہی برتی کہ آج پھلوں اور سبزیوں سے لدے درجنوں ٹرک پاکستان سے ہر روز ہمارے ہاں پہنچ رہے ہیں۔ اِن پھلوں اور ان دیسی پھلوں کی کوالٹی میں زمین آسمان کا فرق ہے جو کبھی ہمارے ہاں درختوں پر لہلاتے تھے۔ آج تقریباً مکمل طور پر ہمارا انحصار پردیسی پھلوں پر ہے۔ مگر یہ دن ہمیں اپنی کوتاہ اندیشی اور خودغرضی کی وجہ سے دیکھنا پڑا ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم سے کم تعلیم یافتہ ہمارے اسلاف کوجس بات کی سمجھ تھی وہ ہم نہ سمجھ سکے جو تعلیم یافتہ اوربا شعور ہونے کے دعویدارہیں۔ مگر صد شکر کہ نئی نسل ہم سے برعکس ہے۔ وہ سوچ و عمل سے یہ ثابت کر رہی ہے کہ انسانیت کی بھلائی آنے والے کل کیلئے کچھ کرنے میں ہی مضمر ہے۔

گزشتہ روزمیں نے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں نئی نسل کے نمائندوں شکیب فاروق اور دیگر نوجوانوں کو پانیولہ کے نواحی علاقہ پاڑاٹی میں پودے کاشت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا، اور ان کا پیغام بھی سنا کہ’ہم سب کو پودے لگانے چاہئیں، یہ سوچ کر اس عمل سے نہ رکیں کہ اس درخت کا پھل کب ہم کھائیں گے‘۔ شکیب فاروق میری ہی یونین کونسل ہورنہ میرہ میں میرے گاؤں سے متصل گاؤں کا رہنے والا ہے۔ جب میں نے نقل مکانی کی تو اس وقت وہ ایک بچہ ہوتا ہوگا۔ میری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی مگر اس نوجوان کو میں جانتا ہوں۔ اسے میں نے اس کے کام کی وجہ سے جانا ہے۔

اپنے شاندار تعلیمی کیرئیر کی وجہ سے وہ آج ایک بینکار ہے۔ اپنے عرصہ طالب علمی میں اس نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کرسٹوڈنٹس سوشل ویلفیئر سوسائٹی (ایس ایس ڈبلیو ایس) کے نام سے طلبا کی ایک انوکھی تنظیم کی بنیاد رکھی ۔ اِس تنظیم کا نہ کوئی صدر ہے نہ سیکریٹری جنرل،یہ مکمل طور پر ایک غیر روایتی تنظیم ہے،اِس کا کوئی روایتی تنظیمی ڈھانچہ بھی نہیں ہے۔ اِس تنظیم میں بس ممبران ہیں، عہدیدار کوئی نہیں ہے۔ یہ سیاست سے بھی پاک ہے، اس لئے روایتی طلباء تنظیموں کے عین برعکس ہے۔ یہ تنظیم اپنے کام کی وجہ سے سماجی تنظیموں سے مماثل ضرورہے مگر اپنے انوکھے کاموں کی وجہ سے روایتی سماجی تنظیموں سے اِس کی راہیں بالکل جدا ہیں۔ میں گزشتہ چند سالوں سے اِس تنظیم کی سرگرمیاں بغور دیکھ رہا ہوں۔ اِس ننظیم کے رضاکار کبھی ہمارے ہاں سڑکوں پر بغیر روڈ سائن لگائے خونی اسپیڈ بریکرز کو رنگ کر نمایاں کررہے ہوتے ہیں،کبھی سڑکوں پر ان مقامات پر جہاں خونی حادثات میں مسافروں کی جانیں چلی گئی تھیں وہاں مرحومین کی یاد میں شجرکاری کرتے ہیں، کبھی شاہرات کے آس پاس موجود ان خطرناک پہاڑیوں اور درختوں کی نشاندیی کررہے ہوتے ہیں جن سے  اچانک سڑک پر گر کر انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہوتا ہے۔ کبھی اس تنظیم کے رضاکار سیاحتی مقامات کی ازخود صفائی کرکے،وہاں ڈسٹ بِن نصب کرکے صفائی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے واکس کا اہتمام کرتے ہیں۔ کبھی سڑکوں پر ہونے والے حادثات سے بچاؤ کے حوالے سے سیمینارز اور ورکشاپس کروا رہے ہوتے ہیں۔ کبھی جنگلات میں شجر کاری کرتے ہیں، جنگلات کو بے دردی سے کاٹنے اور نذرِآتش کرنے کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور جنگلات کی کمی کی وجہ سے ماحولیات پر پڑنے والے برے اثرات کے پہلو کو اجاگر کرتے ہیں۔

یہ لوگ روایتی سیاسی اور سماجی رہنماوں کی طرح زبانی جمع خرچ سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ سراپا عمل ہیں۔ ان کی مثبت اور تعمیری سرگرمیاں آئے روز سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان جیسے لوگ تقریریں بھی کریں تو ہمیں وہ تقریریں بھی بخوشی گوارا ہیں کہ کہ اِن کی باتیں بامقصد ہیں۔ ایس ایس ڈبلیو ایس کی سرگرمیاں محض اپنے ہاں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ فارورڈ کہوٹہ جیسے دور افتادہ علاقوں میں بھی اس تنظیم کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں ۔ اس تنظیم کے ممبران ذاتی تشہیر کے لئے سرگرداں ہیں نہ نمایاں ہونے کے لئے جھوٹے پروپیگنڈے پر یقین رکھتے ہیں، ہاں اپنے پیغام کو عام کرنے کے لئے اخبارات اور سوشل میڈیا کا استعمال ضرور کرتے ہیں۔ اس تنظیم کا پیغام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستانی زیرِانتظام کشمیر کے ہر نوجوان کو اس تنظیم کی ممبرشپ ضرور حاصل کرنی چاہئے او ر ہر فرد کو اس تنظیم کے رضاکاروں کے ساتھ ہرممکن تعاون کرنا چاہیے۔ اگر میں وطن میں موجود ہوتا تو ہاتھ باندھ کر ان نوجوانوں کے پیچھے کھڑا ہو جاتا۔ شکیب فاوق اور ان کی تنظیم کے ممبران بے لوث ہیں۔ ان جیسے لوگ ہی مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں امیدوں کے روشن چراغ ہیں،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔ شکیب فاروق نے ایس ایس ڈبلیو ایس کی بنیاد رکھ کر وہ کام کیا ہے جو ہمارے ہاں سماج کی بھلائی کے بڑے بڑے دعویدار نہ کرپائے۔ ایسے نوجوان ہمارا حقیقی قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔ دھرتی کانمک یہی نوجوان ہیں۔ خدا ان نوجوانوں کے جذبے سلامت رکھے اور انھیں استقامت دے۔


Comments

FB Login Required - comments