ظفر اقبال فاروقی: ایک رندِ پارسا


 

یہ عجیب نمازِ جنازہ تھی، عام طور پر مولوی پہلے جنازہ پڑھنے کا طریقہ بتاتے ہیں یا تھوڑا بہت قربِ قیامت کے آثار پر گریہ آوری کی کوشش کرتے ہیں، اگر مرحوم کا ذکر کریں تو عام طور ان کے فضائل گنواتے ہیں یا ان کے قرض خواہوں سے مرحوم کے پس ماندگان کے حق میں در گزر یا حسنِ سلوک کی درخواست کرتے ہیں، مگر یہاں تو مولوی صاحب فرما رہے تھے:

 

’’ مسلمانو! وقت بہت کم ہے توبہ کر لیں اس سے پہلے کہ موت آپ کو آ دبوچے، بعد میں انسان کے پاس استغفار کی مہلت بھی نہیں ہوتی۔ میں نے مرحوم کو کئی بار سمجھایا تھا کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں مگر انہوں نے کبھی میری بات پر توجہ نہ دی، میں اب اُن کے بھائیوں سے بھی کہہ رہا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو نہیں بدل سکتے تو کم از کم اپنی روش ہی بدل لیں‘‘، میرے جیسے دو ایک عقیدت مندوں کے حلق سے احتجاج کی کچھ آوازیں نکلیں، تو مولوی صاحب نے بڑی بے درد اپنائیت سے فرمایا ’اصل میں مرحوم میرے عم زاد تھے میں نے اس بنا ہی پر یہ باتیں کی ہیں، جو ظاہر ہے کہ ان کے نادان اور غافل دوستوں کو بری لگی ہیں اورالحمدللہ یہی میرا مقصود تھا، ‘ یہ ظفر اقبال فاروقی جیسے بے مثال اُستاد کی نمازِ جنازہ اور تجہیز و تکفین کا منظر تھا۔

 

سکول کے زمانے سے ہی مجھے محبوب جیلانی کی صورت میں ایک انتہائی با ذوق دوست ملا تھا، جس کے گھر میں رسالہ’نقوش‘ کے کئی شمارے تھے، فیض کے دو مجموعے تھے، سیف اور ساحر کا کلام تھا، وہ فلم، موسیقی اور ڈرامے کا شیدائی تھا، میرا گھر چونکہ ڈیڑھ کمرے پر مشتمل تھا، جس میں ہم پانچ بہن بھائی اپنے نانا کے ساتھ رہتے تھے، اس لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ جب وہ اپنی سائیکل پر وحدت کالونی سے میرے پاس نواں شہر آئے، تو پھر ہم چھاؤنی کے کمپنی باغ میں جا بیٹھیں(کچھ عرصہ ہم نے نواں شہر کے بس سٹینڈ کو ڈرائنگ روم کے طور پر استعمال کیا، مگر وہاں بس کی آمد سے مایوس ہو جانے والے مسافروں کی مغلظات ہمارے کنوارے اعصاب پر سوار ہو کر ہماری راتوں کو بے خواب کر دیتی تھیں)۔

 

بہر طورہماری محبوب شخصیتوں میں خواجہ خورشید انور، نور جہاں، کرشن چندراور مسلم سکول کے ہیڈ ماسٹر چودھری عبد الرحمن تھے، ہم گھنٹوں ان کے بارے میں باتیں کرتے، مگر جب ہم دونوں نے1966 ء میں بی۔اے میں داخلہ لیا، تو ہماری محبوب شخصیتوں میں ایک کا اضافہ ہو گیا، اور وہ انگریزی کے استاد ظفر اقبال فاروقی کا تھا۔میں نے ان سے زیادہ پر لطف اور بامعنی لیکچر دیتے کسی کو نہیں سنا۔

 

ایک تو وہ پر مزاح شخصیت کے مالک تھے، دوسرے وہ ہمیشہ پر اُمید رہتے تھے، تیسرے ان کے پاس دنیا جہان کی معلومات تھیں، اور سب سے بڑھ کر بیان کا سلیقہ، استادوں کی حسرتوں کی ماری دنیا میں وہ ہیرو کا درجہ رکھتے تھے، وہ سچ مچ کے شکاری تھے، دنیا جہان کے پرندوں اور جانوروں کے بارے میں ان کے پاس معلومات تھیں، یہ توکوئی تیس برس بعد کی بات ہے، جب انہوں نے ایک محفل میں چڑے کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ چڑیا سے اس کے وصال میں کون سی ٹیکنیکل دشواریاں ہیں، جن کی وجہ سے اس غریب کو ایک ہی وظیفے کے لئے کئی دفعہ اپلائی کرنا پڑتا ہے، ادھربعض چغد ایسے ہیں جو اس کے بھنے وجود سے جنسی استخارہ کرنے کے لئے گوجرانوالہ جاتے ہیں۔اسی محفل میں میں نے دیکھا کہ ان کے اس موثر لیکچر کے بعد نعیم چودھری اور فیاض تحسین نے اسی شام گوجرانوالے جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔

 

فاروقی صاحب نے ایک مرتبہ کلاس میں حسد اور رشک کا فرق سمجھایا تھا، کہنے لگے اگراپنے سے کسی بہتر کو دیکھیں اور چاہیں کہ ہم بھی ویسے ہو جائیں، تو یہ رشک ہے اور اگر ہم یہ چاہیں کہ وہ بھی ماشاء اللہ ہم جیسا ہو جائے تو یہ حسد ہے۔اسی طرح انگریزی ڈرامے کے ایک کردار کا ذکر ہماری کلاس میں کیا، جو ایک ٹرک ڈرائیور کا ممنون تھا کہ اپنے آپ سے غافل اس کی بیوی پر ایک جنسی گرم جوش سیٹی بجا کر اس کے معمولات ہی نہیں اس کا سراپا بھی بدل دیاتھا، اس تذکرے کے بعد آپ نے اخلاقی نتیجہ نکالا کہ آج سے تیس برس بعد آپ کو بہت سے شوہروں کی اس حسرت بھری دعا کی معنویت سمجھ میں آئے گی کہ عشق تو ہو کسی اور سے ہماری بیوی کو اور ’فائدہ‘ ہم اٹھائیں۔

 

ایوبی اور کالا باغی آمریت کے دوران فاروقی صاحب کے اکثر برجستہ فقرے ہم اپنی محفلوں میں دُہراتے رہتے تھے۔ایک مرتبہ ہکسلے کا ایک مضمون پڑھاتے ہوئے، آمروں کی مثالی دنیا کا ذکر کیا، جہاں عوام روزانہ صبح اٹھ کر یہ فقرہ دہراتی ہے ’’وی آر ہیپی، وی آر سلیو‘‘، فاروقی صاحب نے اس کا ترجمہ کیا’’ہم خوش ہیں، ہم ایوب خان کے، نواب کالا باغ کے غلام ہیں۔‘‘

 

یہ وہ دور تھا، جب ڈکٹیٹر شپ پورے جلال کے ساتھ قائم تھی، صحافت پابۂ زنجیر تھی، ڈکٹیٹر کے ساتھی الطاف گوہر اپنی عیاری اور قدرت اللہ شہاب اپنی درویشی کو ایوب خان کی دہلیز پر نچھاور کئے بیٹھے تھے۔ ہمارے شہر کے گیلانی، قریشی سبھی اس کی چوکھٹ پر سجدہ ریز تھے، ایک تنو مند گیلانی وزیر کے بارے میں انہوں نے ہماری کلاس کو سنایا کہ وہ اپنی پتلون گونگے درزی سے اس لئے سلواتے ہیں کہ وہ کسی کو ان کی کمر کا ناپ نہ بتا سکے، کیونکہ پہلے ایک متکلم درزی نے کمر کا ناپ لیتے ہوئے جب ایک سرے پر فیتہ رکھا اور گیلانی صاحب سے کہا کہ آپ اسے پکڑیں، میں دوسری طرف سے آتا ہوں‘‘، تو شام گزرنے سے پہلے یہ فقرہ پورے شہر میں پھیل چکا تھا۔

 

ہمارے کالج کے استاد خلیل صدیقی، نذیر احمد، عرش صدیقی، نصیر الدین صدیقی، اے۔ بی اشرف، ظفر اقبال فاروقی کتنے مارکسسٹ تھے؟ اس کا اندازہ تو خیر اب لگایا جا سکتا ہے، مگر اس وقت یہ ضرورتھا کہ انہیں قدامت پسند حلقے ناپسند کرتے تھے اوراسی سبب یہ ہمارے گروپ کے آئیڈیل تھے۔

 

امروز، ملتان کا ادبی اور تعلیمی صفحہ، اردو اکادمی، اور ملک کا بدلتا منظر نامہ ہماری فکری تربیت کے ساتھ ساتھ ہمیں ایسا خواب ناک آدرش وادی بنا رہا تھا، جس میں ہمیں ظفر اقبال فاروقی اور ذوالفقار علی بھٹو میں بھی مماثلتیں محسوس ہوتی تھیں۔ پھر اتفاق سے فاروقی صاحب کے سوشل گروپ میں صاحبزادہ فاروق علی خان (سپیکر قومی اسمبلی) غلام مصطفیٰ کھر کے لاتعداد بھائیوں میں سے دو چار اور اسی طرح کے کچھ مقتدر شکاری شامل تھے، چنانچہ رفتہ رفتہ ہم انہیں ملک کے باخبر حلقوں میں سے سمجھنے لگ گئے، مگر فاروقی صاحب غالباً کسی کو بھی ٹوٹ کر چاہنے کے خلاف تھے، بلکہ اپنے سابقہ محبوبین کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کسی قدر سفاک ہو جاتے تھے۔

 

مجھے یاد ہے کہ جب بھٹو جیل میں تھے اور ان پر مقدمہ چل رہا تھا، ہم نہ صرف عدالت میں ہونے والی کارروائی کے بارے میں اخباری رپورٹوں، پمفلٹوں کی ایک ایک سطر پڑھتے، بلکہ سنسر شپ کی وجہ سے بہت کچھ بین السطور بھی پڑھتے، بی بی سی سنتے اور پھر بحث ہوتی، اشرف صاحب، ارشد ملتانی، مبارک مجوکہ، ظہور شیخ، اصغر ندیم، صلاح الدین اور اسی طرح کے دوستوں سے رات گئے تک بحث جاری رہتی۔

 

ایسی محفلوں میں معروضی صورتِ حال متعین کرنے کی کوشش کی جاتی، پھر ضیاء الحق کے بارے میں تازہ ترین لطیفے سنانے کا مقابلہ ہوتا اور آخر میں نجومیوں کی پیش گوئیوں کے بارے میں کھسر پھسر ہوتی اور پھر ضیاء الحق کا تختہ الٹنے کے رومانوی منصوبے کے بارے میں تجدیدِ عہدپر ایسے جلسے ختم ہوتے مگر ایسی کسی محفل میں فاروقی صاحب شریک نہ ہوتے، انہی دنوں میں ایک مرتبہ وہ میرے ہتھے چڑھے تو میں نے انہیں خبروں اور پیش گوئیوں کا بنیادی ماخذ خیال کر کے اپنے سب دوستوں کا قومی درد بتایا اور بڑے کرب سے پوچھا’’سائیں، کیا تھیسی‘‘؟

 

فاروقی صاحب نے اپنی مونچھوں کو کوڑے کی طرح فضا میں لہرایا اور بڑے سکون سے جو کچھ کہا اس کا مہذب اور آسان ترجمہ یہ تھا’’وہ بھی قوم کی ماں کے ساتھ بد کاری کرتا تھا، یہ بھی کر رہا ہے، جو آئے گا، وہ بھی کرے گا، کیونکہ قوم کی ماں اسی کام کے لئے ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے۔‘‘

 

میں ان سے ایسے جواب کی توقع نہیں رکھتا تھا، مجھے دلی صدمہ ہوا اور سچی بات ہے کہ ان کے بارے میں میرے تصورات کو بڑی ٹھیس لگی، تب مجھے یاد آیا کہ جب وہ ہمیں بی۔اے میں ایک مضمون’’On Vulgarity‘‘ پڑھا رہے تھے، کہنے لگے لچرپن میں بھی بڑی نفاست اور معنویت ہوتی ہے، یہ اور بات کہ اسے مجلس یا محفل میں بیان بھی نہیں کیا جاسکتا، جیسے ابھی میں واش روم میں تھا، ابھی طہارت(عقبی نہیں) سے فارغ بھی نہیں ہوا تھا، کسی مردود کا چاک سے لکھافقرہ نظر پڑا’’اس وقت پاکستان کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ تب بھی ہم میں سے بہت سوں کو پاکستان کے بارے میں ان کی سفاکی اچھی نہیں لگی تھی۔

 

میرے ایک اور محبوب استاد خلیل صدیقی ظفر اقبال فاروقی سے بہت محبت کرتے تھے، حالانکہ صدیقی صاحب نے فاروقی صاحب کے اسلوب میں ایک فقرہ بھی زندگی میں ادا نہیں کیا ہو گا اور تو اور وہ تو مجلسوں میں کھل کر ہنستے بھی نہیں تھے، بس فاروقی صاحب کی مجلس میں بشاشت ان کے پورے وجود میں دوڑ جاتی، چہرہ سرخ ہو جاتا، اور کبھی کبھی کہتے انوار میاں ڈیرہ غازی خان کے خمیر میں شگفتگی اور وفا شامل ہے، میں ان سے کہتا تھا کہ وہاں کے سفاک سرداروں اور وڈیروں کے سوا، وہ کہا کرتے کہ سفاکی تو ہماری اشرافیہ کو جینے کا جواز فراہم کرتی ہے۔

 

سو ہمارے فاروقی صاحب 8 مئی 1933ء کو محکمہ تعلیم کے ایک کارکن کے گھر میں جام پور میں پیدا ہوئے، ایمرسن کالج ملتان سے 1950ء میں بی اے کیا اسی سال شادی ہوئی پھر شاید 3 برس کے بعد سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے بی۔ٹی کیا، بی۔اے کے بعد مخدوم رشید، ونجاری اور رینالہ خورد کے سکولوں میں پڑھایا اورپھر دو برس ملتان کے پائلٹ سکول میں پڑھایا، ایف سی کالج لاہور سے 57 ء میں ایم اے انگریزی کر کے ڈیرہ غازی خان کے کالج سے لیکچرر شپ کا آغاز کیا، 1959ء میں ایمر سن کالج آئے اور پھر ملتان میں ہی رہے سوائے ان تین برسوں کے جب ان کے دوست ڈاکٹر شیر زمان، علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر ہوئے تو یہ تین سال اسلام آباد کے اس ادارے میں ڈپٹی رجسٹرار بھی رہے (76ء تا 79 ء)۔

 

وہ مجلسی آدمی تھے، کتابیں بہت پڑھتے تھے، ان کی ذہانت اور بذلہ سنجی اپنے مطالعے، مشاہدے اور معلومات سے حیرت انگیز نتائج نکالنے پر قادر تھی، وہ اور کچھ نہیں تو اپنی ُ پرلطف یادداشتیں ہی تحریر کر سکتے تھے، تاہم انہوں نے تحریر کی صورت میں کچھ بھی نہیں چھوڑا، جو ان کے شایانِ شان ہو۔ میں نے عتیق فکری، حسن رضا گردیزی اور مہر عبدالحق کو یکجا کر کے ایک تقریب کا ارادہ کیا تھا اور ہر ایک پر ایک ایک مضمون بھی لکھوایا تھا۔

 

عتیق فکری کے بارے میں ظفر اقبال فاروقی سے درخواست کی، انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، سبھی دوستوں نے کہا کہ متبادل انتظام کر لو، شکاری آدمی ہیں، انہیں کہاں یاد رہے گا کہ ایک تقریب میں مضمون پڑھنا ہے، مگر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی، جب انہوں نے مضمون پڑھا، جو بہت موثر تھا، مگر وہ دلچسپ تفصیلات عتیق فکری کے بچپن کے بارے میں اس میں نہیں تھیں، جو انہوں نے خود مجھے سنائی تھیں، مضمون میں انہیں شامل نہ کرنے کا فیصلہ شاید انہوں نے اس لئے کیا ہو گا کہ اس تقریب میں عتیق فکری فوت ہو جانے کے سبب شریک نہیں تھے۔

 

ریٹائر منٹ کے بعد فاروقی صاحب 14 برس زندہ رہے، میری خواہش تھی کہ وہ زکریا یونیورسٹی کے ماڈل سکول کے پرنسپل بن جائیں، مگر وہ اپنی وکالت سے بہت خوش تھے، کہتے تھے کہ فیصلہ کرنے اور سنانے والوں کی عقل اور انگریزی میں ان کی استعداد ایک جیسی ہے، اس لئے اس پیشے میں تفننِ طبع کا سامان بہت ہے۔ آخری برسوں میں میری ملاقات ان سے بہت کم ہو گئی تھی، ایک ملاقات شاید نعیم چودھری کی سالانہ تقریبِ روزہ کشائی میں ہوئی تھی اورایک کسی اُکتائی ہوئی مجلسِ شادی میں، جہاں ہم دونوں نے جی بھر کے تاخیر کے اسباب کو گالیاں دیں، اور اسے روحِ ملتانیت قرار دینے والوں کو اور بھی زیادہ، اسی عالم میں ان کے زورِ کلام سے مجھے احساس ہوا کہ ان کی تخلیقیت اور حسِ مزاح میں کتنی شادابیت ہے۔

غالباً 5 مئی 2007ء کو انہوں نے مجھے فون کر کے حیران کر دیا، کیونکہ وہ رسمی آدمی نہیں تھے اور نہ ہی رسمی گفتگو کو پسند کرتے تھے۔ کہنے لگے یار، کل میرے گھر والوں نے میری سالگرہ منائی ہے، اور مجھے پریشان کر دیا ہے کہ میں 74 سال کا ہو گیا ہوں، سو میں نے سوچا کہ اب تو کسی بھی وقت بلاوا آ سکتا ہے، اس شہر کے اب دو چار لوگ ہیں، جن سے کم ازکم آخری دفعہ ملنے کو جی چاہتا ہے، میں نے ان سے وعدہ کیا کہ ان کی خدمت میں حاضری دوں گا۔ ان کی صحت، گفتگو اور ُ پر لطف طرزِ زیست سے کبھی لگتا ہی نہیں تھا کہ ہم ایسے ان کے شاگردوں کو اس فون کے محض 22 دن کے بعد ان کے جنازے میں شرکت کرنی پڑے گی، جہاں مولوی صاحب ہمارے آئیڈیل استاد کے بارے میں کہہ رہے ہوں گے کہ میں نے مرحوم سے بارہا کہا تھا کہ وہ خود کو نہیں بدل سکتے تو کم از کم اپنی روش ہی بدل لیں، حالانکہ یہ کام دنیا میں مولوی ہی کر سکتے ہیں کہ خود کو بدلے بغیراپنی روش کو بدل ڈالیں۔

 

(بشکریہ: گرد و پیش – ملتان)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں