عورتوں کے حقوق کا محافظ اور دل پھینک بھتیجی


غالباً 1987 کی بات ہے، کہنے کو تو وہ اغوا ہوئی تھی مگر اصل میں وہ اپنے آشنا کے ساتھ۔ بھاگ گئی تھی۔ تب لفظ آشنا ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ ویسے بھی ان دنوں بوائے فرینڈ کا معاملہ معروف نہیں ہوا کرتا تھا اور مضافات میں تو بالکل بھی نہیں بس آشنا ہی بنا کرتے تھے۔ اس کی عمر ہی کیا تھی۔ یہی کوئی پندرہ سولہ سال کے درمیان۔ وہ ماں باپ کے ساتھ ایک صنعتی بستی میں اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ رہا کرتی تھی۔

اس کا چچا عورتوں کے حقوق کا زبردست حامی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ کسی نے اسے ورغلایا ہوگا۔ اگر اپنی مرضی سے چلی جاتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن معلوم ہی نہیں کہ وہ گھر سے کیوں نکلی تھی؟ اس کو بازیاب کروانے کے لیے مجھے اس کے چچا اور پولیس والوں کے ساتھ کوئی اڑتالیس گھنٹے مسلسل کار چلانی پڑی تھی۔ بالآخر وہ برآمد ہو گئی تھی۔ البتہ لڑکا فرار ہو گیا تھا۔ یاد نہیں کہ پھر کیا ہوا تھا اور پولیس والوں نے اس کے چچا کو لڑکی گھر لے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ میں اپنی گاڑی میں اس کے چچا کے ساتھ اسے اس کے گھر پہنچانے جا رہا تھا کہ بیک وقت گاڑی کے دو ٹائر پنکچر ہو گئے تھے۔ اس کا چچا ٹائروں کو پنکچر لگوانے لے گیا تھا۔ میں اس کے ساتھ رکی ہوئی کار میں اکیلا تھا۔

وہ کہہ تو مجھے بھی چچا ہی رہی تھی لیکن اس لڑکے کے ساتھ جس کے ساتھ وہ بھاگی تھی اپنے جسمانی تعلقات کا ذکر اس بیباکی سے کر رہی تھی کہ میرے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ خوبصورت تو وہ تھی ہی اور میں بھی تب نہ اتنا مذہبی تھا نہ اتنا بوڑھا۔ عجیب الجھن میں تھا۔ اسے ان باتوں سے روکتا تھا تو وہ ہنسنے لگتی تھی اور کہتی تھی، ”تسی سنو تو“۔ حالانکہ ماہ دسمبر تھا مگر میں یہ کہہ کر کہ ”گرمی ہے“، کار سے باہر نکل کر کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ شرارتی مسکراہٹ مسکراتی رہی تھی۔ میں ڈرتا تھا کہ کہیں کھڑکی سے منہ نکال کر کہہ ہی نہ دے، ”چاچا جی مینوں تساڈی گرمی دا پتا اے“ میں ویسے ہی شرمیلا، مر ہی تو جاتا ایسا سن کر۔ شکر ہے عورتوں کے حقوق کا زبردست حامی ٹائر ٹھیک کروا کے لے آیا تھا۔ ہم دونوں نے مل کر ٹائر چڑھائے تھے اور میں ان دونوں کو لڑکی کے والد کے گھر چھوڑ کر اپنے گھر آ گیا تھا۔ آرام کیا تھا۔ شام کو جب اپنی بیوی کو پوری روداد سنائی تو وہ میری الجھن بارے سن کر کے خوب ہنسی تھی۔

مجھے تب خواتین سے ویسے ہی ڈر لگا کرتا تھا۔ بعد میں جا کر معلوم ہوا تھا کہ اصل میں میں خود اپنے ”دل پھینک پن“ سے گھبرایا ہوا ہوتا تھا۔ ان ہی دنوں مجھے عورتوں کی ایک تنظیم کو لیکچر دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ عورتیں کہاں تھیں، دو چار جوان لڑکیاں تھیں اور دو چار نوبیاہتائیں، شاید ایک کا ڈیڑھ دو سال کا بچہ تھا اور ایک کے چھوٹے چھوٹے دو بچے۔ مطلب یہ کہ کوئی بھی 25 برس سے زائد کی نہیں تھی اور میں تھا بتیس برس کا۔ پہلا لیکچر ”آزادی، آزاد خیالی اور آزاد روی“ سے متعلق تھا۔ رطب اللسانی کے دوران میں نے دیکھا تھا کہ کچھ کی آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی تھی۔ میں پھر ڈر گیا تھا۔ سب ہی تو یا دوستوں کی بیویاں تھیں یا بیٹیاں، بہنیں۔ میں نے مزید لیکچر دینے سے معذرت کر لی تھی۔

سنا ہے سولہ سالہ دوشیزہ اپنے لچھنوں سے باز نہیں آئی تھی۔ جب وہ اٹھارہ سال کی تھی تو عورتوں کے حقوق کے زبردست حامی کے سولہ سالہ بیٹے نے جو دیکھنے میں یکسر بے ضرر لگتا تھا، اسے ٹھکانے لگانے کا منصوبہ ترتیب دیا تھا۔ اس کو اس کے ایماء پر یا ممکن ہے اس نے خود ہی کس طرح ٹھکانے لگایا تھا، اس بارے میں اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکتا۔ پتہ نہیں اس کی موت واقع ہونے کا بہانہ ہیضہ بنایا گیا تھا یا زہرخورانی۔ خود کشی تو ظاہر ہے نہیں بتائی گئی ہوگی کہ اس طرح قانون نافذ کرنے کا ڈرامہ کرنے والے ٹکا پیسا بنانے کے لیے آ دھمکتے ہیں اور بدنامی علیحدہ ہوتی ہے۔ وہ بیچاری، جو زندگی کے مزے لینے کی جانب گامزن تھی، بہرحال دوسرے جہان روانہ کر دی گئی تھی۔

پھر سنا ہے کہ گھر کے لڑکوں میں ان بن ہو گئی تھی۔ کچھ کہتے تھے اچھا ہوا مار دی گئی۔ کچھ کہتے تھے ہمیں شامل کیے بنا کیوں مارا گیا۔ مارنا تھا تو اس طرح نہیں مارنا تھا۔ یہ تو بے غیرتی تھی۔ اسے مرتے ہوئے پتہ چلنا چاہیے تھا کہ آزاد خیال ہونا کیسا ہوتا ہے۔ بڑی آئی تھی آزادی مانگنے والی۔ یہ بھی آوازیں اٹھی تھیں کہ یہ سب چاچا جی کی وجہ سے ہے جو ہر وقت عورتوں کو حقوق دیے جانے کی باتیں کرتے ہیں۔ کونسے حقوق، ہم کیا انہیں روٹی، کپڑے، مکان اور عزت کے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتے۔

عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والا گھبرا گیا تھا۔ اس نے کچھ ایسا کیا تھا کہ اس کا عورتوں کو حق دیے جانے کا سارا فلسفہ بھک سے اڑ گیا تھا۔ بیٹوں کی بجائے اس نے بیٹی کی تربیت کی تھی۔ وہ زیادہ باشعور ہونے کے علاوہ اعلٰی تعلیم یافتہ بھی تھی۔ اپنے بیٹے کو مصیبت میں پھنسنے سے بچانے کی خاطر اس نے اپنی اسی بیٹی کو قربان کرنے کا کڑا فیصلہ کیا تھا۔ اپنی جانب مضبوط ہو اس غرض سے اس نے اپنی پیاری بیٹی کا زبردستی ایک بہت کم پڑھے ہوئے نوجوان سے بیاہ کروا دیا تھا

درست ہے کہ عورتوں کے حقوق کے زبردست حامی کا نہ توو بیٹا مقدمے کی زد میں آیا اور نہ ہی ان عزت پر کوئی بٹہ لگا۔ جانے والی جان سے گئی تھی اور جو زندہ رہنے کا عزم کیے ہوئے تھی اس کو دشوار گھاٹی میں اتار دیا گیا تھا۔ مگر وہ پھر بھی باہمت ثابت ہوئی۔ باوجود بہت مسائل پیش آنے کے وہ سب سے آگے نکل ہی گئی۔ مگر مجھے چالیس سال بعد اس زندہ دل لڑکی کو یونہی زندگی سے محروم کیے جانے کا سن کر کے بہت زیادہ رنج ہوا۔

آج دنیا بدل چکی ہے۔ ہر ایک کے پاس سمارٹ فون سیٹ ہے۔ سبھی لڑکیاں کسی کو پتہ چلے بغیر انٹرنیٹ پر ہر وہ چیز دیکھ لیتی ہیں جو چند عشروں پہلے لڑکے چھپ چھپ کے دیکھا کرتے تھے۔ ٹی وی کے ڈراموں میں بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ جیسے الفاظ عام بولے جاتے ہیں۔ بہنیں بیٹیاں باپ اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ سب سنتی ہیں مگر آج ی آزاد خیالی کی تو شاید کسی حد تک اجازت ہو مگر آزاد روی کو آج بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی آزادی کا کوئی کیا خاک کرے گا جس میں آزادی کی اقسام کے انتخاب کا ہی حق نہ ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں