سمندر کی خاموش قاتل لہریں – رپ کرنٹ


رپ کرنٹ۔ یہ نام مجھ سمیت اکثر لوگوں کے لئے نیا ہو گا حتیٰ کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساحلوں پر ان لہروں میں پھنس کر ڈوبنے والوں کی تعداد شارک مچھلی کے حملے سے کہیں زیادہ ہے یعنی اکثر لوگ جو پرسکون سمندر کے ساحل پر تفریح کے لئے آتے ہیں نہیں جانتے کہ ان کا پالا ان خطرناک قاتلوں سے پڑنے والا ہے جو خاموشی سے اپنے شکار کی سمندر میں دھکیل کر لے جاتی ہیں اور وہ جتنا واپس ساحل کی طرف لوٹنے کو زور لگاتا ہے اتنا ہی پانی کی گہرائی میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اسی لئے ان ساحلوں پر پیلی جھنڈیاں لگائی جاتی ہے جو اس بات کی نشاندھی کرتی ہیں کہ سمندر کا یہ حصہ پانی میں اٹھکیلیاں کرنے کے لئے محفوظ ہے اور اس سے باہر جانے کا مطلب ہے رپ کرنٹس آپ کی تاک میں ہیں۔ قبل اس کے کہ میں آپ کو ساحل کی طرف آنے والی ان قاتل لہروں کے بارے میں مزید تفصیل سے آگاہ کر وں یہ بتاتی چلوں کہ یہ ساری تمہید کس لئے باندھی؟

ناظم آباد کراچی سے ساحل سمندر پر پکنک منانے کے لئے آنے والے ان تیرہ افراد کی ناگہانی موت کی خبر نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اب سے کئی سال پہلے کی بات ہے جب کراچی کے ساحلوں پر ایک سال کے دوران دو سو سے زیادہ قیمتی جانیں سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئیں تھیں تو میری ایک کیوی (نیوزی لینڈ کی) کولیگ نے تشویش اور امید کے ملے جلے جذبات کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا تھا آخر تمہارے شہر میں اتنے سارے لوگ کیسے اتنی آسانی سے ڈوب جاتے ہیں، میں نے جواب دیا تھا آگاہی کی کمی ہے، دوسرے سہولیات بھی ناپید ہیں۔ وہ پر امید لہجے میں کہنے لگی شکر ہے کہ یہاں سے چالیس سیفٹی گارڈز وہاں جا رہے ہیں تاکہ ایک تربیتی کیمپ قائم کریں اور زیادہ سے زیادہ حفاظتی کارکنوں کی تربیت کر سکیں۔

اب معلوم نہیں ان کیوی گارڈز نے کتنے لوگوں کی تربیت کی کیونکہ کراچی کے ساحلوں پر دور دور تک سیفٹی پیٹرول کا نام و نشان نظر نہیں آتا نہ ہی ایسا ساز و سامان ہوتا ہے کہ ڈوبنے والوں کو جلد از جلد نکالا جا سکے یا کم از کم ان علاقوں کی نشاندھی کی جا سکے جہاں یہ خطرناک لہریں آتی ہیں۔ خبروں میں یہ تو کہا گیا ہے کہ ان دنوں سمندر اپنی طغیانی کے عروج پر ہوتا ہے اسی لئے ساحل پر دفعہ ایک سو چوالیس لگی ہوتی ہے لیکن پکنک پر آنے والے جذباتی نوجوان خطروں کی پرواہ ہی کب کرتے ہیں اور اپنے ساتھ کئی پیاروں کو بھی سمندر کی تہہ میں لے جاتے ہیں کہ محبت کے مارے اپنے بچوں کو ڈوبتا ہوا نہیں دیکھ سکتے اور چاہے تیرنا آئے یا نہ آئے بے خطر انہیں بچانے کو پانی میں کود پڑتے ہیں جیسا کہ اس خاندان کے ساتھ ہوا جس کے کم و بیش آٹھ افراد ایک ساتھ پانی کی قبر میں دفن ہو گئے۔ یوں بھی رپ کرنٹ کے آگے ماہر سے ماہر تیراک کی بھی ایک نہیں چلتی جب تک کہ وہ ان سے بچ کر نکل جانے کی ترکیبوں سے واقف نہ ہو۔ اب وہ نشانیاں کیا ہیں جو انہیں پہچاننے میں مدد گار ہو سکتی ہیں

پہلی بات تو یہ کہ یہ لہریں دو اطراف سے ساحل کی طرف آ رہی ہوتی ہے اور واپس سمندر کی جانب جاتے ہوئے دائرہ سا بناتی ہوئی مڑتی ہیں ایسے میں درمیان کا پانی معمول سے گہرا اور مٹیالا نظر آتا ہے اور اس پر پانی کی ننھی ننھی لہریں بن رہی ہوتی ہیں جیسے کسی نے پرسکون سطح پر پتھر پھنیکا ہو عام لوگ ان لہروں کو پہچان نہیں پاتے ۔یہ بات میں ایک بار پھر دہراؤں گی۔ ساحل کی طرف آنے والی لہریں معمول سے زیادہ جھاگ والی ہوتی ہیں اور جب واپس پلٹتی ہیں تو اپنے ساتھ بڑی مقدار میں سمندر کی مٹی بھی لے جاتی ہیں، مزید آگاہی کے لئے ان کا مطالعہ یو ٹیوب پر rip کرنٹ ڈال کر کیا جا سکتا ہے اس لئے اگلی بار جب ساحل سمندر کی سیر کو جائیں تو ایک تو چڑھتے ہوئے چاند کے دنوں میں دوسرے مون سون کے سیزن میں نہ جائیں اب آپ کہیں گے کہ تفریح کے مواقع پہلے ہی ناپید ہیں اور ایک سستی تفریح کا موقع کیوں ضائع کیا جائے تو جناب جان بھی تو اتنی سستی نہیں کہ یوں ہی گنوا دی جائے اب یہ نہ کہیے گا کہ ان کی موت ایسے ہی لکھی تھی ہاں یہ بھی سچ ہے لیکن اللہ نے بھی کہا ہے کہ بندے مکھی بال دیکھ کر کھاؤ تو صاحب جان بوجھ کر کیوں رپ کرنٹ کی شکل میں چھپی موت کے منہ میں جایا جائے

رپ کرنٹ کی شناخت اور بچاؤ کے لئے ویڈیو

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں