ہم کہ ٹھہرے اجنبی…


ramish

بات کہاں سے شروع کی جائے کہ کارِ جہاں دراز ہے اور اس سے دراز تمہارا خط جو زلفِ جاناں کے تمام تر پیچ و خم لیئے ہوئے ہے۔  غالب گمان یہی ہے کہ میں نے جو چھیڑا تو معاملہ کچھ اور الجھ جائے گا, سنورنے کے امکانات کم ہی ہیں لیکن پھر بھی ہم نے باز تو آنا نہیں۔  دنیا کا مشکل ترین کام یہ ماننا ہے کہ ماضی کیا تھا، اپنے ماضی کو تسلیم کرنا اور پھر ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے مذہب اور اخلاقیات میں فرق سمجھنا ہی اہم ہے۔  تہجد ہو یا چاشت، میلاد ہو یا مجلس، فرض ہو یا نفل, سب کر کے دیکھا، ہر کام کی الگ دعا یاد کی۔ کیونکہ تب ہر بات کا حل دعا میں نظر آتا تھا، کوشش کا کیسے سوچتے۔ سوچو ذرا یہ موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہو گا اور ایسی بہت کتابیں میں نے چاٹ رکھی تھیں۔ اور اب یہ عالم ہے کہ کل ایک چینل کے مشہور مارننگ شو میں گھر ٹوٹنے اور طلاق کی بڑھتی شرح کی وجہ پہ بات ہو رہی تھی، آثارِ قیامت کے مصنف صاحب میزبان تھے اور باقی بےتحاشا مہمان، ان میں سے علماء کی رائے تو ہم جانتے ہیں، جینز ٹی شرٹ میں ملبوس ایک نوجوان نے وجہ یہ بتائی کہ آج کل بیٹیوں کو رخصتی کے وقت بہشتی زیور نہیں دی جاتی، اس لیے طلاق کی شرح بڑھ گئی ہے۔ اتنے سادہ حل اور اس سادگی پہ میں ضرور مر جاتی اگر بہشتی زیور میں نے نا پڑھی ہوتی۔ پہلی بار میرا دل چاہا کہ کسی طرح اس بندے کو باہر نکالوں اور بہشتی زیور اسی کو دان کر دوں۔

خیر وہ غصہ کرنے والوں کا کیا ذکر کرنا کہ مجھے خود کل ہی علم ہوا کہ اپنی بات لکھنا بھی سوچ مسلط کرنا ٹھہرا ہے۔ بھلے زمانوں کی بات ہے کہ جب سوچ مسلط کرنے کے لیے لوگ ہتھیار کا، طاقت کا استعمال کرتے تھے۔ اب سوچ میرے لکھنے سے بھی مسلط ہوتی ہے۔ اسے آپ قلم کی تلوار پہ فوقیت کے حق میں ایک دلیل کے طور پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

قلم تک بات آئی تو خیال آیا یہ جس موضوع کو ہم بار بار چھیڑ رہے ہیں اس حکایتِ خونچکاں لکھنے میں ہمارے ہاتھ بھی قلم ہو سکتے ہیں اور سر بھی۔ یہ سچ ہے کہ عادتیں سروں کے ساتھ ہی جاتی ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ کچھ عادتوں کی وجہ سے سر بھی جا سکتے ہیں۔ لیکن کیا ہے نا، ہم مکالمہ کرنے کو، لکھنے کو، بات سمجھانے کو تیار ہیں اگر کوئی سننا چاہے۔ اگر کوئی مکالمہ کرنا چاہے تو ہمیں بھی اعتراض نہیں مگر ظالم مکالمہ نہیں چاہتے، سوچ کو پھانسی نہیں دی جا سکتی، سوچ محض تبدیل کی جا سکتی ہے۔ لیکن صاحب عقائد دلیل سے بالاتر ہوتے ہیں اور مکالمہ دلیل کے بغیر ہو نہیں سکتا۔ غلط عمل کو نیک جذبے کا لبادہ اوڑھا دینا اور پھر صاحبِ اسرار کا اصرار بھی کہ اب اس بات کو مانیں تو بات بڑھائیں گے۔ بھائی ہم تو بات بڑھا ہی دیں گے مگر فتوی لگانے کوئی مولوی آ گیا تو ہمارے اگلے پچھلے بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ ضربِ غضب کی مرضی، کب، کہاں، کس پہ اور کیسے وار کرے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرے۔

اچھا ہاں تم نے پڑھا ہے نا وہ آرٹیکل ؟ وہ عاصم بخشی نے شیئر کیا تھا اور میں نے انکی وال سے شیئر کیا۔ میں کشش سے انکار نہیں کرتی، مجھے کہیں کوئی اچھا لگا تو اس سے بھی انکار نہیں، لیکن محض کشش کی بنا پر کسی کے انباکس میں گھسے رہنا، اس کو گھورنا، ہاتھ پکڑنے یا فلیٹ تک لے جانے کی کوشش کرنا یہ غلط ہے۔ باہمی رضامندی سے تعلق ہو تو اس پہ اعتراض نہیں لیکن کوئی لڑکی اچھی لگی تو اسکی مرضی جانے بغیر روز فضول قسم کے پیغام بھیجنا، راستہ روکنا، پیچھا کرنا یا جب موقع لگے چومنے کی کوشش کرنا، یہ زیادتی ہے۔ ایک پیغام بھیجا جواب نہیں ملا تو بس کر دیں، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ایک کے بعد ایک سلسلہ چلتا ہے۔ مخالف جنس میں کشش ہوتی ہے، ٹھیک بات ہے، لیکن باہمی رضامندی کے بغیر گھورنا، ہاتھ لگانے کی کوشش کرنا, مسلسل رابطہ کرنا یہ سب تکلیف دہ ہے۔ کوئی اچھا لگے تو اس کو دیکھتے رہنے کو دل چاہتا ہے لیکن اس کو اپنے باپ کی جاگیر نہیں سمجھتی، اسکے انباکس پہ تاتاریوں جیسا حملہ نہیں کرتی کہ ہر چیز کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ اظہار کے بغیر جینا مشکل ہے تو مہذب طریقہ اختیار کریں، اب ایسا بھی کیا کہ ہر دوسرا انباکس اظہار سے بھرا ہو, یا پھر جب تک بلاک نا کر دیئے جائیں تب تک سکون نہ پائیں۔ کشش ایک بات ہے اور شکار سمجھ کر جھپٹ پڑنا دوسری بات ہے۔ جہاں بھی کام کرتے ہیں وہاں موجود خواتین کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھ لیں کہ وہ بھی یہاں کام کرنے ہی آئی ہیں۔ بعض اوقات کچھ لوگوں پہ تو مجھے خود بھی شبہ ہونے لگتا ہے کہ یہ ابھی ڈارون کی تھیوری کے حساب سے کسی بیچ کے مرحلے پہ ہی اٹکے ہیں۔

یعنی حد ہے، مجھے اب خیال آیا کہ میں عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر تمہیں خط لکھ رہی ہوں اور کوئی روایتی رونا نہیں رویا میں نے۔ آج رونے کا دن ہے بھی نہیں۔ جنوں کی یاد منائو کہ جشن کا دن ہے۔۔۔  تو یہاں بات ختم کرتے ہیں کہ مذہب , سماج , رسم و روایات، عزت، غیرت اور رشتے نبھاتی ہر ناقص العقل، جذباتی، مکر و فریب دینے والی، گمراہ کرنے والی عورت کو آج کا دن مبارک کہ یوسف ایک بار بازار پہنچے اور ہمیشہ کے لیے بازارِ مصر مثال بن گیا، زلیخا روز بِکتی ہے اور اس کی مثال نہیں ملتی۔ دامنِ یوسف ایک بار ہاتھ آیا تو زلیخا آج بھی معتوب ہے، زلیخا کی جو ردا، دامن، لباس، روح سب تار تار ہے اس کا تذکرہ بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لو اس پر تو فیض یاد آ گئے۔۔۔

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختمِ درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “ہم کہ ٹھہرے اجنبی…

  • 08-03-2016 at 11:25 pm
    Permalink

    Very well written

  • 09-03-2016 at 4:13 am
    Permalink

    آپ کو اندازہ بیان دھیما دلنشیں اور شاعرانہ ہے.. اس میں کشش ہے..

  • 10-03-2016 at 9:55 am
    Permalink

    ’’لکھنا بھی سوچ مسلط کرنا ٹھہرا‘‘۔ لیکن سوال اس سے پیچیدہ ہے کہ کیا چیز آپ کو مصنف بناتی ہے؟ کس طرح الفاظ، آپ کے الفاظ بن کر سامنے آتے ہیں۔ اور ایک مخصوص بیانیے کی تصدیق کرتے ہوئے طاقت پر مبنی نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ عموماََ common senseکا دور دورہ ہے اور میں محتصراََ تجربے سے یہی کہوں گا کہ its not a good sense.

Comments are closed.