روداد ہماری ریل سے محبت کی


برادرم حسنین جمال نے ریل کے سفر سے متعلق لکھ کر یادوں کے کئی دریچے وا کر دیے۔ اس لئے کہ ریل کا سفر ہمارا بھی عشق ٹھہرا۔ آج بھی آرام دہ ٹرین کا سفر دستیاب ہو تو بندہ پاکستان سے یورپ تک بلکہ امریکہ تک ٹرین پہ سفر کرسکتا ہے۔ اس کے پیچھے بچپن اور اس سے جڑی یادیں ہیں جو ناسٹلجیا بن چکیں۔

بچپن کی یادوں میں کھوئیں تو ٹرین’’ بہت آرام دہ ‘‘بھی تھی اور ’’بہت تیز رفتار‘‘ بھی۔ اتنی آرام دہ اور تیز کہ بعد میں یورپ کی تیز ترین ٹرینوں انٹر سٹی ایکسپریس اور یورو سٹار میں بھی سفر کیا لیکن وہ بچپن والا آرام اور وہ تیز رفتاری کہاں تھی جو میسر آتی۔

گھر سے بل دار پراٹھے، انڈے، مرغی کا مصالحے والا سالن ساتھ لے کر جایا جاتا تھا کہ سٹیشن پر گندے غلیظ برتنوں میں غیر صحتمند کھانا خریدنا اور کھانا سختی سے منع تھا لیکن کسی سٹیشن پر پہنچ کر ٹھیلے والوں کی آواز اور ان کے کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو ٹکراتی کہ من و سلویٰ کا گماں ہوتا اوردل چاہتا کہ گھر کے بنے کھانے کو کہیں پھینک دیں تاکہ گھر والے کھانا خریدنے پہ مجبور ہو جائیں۔

سفر عموماً ملتان سے کراچی یا کراچی سے ملتان کا ہوا کرتا تھا۔ ہمارے ایک ماموں ریلوے پولیس میں ملتان ملازم تھے ان کی وجہ سے بکنگ باآسانی ہوجایا کرتی تھی، وگرنہ تیز گام، شالیمار اور بہاء الدین ذکریا وغیرہ اس طرح لدی پھندی ہوتیں، لگتا تھا سارا پاکستان ٹرین پر ہی سفر کررہا ہے۔ مہینوں پہلے بکنگ اور وہ بھی قسمت سے۔ اس لئے ماموں کا دم غنیمت تھا کہ برتھیں اور سیٹیں باآسانی مل جایا کرتی تھیں۔

بچپن ہی میں ہم یورپ سدھار گئے کوئی 12 سال بعد شادی کرانے پاکستا ن آئے۔ شادی کے بعد ایک دفعہ پھر ریل کے سفر کا شوق چرایا اور منزل بہاولپور ٹھہری۔ بیگم صاحبہ اور نانی اماں نے لاکھ منع کیا کہ جانے دو، گاڑی موجود ہے، ٹرین کا سفر بہت وقت لیتا ہے، آرام دہ نہیں ہوتا۔ لیکن ہم کہاں ماننے والے تھے۔ بچپن کا ریل کا سفر ہمارے اندر سے نہیں نکلا تھا اور ریل کے سفر میں پہلی محبت والا نشہ باقی تھا۔ اور تو اور ہم ’’آرام دہ اور تیز رفتار‘‘ پاکستانی ٹرین پر بارہ سال پہلے تک سفر کرچکے تھے اور اب تو دنیا ترقی کر چکی تھی۔ جرمنی کی ٹرین جتنی آرام دہ نہ بھی ہوگی لیکن بہت اچھی ہوگی۔ سفر زیادہ آرام دہ کرنے کے لئے فرسٹ کلاس یا سلیپر کی ٹکٹ لے لیتے ہیں، دلیلیں دیں۔ سٹیشن سے جاکر بہاولپور کی ٹرین کے تین فرسٹ کلاس ٹکٹ طلب کیے۔ جی ہمارے پاس فرسٹ کلاس ٹکٹ کا کوٹا نہیں ہوتا۔ کوٹا؟ یہ کیا بلا ہے؟ سٹیشن ماسٹر صاحب ہمارے سوال و جواب سے تنگ آکر فرمانے لگے کل ٹرین آنے سے پندرہ منٹ پہلے آ جائیے گا، لازماً فرسٹ کلاس کی تین سیٹیں ٹی ٹی سے کہہ کر لے دوں گا۔ گارنٹی؟ سو فیصد۔

دوسرے دن سامان اٹھایا، دونوں خواتین یعنی بیگم صاحبہ اور نانی اماں کو تقریباً زبردستی سٹیشن پر لے آئے۔ ٹرین آئی، ٹی ٹی نے صاف جواب دے دیا کہ کراچی تک فرسٹ کلاس میں ایک بھی ٹکٹ دستیاب نہیں۔ سیکنڈ کلاس میں صرف تین سیٹیں ہیں، چاہیءں تو فوراً بتائیں ورنہ وہ بھی جاتی رہیں گی۔ ہم سفروں نے واک آؤٹ کردیا۔ اسٹیشن پر ملتان کی ایک فیملی نے پہچان لیا جو ماموں کے ہمسائے تھے۔ ان کے ساتھ والی سیٹیں ہی خالی تھیں۔ انہوں نے اصرار کیا ٹکٹیں لے لیں۔ ملتان تک باتیں کرتے جائیں گے سفر کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔ پھر دو تین سٹیشن آگے بہاولپور ہے۔ خیر دونوں خواتین کے ساتھ میں بھی بددلی سے راضی ہوا کیونکہ کوٹا اور سٹیشن ماسٹر کا وعدہ دونوں ہضم نہیں ہورہے تھے۔ سیکنڈ کلاس کی دنیا عجیب تھی۔ لکڑی کے تختوں والی سیٹیں؟ جرمنی کی سیکنڈ کلاس کتنی آرام دہ ہوتی ہے۔ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ سیٹی بجی اور چھک چھک، چھک چھک۔

پورارستہ عجب لطیفے پیش آئے۔ مثلاً قریبی سیٹ سے ایک شخص اٹھ کر سگریٹ پینے گیا واپس آیا تو فرش پر بیٹھی ایک موٹی خاتون اس کی سیٹ پر براجمان ہوچکی تھی۔ اس نے لاکھ اپنی سیٹ واپس لینے کی کوشش کی۔ دھونس، دھمکی دی، ٹکٹ دکھائی، منت سماجت کی لیکن خاتون نے اٹھ کے نہ دیا۔ بلکہ ڈھیٹ پنے سے جواب دیتی : ہم نے بھی سفر کرنا ہے، ہم نے بھی ٹکٹ خریدا ہے۔

قصہ مختصرملتان والی فیملی ملتان اتری اور ہم عازم بہاولپور ہوئے۔ بہاولپور سٹیشن پر ٹرین دو، تین منٹ کے لئے رکتی ہے۔ رات کے دو بج چکے تھے یکدم ٹرین رکی اور شور مچ گیا کون سا سٹیشن ہے، بہاولپور ہے بہاولپور کہیں سے آواز بلند ہوئی۔ سوچا جرمنی کی ٹرین میں تو سٹیشن آنے سے کافی پہلے اعلان ہوجاتا ہے۔ بہرحال عجلت میں سامان سمیٹا، فرش پر پڑے لوگوں کو روند ٹاپ کر دروازے تک پہنچے، دروازے کے سامنے ایک خاتون اپنے تین چار بچوں کو لٹائے دروازہ بلاک کیے سو رہی تھی۔ ان کو بحث کے بعد پرے کیا، دروازہ کھولنے لگے تو پتہ چلا دروازہ خراب ہے۔ بھاگم بھاگ اور ٹاپم ٹاپ دوسرے دروازے تک پہنچے تو ٹرین کی سیٹی بج چکی تھی۔

کسی نے چھلانگ لگانے کا مشورہ دیا، لیکن دو خواتین بھی ہمراہ تھیں۔ زنجیرڈھونڈنے تک گاڑی ویرانے میں پہنچ چکی تھی جہاں اترنے کا رسک نہیں لیا جاسکتا تھا۔ گاڑی اب خانپور جا کر رکے گی، چلیں دیکھی جائے گی۔ لیکن ریل بہاولپور سے اگلے سٹیشن سمہ سٹہ پرکھڑی تھی جہاں کسی ریلوے ملازم نے سوار ہونا تھا۔

ہم دو بلکہ تین خواتین کے ہمراہ سمہ سٹہ کے سنسان پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ تیسری خاتون وہی سیٹ پر قابض خاتون تھیں، انہوں نے بھی ہماری طرح بہاولپور اترنا تھا۔ نانی اماں راستے میں اس کی بے انصافی اور زبردستی کی وجہ سےجذبز تھیں، منزل پر نہ اتر سکنے پر نالاں اور ملکی حالات کی وجہ سے خوفزدہ۔ اپنا سارا غصہ اس خاتون پر نکال دیا کہ اسی منحوس کی وجہ سے سب ہوا ہے، یہ عذاب بنی ہوئی تھی۔
صبح کے چار بج چکے تھے، ریل کی محبت کا نشہ کب کاہرن ہو چکا تھا اور ہم سنسان سٹیشن پر کھڑے سوچ رہے تھے بہاولپور بحفاظت کیسے پہنچا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں