کیا مرد کا سہارا ہی عورت کی خوشی کا ضامن ہے؟


سوشل میڈیا پر بہت سے بے سر و پا مباحثے بھی نظر سے گزرتے ہیں اور کچھ کام کی باتیں بھی۔ ایک مباحثہ میری نظر سے گزرا جس میں کچھ لوگوں کا موقف تھا کہ جن خواتین کی شادی کی مروجہ عمر میں کسی بھی وجہ سے شادی نہیں ہو پاتی وہ اگر بڑھتی ہوئی عمر میں کسی شخص کی دوسری یا تیسری بیوی بن جائیں تو ایک بڑا مسئلہ حل ہوجائے۔ ہمارا مذہب مرد کو دوسری اور تیسری شادی کی اجازت تو دیتا ہے، مگر کیا خواتین کا تنہا رہنا ایک مسئلہ ہے اور ان کے لئے دوسری یا تیسری بیوی بن کر رہنا ہی واحد حل ہے؟

میری ایک پرانی دوست ہے جو کہ ایک دندان ساز ہے، اس نے شادی نہیں کی مگر اپنے کام سے بہت خوش اور مطمئن ہے۔ اپنے کام میں زیادہ سے زیادہ مہارت حاصل کر رہی ہے، تحقیق کر کے مقالے لکھتی ہے، کام بھی کر رہی ہے اور مزید پڑھائی بھی۔ اس سے بات کر کے طبیعت میں ایک تازگی بھر جاتی ہے کیونکہ وہ ہر وقت ایک مددگار رویے کے ساتھ بات کرتی ہے۔ وہ ایک مکمل شخصیت کی مالک ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ شادی شدہ نہیں، اس سے اپنے شوہر یا بچوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے مجھے کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی کیونکہ اس کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں مطمئن ہوتے ہوئے آپ کی زندگی کو اس کی اپنی جگہ دیتے ہوئے آپ کی بات سمجھ سکتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے حلقہ احباب میں ایک اور بہت دانشمند خاتون ہیں جو اپنے شعبہ میں کمال کی مہارت رکھتی ہیں،۔پی، ایچ ، ڈی کے بعد ڈھیروں کتابیں لکھ چکی ہیں اور اب بڑھاپے کے باوجود خود کو مصروف رکھے ہوئے ہیں۔ بہت سی این جی اوز سے بھی وابستہ ہیں، سماجی کام کرتی ہیں، انہوں نے شادی نہیں کی مگر ایک بچہ گود لے کر اسے پروان چڑھایا، اب وہ جوان ہے اور یہ اس کے بچوں کو بھی کھلاتی ہیں اور یہ بھی میری دوست کی طرح ایک خوش، خوشگوار اور مکمل شخصیت کی مالک ہیں۔ ایک اور استانی تھیں میری اردو کی، جنہوں نے شادی نہ کی اور اپنے بھائی کی یتیم اولاد کو پالا تمام زندگی۔

اس کے علاوہ بھی میں بہت سی ایسی کامیاب عورتوں سے واقف ہوں جو ایک مرد کے سہارے کے بغیر ایک خوش اور مطمئن زندگی گزار رہی ہیں۔ ہاں چند ایک ایسی خواتین سے بھی واقف ہوں جو اس کو ایک ناکامی یا کمی سمجھتی ہیں، جو کسی کا ساتھ نہ ملنے کی وجہ سے پژمردگی کا شکار ہیں اور اس کا غصہ یا فرسٹریشن ارد گرد کے لوگوں پر نکالتی ہیں، جو چڑچڑی ہو گئی ہیں اورانہوں نے ایک مدافعانہ طرز عمل اپنا لیا ہے۔ مگر بہت سی خواتین ایسی بھی ہیں جو واقعی ہی میں خوش ہیں، وہ ایک ساتھی کے ساتھ نہ ہونے کو ناکامی نہیں سمجھتیں بلکہ اپنی ذات سے بھرپور فائدہ اردگرد کے لوگوں اور معاشرے کو پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ان میں سے کچھ خواتین کے تنہا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شادی کی مروجہ عمر میں ان کی شادی ہوئی مگر چل نہ سکی اور اس ایک ناکام تجربے کے بعد انہوں نے دوبارہ شادی نہ کی اور کچھ کی یہ وجہ بھی ہے کہ انہوں نے اس مروجہ عمر میں آئے ہوئے رشتوں کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک ایسی شادی جس میں سمجھوتہ بے حد زیادہ اور رفاقت بے حد کم ہو، اس سے بہتر ہے کہ مجرد ہی رہا جائے۔

مرد اور عورت دونوں ہی ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے اور کسی عورت کا تنہا رہنا ہمارے معاشرے میں خصوصا آسان نہیں، مگر تنہا رہتے ہوئے ساتھ میں خوش بھی رہنا کچھ ایسا ناممکن بھی نہیں۔ یہ خواتین جن کا ذکر میں نے ابتدا میں کیا، خود بھی خوش اور مطمئن ہیں اور اپنے سے وابستہ افراد کو بھی کسی نا کسی طرح سے نفع اور فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ ان تمام خواتین میں جو مشترک قدریں میرے مشاہدے میں آئیں وہ یہ تھیں کہ یہ سب اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور کسی نہ کسی شعبے میں ترقی کر رہی ہیں۔ یہ اپنے اوپر اعتماد رکھتی ہیں اور جذباتی طور پر مضبوط ہیں۔ یہ خوش رہتی ہیں اور دوسروں کے رویے کی زیادہ پروا نہیں کرتیں بلکہ دوسروں کی مدد کی خواہاں رہتی ہیں۔ یہ سب ان سب امور میں طاق ہیں جو صرف مردوں کا خاصا سمجھی جاتی ہیں، گاڑی خود چلاتی ہیں اور سفر سے نہیں گھبراتیں۔ مگر ان کی خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ ان کا واسطہ زیادہ تر معاشرے کی اس پرت میں موجود لوگوں سے پڑتا ہے جو تہذیب کے ایک خاص درجے پر ہیں۔ اصل میں ایک اکیلی خاتون کا سروائیو کرنا یا خوش رہنا چنداں مشکل نہیں اگر اسے تحفظ حاصل ہو۔ آج فیس بک کے ایک پیج پر ایک بہت اچھی سطر پڑھی کہ مرد کہتے ہیں کہ عورت ذات اگر اکیلی ہو تو غیر محفوظ ہوتی ہے مگر یہ نہیں بتاتے کہ کس کی وجہ سے؟

شادی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کسی کی بھی خاتون کے حالات کے مطابق سامنے آنے والی ترجیحات پر مبنی ہے جنہیں وہ خود بہتر طور سے سمجھ سکتی ہیں ۔ مگر تنہا رہنا بہت آسان ہو جائے اگر ہم تعلیم عام کریں اور قوانین پر عمل کریں تاکہ ہر خاتون خود کو اور اپنی املاک کو محفوظ سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے کر سکے۔ لڑکیوں کی ایسی تربیت کریں کہ انہیں خود پر اعتماد ہو اور وہ جذباتی طور پر ایک مضبوط شخصیت کی مالک ہوں۔ انہیں اپنی زندگی خود گزارنا سکھائیں اور ایسے کہ وہ بھی کسی لے لئے دل آزاری کا باعث نہ بنیں۔ بنیادی لائف سکلز لڑکوں اور لڑکیوں کو یکساں سکھائیں۔ اپنے رویے کو بدلیں اور غیر شادی شدہ خاتون کی زندگی یا تنہا رہنے کے فیصلے پر تنقید مت کریں۔ اگر ہم ایک محفوظ اور اعتماد کی فضا قائم کریں تو شادی کے بغیر رہنے والی خواتین بھی یقینا خوش رہ سکتی ہیں اور مناسب وقت پر اپنے لئے صائب فیصلے کر سکتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے [email protected]

maryam-nasim has 58 posts and counting.See all posts by maryam-nasim