لاہور کا بازار حسن اور پران


لاہور کے بازارحسن میں پان کھانے کے لیے جانا پران کے اداکار بننے کی بنیاد بنا۔ فلم میں کام، ان کے سان گمان میں بھی نہ تھا۔ دماغ میں صرف اورصرف فوٹوگرافر بننے کا سودا سمایا تھا۔ اس شوق کی خاطر اٹھارہ برس کی عمر اپنا گھر بار چھوڑ کر لاہور آ گئے تھے۔ دہلی میں جس فوٹوگرافرز کمپنی سے وابستہ تھے اس نے لاہور میں برانچ کھولی تو انھیں ادھر بھیج دیا گیا۔ شوق جس قدرفراواں ہو، آدمی رموز اتنی ہی سرعت سے سیکھ لیتا ہے، اس لیے پران فن فوٹوگرافی سے متعلق جلد بہت کچھ جان گئے۔ وہ اپنے کام کی رفتار سے مطمئن اور شاد کام تھے لیکن بیچ میں ایسا پیچ پڑا کہ انھیں اپنے اْس شوق سے ناتا توڑنا پڑا جس سے میٹر ک کے بعد جڑ گئے تھے۔ اس کے بجائے وہ پیشہ اختیار کرنا پڑا، جس میں تصویریں اتارنے کے بجائے تصویر اترنے کا سامان پیدا ہونا تھا۔ قسمت کس طرح پران کو گھیر گھار کر فلم انڈسٹری میں لے گئی، اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ پران غم روزگار سے فراغت کے بعد دوستوں کے ہمراہ سیرسپاٹے کے لیے نکلتے تو کھانے کے بعد بازارحسن کا رخ بھی کرتے جہاں حسیناؤں کا رخ روشن بھی ضرور دیکھتے ہوں گے اور ان کی آواز سے جی بھی بہلاتے ہوں گے لیکن بازار میں جانے کی ایک وجہ پان کھانا بھی تھا۔

1939ء میں جاڑوں کی ایک رات وہ حسب معمول پان کھانے ادھر گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بڑے غور سے ان کو سر تا پا دیکھ رہا ہے۔ پہلے پہل تو پران نے اسے نظرانداز کیا لیکن پھر ان صاحب نے بڑھ کر نام پوچھ لیا تو انھوں نے ٹکا سا جواب دیا۔ ان سے مخاطب شخص فلمی دنیا کی معروف شخصیت ولی محمد ولی تھے، جو ولی صاحب کے نام سے معروف تھے۔ انھوں نے پران سے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ فلم رائٹر ہیں اور مشہور پروڈیوسر دل سکھ پنچولی کے لیے فلم لکھ رہے ہیں۔ پران نے ولی صاحب کی تمام معروضات سن تو لیں لیکن رکھائی سے کہا: تو پھر؟ ولی صاحب نے اس ترش روئی پر بھی پران کا پیچھا نہ چھوڑا کہ انھیں پران کے پان چبانے کی لْک میں اپنے اسکرپٹ میں موجود کردار کا پرتو نظرآ گیا تھا۔ اب ان کا سوال تھا ’’کیا آپ فلم میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟‘‘اس سوال پر پران نے نفی میں جواب دیا۔

بہرکیف ولی صاحب کو اس بڑی سی ناں نے بھی مایوس نہ کیا اور انھوں نے اپنا کارڈ پران کو دے کر اگلے روز صبح دس بجے فلم سٹوڈیوآنے کی دعوت دی، جس کو پران نے ان سے جان چھڑانے کے لیے قبول کر لیا۔ پران کو فلم اسٹوڈیو جانا تھا نہ وہ گئے۔ چند دن بعد پلازہ سینما میں فلم دیکھنے گئے تو ادھر ولی صاحب سے ملاقات ہو گئی، جنھوں نے اس نوجوان کو وعدے کے مطابق فلم سٹوڈیو نہ آنے پرکھری کھری سنائیں۔ اس گوشمالی کا پران پرخاطر خواہ اثر ہوا۔ انھوں نے سٹوڈیو آنے کا وعدہ کیا اور پھر اسے وفا کرنے ادھر پہنچ گئے۔ سکرین ٹیسٹ کے ساتھ پران کی تصاویر بھی بنائی گئیں، جو کچھ دیر میں دھل کر آگئیں۔ پران کے بقول، جیسا خوبصورت وہ ان تصویروں میں دکھائی دیے، آنے والے برسوں میں ہرچند کہ اس کی ہزاروں تصاویر بنیں لیکن ویسی خوبصورتی پھر دکھائی نہیں دی۔ پران کے بقول، ’’ ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ میرا میک اپ بہت اچھے طریقے سے کیا گیا تھا یا پھر فوٹوگرافرکوئی ماہر تھا یا پھرمیں کوئی بڑا خوبصورت آدمی تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ میں اس وقت اداکار نہیں بنا تھا اورحقیقی زندگی گزار رہا تھا، ایک عام زندگی جو دوسرے لاکھوں لوگوں جیسی تھی۔

‘‘ قصہ مختصریہ کہ پران کا پنجابی فلم ’’یملا جٹ‘‘ کے لیے انتخاب ہوگیا۔ پران ذہنی اعتبار سے فلم میں کام کے لیے تیار تھے لیکن فوٹوگرافر سے فلمی اداکار بننے کے فیصلے سے والد کو آگاہ کرنے کا مرحلہ ابھی طے ہونا تھا۔ اس زمانے میں فلم والا ہونا ذریعہ عزت نہ تھا۔ پران کا تذبذب میں مبتلا ہونا، سیٹھ دل سکھ پنچولی کو ناگوارگزرا تو اس نے صاف لفظوں میں مستقبل کے اس اداکار کو باور کرا دیا کہ وہ خوش قسمت ہے جو اسے یہ چانس مل رہا ہے وگرنہ تو فلم میں کام کے خواہش مندوں کی لائنیں لگی ہیں۔ پران پر واضح کر دیا گیا کہ اسے فلم سٹوڈیو کا فارم فوراً بھرنا ہو گا۔ پران کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ فوٹو گرافرز کمپنی سے فوٹوگرافر اسسٹنٹ کے طور پر اسے دو سو ماہانہ ملتے تھے جبکہ ادھراسے ماہانہ پچاس روپے کی پیشکش کی جا رہی تھی۔ پنچولی نے اب انھیں کہا کہ وہ بدستور دکان پر جاتے رہیں، جب شوٹنگ ہو گی، یا ان کی ضرورت پڑے گی تو انھیں بلا لیا جائے گا۔ یوں پران نے فارم پر دستخط کر دیے اور وہ پنچولی آرٹ پکچرز اسٹوڈیوز میں ملازم ہو گئے۔ پران کے بقول، ’’یملاجٹ ‘‘ ریلیز ہونے کے بعد انہیں لوفر کے بجائے اداکار سمجھا جانے لگا تھا۔ پنچولی سٹوڈیو کے پلیٹ فارم سے پنجابی فلم ’’چودھری‘‘ میں بھی انھیں کاسٹ کیا گیا۔ ۔ اس کے بعد فلم ’’خزانچی‘‘ میں کام کیا۔ لیکن صحیح معنوں میں پران کو جس فلم سے بریک ملا وہ 1942 میں بننے والی فلم ’’خاندان‘‘ تھی۔ پران کو اس فلم نے شہرت کی بلندیوں پر تو پہنچا دیا لیکن فلم میں گانوں کی بھرمار اور ہیروین کے پیچھے درختوں کے گرد بھاگنا انہیں زیادہ اچھا نہیں لگا۔ اس سوچ کے زیراثر پران نے آئندہ برسوں میں خود کو ولن کے کرداروں کے لیے مخصوص کرلیا تھا کیوں کہ ان کے خیال میں ایسے کردار میں وہ زیادہ بہترطور پر فنکارانہ صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے تھے۔

لاہور میں قیام کے دوران پران کی فلمی صحافی وی این نیر سے بھی دوستی ہوئی۔ نیر نے1940ء میں لاہور سے انگریزی ماہنامہ فلم کرٹک جاری کیا۔ نیر کی سفارش پر پران کو پنجابی فلم ’’پردیسی بلم‘‘ میں چانس ملا۔ یہ فلم بھی کامیاب رہی۔ اس فلم کی پران کی زندگی میں اہمیت یہ تھی کہ اس سے حاصل ہونے والے معاوضے سے انھوں نے کار خریدی۔ 1945ء میں پران کی شادی جان پہچان کے لوگوں کی لڑکی شکلا سے ہوئی، معاملہ تھوڑا لٹکا جس کی وجہ لڑکے کا فلم میں کام کرنا تھا لیکن دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، اس لیے کام بن گیا۔ پران اس شادی کو محبت اور ارینج دونوں ہی قراردیتے ہیں۔ دونوں خاندانوں کے تعلقات قریبی رہے ہوں گے یہی وجہ ہے کہ شکلا نے ایک جگہ بتایا ہے کہ جب پران کی پہلی فلم’’ یملا جٹ ‘‘ ریلیز ہوئی تواس کا سارا خاندان اسے دیکھنے کے لیے راولپنڈی سے لاہور گیا۔ لاہور میں اپنے آٹھ برس کے فلمی کیرئیر میں پران نے  22 فلموں میں کام کیا۔

’’بت تراش‘‘ فسادات کے زمانے میں ریلیز ہوئی۔ فلم ’’شاہی لٹیرا‘‘ تو تقسیم کے بعد بھی لاہور میں فلم بینوں کی توجہ کا مرکز رہی۔ پران کو لاہور شہر نے اپنے سحر میں گرفتار کرلیا تھا۔ یہاں انھوں نے بڑے مزے سے زندگی گزاری۔ گلے میں کیمرہ ڈالے وہ سائیکل پر گھومتے پھرتے۔ موٹرسائیکل پر شہرنوردی بھی کی اور ایک بار تو ایکسیڈنٹ کرا بیٹھے جس پر انہیں مجسٹریٹ کے حضور پیش ہو کر صفائی دینا پڑی۔ ان کا اپنا ذاتی ٹانگہ تھا۔ اس شہر ہی میں انہوں نے پہلی گاڑی خریدی۔ 11 اگست 1946ء کو پران کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب سیاست کی گرما گرمی سے ماحول میں تناؤ تھا اور جوں جوں آزادی کا وقت قریب آرہا تھا، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کمزور پڑتی جا رہی تھی۔ حالات کی سنگینی کے پیش نظر بیوی اور نوزائیدہ بچے کو پران نے اندور بھجوا دیا۔ کشیدگی عروج پر پہنچی تو انھیں بھی لاہور چھوڑنا پڑا۔ پران کے سوانح نگار بنی روبن کے مطابق، اگر تقسیم نہ ہوتی تو ممکن ہے کہ پران لاہور میں رہنے کو ترجیح دیتے کیوں کہ وہ یہاں اپنی ازدواجی زندگی شروع کر چکے تھے۔

معروف براڈ کاسٹر عارف وقارکے بقول’’اداکار پران جو لاہور کو دل وجان سے چاہتے تھے، آخری وقت تک حالات بہتر ہونے کا انتظار کرتے رہے انھوں نے اپنی بیوی اور ایک سالہ بچے کو اندوربھیج دیا تھا لیکن خود لاہور چھوڑنے کو ان کا دل نہ چاہتا تھا۔ گیارہ اگست1947ء کو خیر خواہوں کے اصرار پر انھوں نے ڈبڈبائی آنکھوں اور بھاری قدموں سے لاہور کوخیرباد کہا اور اگلے ہی روز ان کے محلے پر فرقہ پرستوں نے حملہ کردیا۔ بہت سے ہندو مارے گئے، جو بچ رہے انھوں نے فوراً رخت سفر باندھا اور محفوظ علاقوں کی راہ لی۔ ‘‘

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں