خواجہ اظہار الحسن پر حملہ اور تعلیمی ادارے۔۔۔


دنیا بھر کی یونیورسٹیاں میں نوجوان تحقیق کر کے سائنس میں کمالات حاصل کر کے زندگی کے لئے آسانیاں پیدا کر دیتے ہیں۔ ایک ہمارا بدقسمت ملک ہے جہاں کی یونیورسٹیاں نہ تو بین القوامی لحاظ سے رینکں گ میں کوئی مقام پیدا کر سکیں اور نہ سائنسی تحقیق میں کوئی کارنامہ جس پر دنیا رشک کریں اور ہمارے کام کو سراہے۔

سائنسی تحقیق اور رینک کو ایک طرف رکھیں!

آج کل تو ہمارے تعلیمی اداروں کے اندر شدت پسند اور دہشت گرد پیدا ہو رہے ہیں، کیا خواب دیکھے ہوں گے اُن والدین نے جنھوں نے اپنا پیٹ کاٹ کے اپنے لخت جگروں کو پڑھانے کا خواب دیکھا ہو گا، مگر اُن کو کیا معلوم کہ اُن کے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کرنے کی بجائے تعلیمی اداروں کے اندر ہی شدت پسند اور دہشت گرد بنیں گے جو بعد میں اُن کا سر شرم سے جھکا دیں گے۔۔۔۔

کیا پاکستان کی جامعات میں ہندوستان یا افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں کام کررہی ہے جو ہمارے بچوں کے ذہنوں میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے بارود بھر رہی ہیں یا پھر جامعات کے اندر ہی ایسے حالات ہے جو ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسفزئی کی بجائے نورین لغاری یا پھر مشال خان کے قاتل عارف جیسے شدت پسند پیدا کر رہے ہیں۔ کوئی تو ایسی وجہ ہوگی جن کی وجہ سے آج ملک کے نامور سیاست دان خواجہ اظہار الحسن جیسے لوگوں پر حملہ اور افراد ہمارے تعلیمی اداروں سے نکلتے ہیں۔

2013ء کی بات ہے۔ میں خیبر پختون خوا کی ایک یونیورسٹی میں پڑ ھ رہا تھا۔ ایک دن کلاس ختم ہونے کے بعد جب ہم چائے پینے کے لئے نکل رہے تھے تو ہمارے کلاس میں ایک اعلان ہوا، بھائیوں آج چائے پینے سے پہلے کلاس میں پندرہ منٹ بیٹھنے کی زحمت کریں کیونکہ باہر ایک مذہبی سکالر انتظار کر رہے ہیں جو اپ کو درس قران سے مستفید کریں گے۔ کچھ طالب علم نکل گئے اور کچھ اندر ہی سکالر صاحب کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ اسی وقت کلاس میں ایک بائیس سالہ نوجوان داخل ہوا جس کی ہلکی ہلکی داڑھی تھی اور ایک لمبا سا کُرتا زیب تن کیا ہواتھا۔ سلام کرنے کے بعد انھوں نے ہمارے درمیان کچھ پمپلٹس تقسیم کئے جس پر لکھا تھا۔۔

کافر کافر قادیانی کافر۔ ۔۔۔۔۔۔۔

ان پمفلٹس کو دیکھ کر میرے اندر عجیب سی کیفیت پیدا ہونا شروع ہوئی کہ ایک تعلیمی ادارے کے اندر کس قانون کے تحت ایک شخص کو اجازت دی گئی کہ وہ ملک کی ایک اقلیت کے خلاف کھلے عام ایسے نفرت امیز درس کا اہتمام کریں، میری طبیعت بوجھل ہوگئی اور میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ چائے پینے کے لئے کینٹین کا رُخ کیا مگر طبیعت نارمل نہ ہوئی اور بریک کا وقت ختم ہونے کے بعد جیسے ہی میں کلاس روم میں داخل ہوا تو کلاس روم کے ہر کھڑکی، کرسی اور میز پر کافر کافر قادیانی کافرکےپمفلٹس چسپاں ہوتے دیکھے، بعض طالب علموں نے وہ پمفلٹس اپنے ہاسٹلوں کے دروازوں اور دیواروں پر بھی چسپاں کئے۔۔۔ میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا بھائی سکالر صاحب کس چیز پر درس دے رہے تھے تو اُنھوں نے جواب دیا اپ کو پتہ نہیں، قادیانیت کتنا بڑا فتنہ ہے اس ملک کے تباہی کے لئے، اور آپ کو پتہ بھی نہیں؟

میں نے پھر سوال کیا تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے اس فتنے کو روکنے کے لئے۔۔۔؟ تو اس نے جواب دیا یہی کہ قادیانیوں کے چیزوں کا بائیکاٹ کیا جائے بس۔۔۔ اور میں نے چپ کا روزہ رکھ لیا۔

جب ملک کے جامعات کے اندر کالعدم جماعتوں کے سٹوڈنٹس ونگ نوجوانوں کو صرف اس وجہ سے تشدد کا نشانہ بنائیں گے کہ وہ موسیقی کیوں سنتے ہیں یا پھر لڑکے اور لڑکیاں جامعات کے اندر اکھٹے کیوں بیٹھتے ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ اس پر خاموش ہو تو کیا ان جامعات سے کوئی سائنس دان یا پھر سقراط نکلنے کی اُمید ہے؟ بالکل نہیں۔ ان جامعات سے پھر خواجہ اظہار الحسن پر حملہ کرنے والے اور مشال خان کے قاتلوں جیسے وحشی نکلتے رہیں گے۔۔۔

کیونکہ مسلمانوں کے لئے یہ دنیا نہیں، یہ جامعات، یہ سائنس سب فریب اور ہنود و یہود کی ایجاد ہیں۔ ہمارا تو ایک ہی راستہ ہے کسی کو قتل کرو اور جنت کا ویزا حاصل کرو۔۔۔ بس۔۔۔۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عبداللہ ملک کی دیگر تحریریں
عبداللہ ملک کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں