جینٹل مین ولایتی پسند کرتے ہیں


آپ نے شاید نوٹ کیا ہو کہ نام ہے تو جہان ہے۔ اور جہان کی بات ہو تو جو بات ولایتی میں ہے وہ دیسی میں کہاں۔ اس دنیا کی فکر تو ولایت والے کرتے ہیں، ہم اس سے بے نیاز ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں کہ مختلف پیشوں کے نام دیسی سے ولایتی کیے گئے ہیں تو ان سے عزت میں کیسا اضافہ ہوا ہے۔

کہاں وہ وقت جب نائی کی دو ٹکے کی عزت نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح کے رکیک محاورے وجود میں آ چکے تھے کہ ’تو بندہ ہے یا نائی ہے؟ ‘۔ لیکن جب نائی کو ہیئر ڈریسر، پھر ہیئر سٹائلسٹ اور آخر کار بیوٹی ایکسپرٹ کیا گیا تو لوگ کتنی عزت کرنے لگے۔ اب کچھ ہی وقت جاتا ہے جب ہیئر انجینئیر نمودار ہوں گے اور الیکٹریکل انجینئیر سے ٹکر لیں گے۔ اب کام وہی ہے، لیکن انگریزی لازم ہے۔

دائی کو ہی دیکھ لیں۔ فرہنگ میں اس کا مطلب لکھا ہے کہ دایہ، جنائی، جنانے کا پیشہ کرنے والی۔ اپنے وقت میں وہ اس فن کی ماہر ہوتی تھیں۔ تعلیم عام ہوئی تو اس لفظ کی توقیر گئی۔ جو زیادہ پڑھ لکھ نہ سکیں وہ لیڈی ہیلتھ وزیٹر ہو گئیں، جنہوں نے پانچ سال میڈیکل کی پروفیشنل تعلیم پائی وہ لیڈی ڈاکٹر کہلائیں۔ آپ کسی لیڈی ہیلتھ وزیٹر کو ہی دائی کہہ کر دیکھ لیں کہ آپ کی کتنی عزت اتارتی ہے۔ اب کام وہی ہے، لیکن انگریزی لازم ہے۔

گھر میں کام کرنے والی ملازمہ کو سو پچاس برس پہلے ماما کہا جاتا تھا۔ ڈپٹی نذیر احمد کی ماما عظمت آپ کو خوب یاد ہو گی۔ وقت بدلا، اسے میڈ بنا کر آپ نے اپنا رتبہ بڑھا لیا۔

کیا کیا گویے ہوا کرتے تھے۔ میاں تان سین نے تو اتنا رتبہ پایا کہ اکبر اعظم کے نو رتنوں میں شامل ہوا۔ مگر پھر وقت بدلا تو قوم کو احساس ہوا کہ گویا کہلانے میں عزت نہیں ہے۔ کچھ غزل گو ہوئے، کچھ گلوکار کہلائے اور اب سنگر سے ہوتے ہوئے ووکلسٹ بن کر رتبہ عظیم پا چکے ہیں۔

نوٹنکی باز ہوا کرتے تھے۔ جگہ جگہ ناٹک کرتے تھے۔ مگر ان کی عزت اسی وقت بنی جب وہ تھیٹر آرٹسٹ سے ہوتے ہوئے اداکار اور پھر ایکٹر قرار پائے۔ نٹ گلی گلی جسمانی کرتب دکھایا کرتے تھے۔ لیکن ان کی ٹکے کی عزت نہیں تھی۔ عزت پانے کی خاطر ان کو پہلے پرفارمنگ آرٹسٹ اور پھر جمناسٹ بننا پڑا۔

منشی کو ہی دیکھ لیں۔ بڑے بڑے راجے مہاراجے منشی رکھتے تھے۔ ہر لکھت پڑھت کا کام وہی کرتے تھے۔ علم کی ایک بڑی مانی جانے والی ڈگری بھی منشی فاضل کہلاتی تھی۔ پھر یہ لفظ بھی عزت کھو بیٹھا۔ نچلے درجے کے منشی ایک دن کلرک ہوئے اور اونچے درجے کے سیکرٹری کہلا کر عزت پا گئے۔

بھٹیار خانہ بھی ہماری تہذیب کا ایک حصہ ہوا کرتا تھا۔ کیا کیا قصے مشہور تھے طرحدار بھٹیارنوں کے۔ اب وہ خواب و خیال ہوئے۔ اب تو ریستوران والے کی عزت ہوا کرتی ہے۔

اب دلال کو ہی دیکھ لیں۔ صدیوں سے سودوں میں اپنا حصہ لینے والا دلال ہی کہلاتا آیا ہے۔ پھر زمانے نے ایسا پلٹا کھایا کہ لوگ اس لفظ کو برا جاننے لگے۔ دلال برے ہیں، ہاں ایجنٹ عزت والے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ خواہ کمیشن ایجنٹ ہیں، سٹاک بروکر ہیں، یا پراپرٹی ایجنٹ، عزت انگریزی میں ہی ملے گی۔ اردو میں عزت کہاں۔ اردو میں ہنر نہیں ہوتا، گالی ہوا کرتی ہے۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1012 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar