بامیان، آثار قدیمہ اور قدیم تر تہذیب کی واپسی (1)


”یہاں ہمیں گوتم بدھ کی کئی چھوٹی چھوٹی مورتیاں ملی ہیں جو پانچ سو قبل از مسیح کی ہیں،اس سے میرا یقین پختہ ہو گیا ہے کہ ہم جلد ہی گوتم کے ایک ہزار فٹ طویل لیٹے ہوئے مجسمے کو تلاش کر لیں گے“وہ جب بول رہا تھا تواس کی آنکھوں کی چمک اس کے یقین کی پختگی کا اظہار کر رہی تھی اور اس چہرے کے تاثرات اس بچے کی معصومیت سے ملتے جلتے تھے جیسے اس کا پسندیدہ خزانہ مل گیا ہو۔

ڈاکٹر تارزی کا تعلق افغانستان سے ہے۔ آثارِ قدیمہ سے دلچسپی ان کا شوق ہی نہیں پیشہ بھی ہے، لیکن ملک پر طالبان کی رجعت پسندانہ حکومت کے قبضے کے باعث وہ اپنے پیشے سے کٹ کر رہ گئے تھے اور جب بامیان میں 2000ء میں گوتم بدھ کے طویل القامت مجسمے کو طالبان نے بارود سے اُڑا دیا تو انھوں نے احتجاجاً خودساختہ جلا وطنی اختیار کر لی۔ نیشنل جیوگرافک پر دکھائی گئی خصوصی ڈاکو مینٹری میں گوتم کے مجسمے کو بم سے اُڑائے جانے کا ایک عینی شاہد جو وہاں مقامی ہزارہ تھا، بتا رہا تھا کہ، ” انھوں نے (طالبان نے ) ہمارے کئی رشتے داروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، میرا خاندان بامیان پر ہونے والی ان کی بمباری میں مارا گیا، مجھے انھوں نے زندہ پکڑ لیا، پھر میرے ہاتھ پیر باندھے، مجھ پر تشدد کیا اور پھر مجھے گوتم کے بلند مجسمے کے اندر بارود رکھنے پر مجبور کیا، تب میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں، پھر جب انہوں نے ایک خفیہ آلے (ریموٹ کنٹرول) کے ذریعے اسے بم سے اُڑا دیا تو مجھے ایسا لگا یہ بم میرے اندر پھٹا ہے۔

ڈاکٹر تارزی

وہ شخص اپنی نم آلود آنکھوں کو ہاتھوں سے چھپاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ، ” مجھے یوں لگا جیسے کان کے پردے پھٹ گئے ہوں، ہر طرف گرد کی دھند چھا گئی تھی، یا اللہ یہ مجھ سے کیا ہو گیا تھا، میں آج بھی اس پر پچھتاتا ہوں کہ کیا خدا میرے اس گناہ پر معاف کرے گا۔ “ یہ ایک عام افغانی ہزارہ کے تاثرات تھے، جس نے صرف اپنی جان بچانے کے لیے انجانے میں وہ فعل انجام دیا، جس کے متعلق وہ بالکل بے خبر تھا۔ دوسر ی طرف تہذیب کو اُجاڑنے والے تہذیب دشمنوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ تہذیب اپنے دشمنوں سے انتقام بھی لیتی ہے۔

بامیان میں جہاں انھوں نے ” خدا کی رضا کے لیے“ گوتم کے دو بلند ترین مجسموں کو بم سے اُڑایا تھا، وہاں سے کچھ ہی فاصلے پر گوتم کا تیسرا سب سے طویل (ایک ہزار فٹ ) مجسمہ زمین کی تہہ میں محفوظ پڑا تھا اور یہ بات آثارِ قدیمہ پر کام کرنے والا ڈاکٹر تارزی ہی جانتا تھا جو اس وقت فرانس میں رہائش پذیر تھا۔ طالبان کی پسپائی کے بعد ڈاکٹر تارزی اپنی دھرتی پر واپس آیا اور بامیان میں گوتم کے تیسرے سب سے طویل مجسمے کی تلاش میں ہے۔ ڈاکٹر تارزی کے پاس اس مجسمے کی موجودگی کی دلیل کے طور پر صرف ہیان سانگ کا تحریری ثبوت موجودہے۔ ہیان سانگ سکندرِاعظم کے بعد قبل از مسیح میں دنیا کا پیدل سفر کرنے والا معروف قدیمی کردار ہے۔ اس کا تعلق تبت سے تھا۔ اپنے طویل پیدل سفر کے دوران وہ جہاں سے بھی گزرا، اس علاقے کا تعارف کا تعارف اپنے روز نامچے میں درج کرتا گیا، جسے آج بھی تاریخ کا مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر تارزی کے مطابق ہیانگ سانگ نے اپنے اسی سفر نامے میں بامیان کا ذکر کرتے ہوئے گوتم کی کئی مورتیوں کے ساتھ ساتھ تین طویل القامت مجسموں کا ذکر بھی کیا ہے۔ جن میں وہ قریب قریب پانچ سو فٹ بلند ہیں اور پہاڑی کے وسط میں سیدھے کھڑے ہیں ( جنہیں طالبان نے تباہ کیا) جب کہ تیسرا طویل القامت مجسمہ جو ایک ہزار فٹ یعنی اول الذکر دونوں مجسموں سے دو گنا بڑا ہے، زمین سے کئی فٹ نیچے عمودی پڑا ہوا ہے۔

 اسی ثبوت کو دلیل بنا کر ڈاکٹر تارزی نے اپنی تحقیق کا آغاز کیا، اول تو وہ کئی فٹ کی کھدائی کے باوجود کسی طرح کے آثار نہ ملنے پر مایوس نظر آنے لگا لیکن جب نشانیوں کے مطابق کئی چھوٹی چھوٹی مورتیاں ملنے لگیں تو اسے آس بندھی کہ وہ اپنی منزل کے قریب ہے، اب اسے ہمت نہیں ہارنی چاہیے لیکن اتفاق سے ان دنوں ڈاکٹر تارزی کی بیٹی نادیہ کو جو ان کے ساتھ بطور معاون کام کر رہی ہیں، بعض مصروفیات کی بنا پر امریکا لو ٹنا پڑا، جس کی وجہ سے ڈاکٹر تارزی کو بھی کام ادھورا چھوڑ کر واپس جانا پڑا، لیکن واپس لوٹتے ہوئے وہ خاصے پُر امید تھے اور کہہ رہے تھے، ” ہم جلد ہی واپس لوٹیں گے اور دوبارہ اپنے کام کا آغاز کریں گے۔ “

وکٹر سیر یانیدی بھی ایسا ہی ایک کردار ہیں، وہ بنیادی طور پر روسی نثراد ہیں۔ 1978ء میں وہ افغانستان کی سر زمین میں دفن قدیم انسانی ڈھانچوں کی تلاش میں یہاں آئے تھے کہ اچانک انہیں ان ڈھانچوں کے ساتھ سونے کے زیورات ملنے شروع ہو گئے۔ سب سے پہلے انہیں ایک انسانی ڈھانچے کے قریب سے سونے کی ہیئر پن ملی، اس کے بعد دیگر زیورات ملنا شروع ہوئے۔ وکٹر کے مطابق، ” یہ ایک نئی اور دلچسپ دریافت تھی، کئی انسانی ڈھانچوں کے سر کے قریب ہمیں سونے کے تاج ملے، جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ اس وقت کے بادشاہ خود کو سونے کے تاج کے سمیت دفن کرواتے تھے۔ “

کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد وکٹر روس واپس چلے گئے۔ اس دوران روسی افواج کی افغانستان سے واپسی ہوئی پھر طالبان کا قبضہ ہوا اور یوں وکٹر کا کام ادھورا رہ گیا۔ وکٹر کو جب ایک بار پھر افغانستان واپس بلایا گیا تو انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ” 25سال سے میں سوچ رہا تھا کہ یہ خزانہ کھو گیا ہے، اب میں بہت خوش ہوں۔ ‘ وکٹر نے دوبارہ اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ ان کے تمام کام کو افغانستان کے نیشنل میوزیم میں محفوظ کیا گیا ہے۔ (وکٹر سیر یانیدی کا انتقال جنوری 2014 میں ہوا۔)

victor Sarianidi

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں