قصہ چہار درویش


روایانِ شیر یں بیاں داستانِ چہار درویش دراز کرتے ایک درویش کا سفر نامہ اندوہ گیں بہ زبانِ مسافرِ غمگیں یوں بیان فرماتے ہیں کہ:

”مقدر کا ستارہ ساڑھ ستی کے پھیر میں آوے تو اونٹ پر بیٹھے شخص کو بھی کتا کاٹ لیوے۔ جنگل میں آسودہ یہ مردِ گناہگار بھی قلبِ ناہنجار کے جھانسے میں آیا اور قصدِ آبادی کر کے اپنا آپ بھی گنوایا۔ شام ڈھلتی تھی کہ با پیادہ سفرِ طویل و راہِ ثقیل کی صعوبتیں جھیلتا یہ بندہ سادہ ایک ملکِ بے انتہا میں جا پہنچا، جہاں عقل و دانش کا سیلاب آیا تھا اور ہر شخص افلاطون کا تایا تھا۔ بخدا اس شہرِ پر ہجوم و سبک مقسوم میں دن اور رات کا فرق معلوم نہ ہووے تھا، بجز روشنیوں کے گل ہونے پر، جسے وہ لوڈ شیڈنگ کے نام سے تعبیر کرتے تھے۔

سبحان تیری قدرت ! تیرے تیرہ خاک داں میں کجا جنگل بیاباں اور کجا ہر گلِ را رنگ و بوئے دیگر است کے مصداق دیدہ زیب مستورات کا جہاں مثلِ پرستاں، لبادے جن کے بدنی نشیب و فراز کے ترجماں۔ جنگل میں روش اندر روش اشجار شیشم و چنار اور یہاں دہکتے رخسار مثل میوہ قندھار، قطار اندر قطار۔ درویشِ سادہ ساکنانِ شہرِ عجوبہ کا سراپا اشتیاق نظارہ کرتا تھا اور آفریں آفریں کہتا تھا۔ اس احمق مطلق پر فلک بوس عمارتوں کی دھاک بیٹھی جاوے تھی اور کشادہ رستوں پر موٹروں اور مرد و زن کا سیلِ رواں دہشت زدہ کیے جاوے تھا۔ اے مالکِ ارض و سما ! یہ کیسا مقامِ حیرت ہے کہ جنگل کی نسیمِ سحر و مطلع تاباں ندارد، پکھیروﺅں کے نغمے و گلوں کی سرگوشیاں مفقود مگر موٹروں اور لاﺅڈ سپیکروں کا شورِ قیامت و غوغہ جاں سوز چہار سو۔ مسافرِ پریشاں اختلاطِ مرد وزن دیکھ کے شرماوے تھا مگر کوئی بھی اسے منہ نہ لگاوے تھا۔

شب جاتی تھی کہ ناگاہ ایک مردِ با کمال مانندِ مادھو لال کو جاتا دیکھ کر صدا دی تاکہ اس سے دریافت کروں کہ اس شہرِ پر فریب میں مسافروں سے کیا سلوک ہووے ہے اور ان کے قیام و طعام کے واسطے کیا انتظام و انصرام ہے؟ ولے وہ میری پکار پر نہ ٹھہرا۔ عجلت میں عقب سے جا کر اس کے کاندھے پر ہاتھ دھرا اور گویا ہوا کہ یا اخی، اے برادرِ خوش سامع ….ظالم نے یک لخت پلٹ پر ایک چمانٹ بندہ عاجز کے رخسار پر جڑا اور اس کی زنانہ نوائے درشت میں اکٹھے دو سوالات پردہ سماعت سے ٹکرائے ”ابے او کلموہے ! تو نے کیا سمجھ کہ اپنا دستِ بد ایک غیر عورت کے کاندھے پر دھرا؟ اے مورکھ! کس جنگل سے وارد ہوا ہے کہ تجھے شرم نہ حیا؟ ….اس عزت افزائی پر فقیر بصد شرمساری جرمِ دیدار و لمسِ بے اختیار پر معافی کا طلبگار ہوا اور روانہ بازار ہوا۔ پھر ایک رشکِ چمن و سیمیں بدن بی بی کو تاکا کہ اکیلی کھڑی ایک طلسمی ڈبیا پر انگشتِ شہادت ٹکا ٹک چلاوے تھی اور زلفوں کو جھٹکتی دل میں اترتی جاوے تھی۔ پچھلے خضر کی انگلیوں کے نشان ابھی رخسار پر نمایاں تھے، سو دل کو قابو میں لایا اور سلام جھاڑ کے شریفانہ خطاب کیا کہ اے بہن، اے نیک بخت…. اس ستم گر نے سلام نہ دعا نہ تسلیمات، گھما کے ایک لاتِ با کرامات اس مسکین زادے کی کمر پر جمائی اور پھر مردانہ نوائے کرخت ابھری کہ اے بینائی و دانائی کے اندھے ! توہے نظر نہ آوے ہے کہ اِک گھبرو شیر کو بہن بلاوے ہے، یہ جسارت کہاں سے پاوے ہے؟

اس عنایت خسروانہ کے بعد عاجز کو مزید کسی خضر کی حاجت نہ رہی۔ پس ایک حاملِ رکشہ سے عرض کیا ” اے صاحبِ درد ! اگر خادم کو کسی گوشہ عافیت میں پہنچاوے گا تو موافق اپنی مرضی و منشا کے معاوضہ پاوے گا “ اس نے فرمایا کہ مطلق غم نہ کھا اور رکشے میں بیٹھ جا۔ اس حقیر پر تقصیر کے بیٹھتے ہی اس بد بخت نے رکشے کو مانند اڑن کھٹولا اڑایا تو مجھے عزرائیل یاد آیا۔ صاحب رکشہ نے ایک مقام پر اتارا تو بعد زیاں دو صد روپے اس سے سوال کیا کہ بموجب کس احتیاج کے یہ جان لیوا کام کرتا ہے؟ اس نے ہنس کے فرمایا ”ماں کی دعا، جا پتر رکشہ چلا“۔ اس کے جانے پر معلوم پڑا کہ وہ ٹھگ گھما پھرا کر اسی مقامِ پر ہجوم پر اتار کر چلتا بنا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ فٹ پاتھ نامی ایک تھڑے پر گدڑی بچھا لی۔ برقی قمقموں کی تمازت سے بچنے کے واسطے اپنی پوششِ دریدہ کا سائباں کیا اور واسطے مچھروں کے شب بھر عیش و عشرت کا ساماں کیا۔ پس دن بھر بوساطت آوارہ گردی تماشائے اہل کرم دیکھتا اور رات کو اسی ٹھکانے پر آ کر مچھروں سے ہمبستری کرتا۔

واللہ ! اس غریب الدیار نے شہر ِ آسیب و پر فریب کے عجب مردانِ آزاد دیکھے جو مچھر چھانتے اوراونٹ نگلتے تھے۔ ان کے محیرالعقول کارنامے اور سخن ہائے دلنواز واسطے ملک و قوم کی تکریم کے ملاحظہ کرتا تو دانتوں میں انگلیاں دابتا۔ عجیب الفطرت آدم زاد جو آگ لگنے کے بعد کنواں کھودنا شروع کرتے تھے۔ سلطنت میں انتہا پسندی و جہالت کی آتشِ نمرود کے شعلے آسماں کو چھوتے تھے مگر وہ کنواں کھودنے پر ہنوز متفق نہ ہوتے تھے۔ جمہوریت نامی کسی عفیفہ پر فریفتہ تھے مگر اس کے ساتھ وانگ رکھیل سلوک کرتے تھے۔ جب چاہتے اس کے سر تہمتیں دھر کے گھر سے نکال دیتے،پھر اس کے ہجر میں تڑپتے تواسے منا کر گلے لگاتے۔ عجیب نیک لوگ جو فرماتے تھے کہ کمائی بے شک حرام کی ہووے مگر گوشت حلال ہی لیویں گے۔ ان کے دل میں موجزن غیرت کا قلزم مگر ہاتھ میں کاسہ گدائی ہر دم۔ امدادِ غیر ملکی کو لعنت خیال کرتے تھے مگر ان کے کشکول کا پیندہ نہ تھا، جسے دنیا کے در در پر گھماتے اور اس میں خیرات ڈالنے والوں کو آنکھیں بھی دکھاتے تھے۔ دنیا بھر کے مصائب پر رنجیدہ مگر اپنے مسائل پر غیر سنجیدہ۔ صاحبانِ ادراک پر خطر مستقبل پر آبدیدہ مگر چیدہ چیدہ۔ واللہ ! ان کی فطرت حمیدہ سمجھنے کی خاطر بڑ ا دماغ لڑایا مگر اس روسیا نے کچھ بھید نہ پایا۔

ایک دن یہ فقیر زادہ چھپر ہوٹل سے بعد از طعام بعوض زرِ کثیر جاتا تھا کہ ابنِ آدم کا جھتا ایک طلسمی صندوق بہ زبانِ غیر جسے ٹی وی پکارتے تھے، کے گرد مانندِ مکھیاں بھنبھناتا تھا۔ اس صندوق میں فصیح البیان صالحین ملت اور مردانِ راہِ راست کو اضملال کی کیفیت میں پایا کہ ان کے لبِ لعلین سے جو بات بھی نکلتی تھی، زہر رکھتی تھی۔ بخدا ان کی زبانیں بجز تنقید و تعریض اور دشنام طرازی کے کچھ فرمانے کی روادار نہ تھیں۔ پاسبانِ ملت و عاقلانِ قوم ماتم کناں تھے، جو فرماتے تھے کہ واللہ ! ساری قوم کو بھوکا مار دیویں گے مگر اپنی خود مختاری پر آنچ نہ آنے دیویں گے۔ معلوم پڑا کہ ٹرمپ نامی کسی دشمن نے ان کی ملی غیرت پر وارِ کاری کیا ہے اور ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مرتکب ہو کر اپنی تباہی کو آواز دی ہے۔ مستی دانش میں غرق میں ایک پیکرِ رنج و حزیں اس دشمن کے ذکرِ بد پر تلملاتا تھا اور اپنی سرمئی شیروانی میں یوں مچلتا تھا جیسے سانپ اپنی کنچیلی بدلتے وقت کروٹیں لیتا ہے۔ تان اس بات پر ٹوٹی کہ وہ پیچیدہ اور گنجلک نظامِ جمہوریت کی جگہ کسی مردِ صالح کی خلافت کے طلبگار ہیں تاکہ بد اختر قوم کے مسائل رفع ہوویں اور اصفیا کے دامانِ تار تار کی بخیہ گری و دال دلیے کا امکان ہووے، یعنی حلوے مانڈے کا ساماں ہووے اور روشن دل کا جہاں ہووے۔

پھر ایک صبح ایسا دلگیر شور اٹھا کہ صور پھونکنے کا گماں گزرتا تھا۔ بارود کا دھواں آسماں کو چھوتا تھا اور دلخراش چیخوں میں لاشے اور اعضائے اجسامِ انسانی جا بجا پھیلے تھے۔ معلوم پڑا کہ کسی مردِ جری نے خود کش دھماکہ کیا ہے، واسطے نفاذِ اسلام کے۔ گھبرا کے سوچا کہ یہاں پر کوئی بھی نہ ہووے گا جو اس غریب الوطن کی فاتحہ خوانی کراوے گا اور جمعراتیں دلاوے گا۔ پس اس جنگلی نے مردانِ نا مہرباں و ستم گراں کے دیس مزید ٹھہرنا مناسب خیال نہ کیا اور بصد رسوائی عازمِ جنگل ہوا تو ایک صدائے پر اسرار نے دامنِ سماعت کھینچا:

بھاگ مسافر،میرے وطن سے بھاگ

اوپر اوپر پھول کھلے ہیں، بھیتر بھیتر آگ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔