قانو ن کی حکمرانی کسے کہتے ہیں؟


ایک ایسے معاشرے میں جہاں اہلیت اور اصولوں کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ جہاں نسلی لسانی مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر امتیاز برتا جائے۔ جہاں انسانی حقوق کی ادائیگی نہ کی جاتی ہو۔ جہاں امیر اور غریب کے درمیان فرق واضح ہو۔ جہاں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تفریق اس انتہا کو چھو رہی ہو کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے جیسے انتہائی اقدام کو بھی جائز سمجھا جائے۔ جہاں قانون عوام و خواص سے معاملہ کرتے ہوئے تفریق رکھے تو ایسے کسی معاشرے میں ’قانون کی بالادستی‘ کیونکر اور کیسے قائم ہو سکتی ہے؟ ہمارے ہاں سماجی انصاف نام کی شے نہیں اور جن معاشروں سے سماجی انصاف اٹھ جاتا ہے وہاں قانون کی حکمرانی بھی نہیں رہتی۔ یہی اصول قدرت ہے اور فطرت کے ہاں عدل و انصاف بلاامتیاز و بلاتعطل جاری و ساری دکھائی دیتا ہے۔ اگر قانون امیر و غریب‘ عام و خاص میں امتیاز نہ بھی کرے لیکن اگر امیروں کو انصاف ترجیحی بنیادوں پر مل جائے اور غریبوں کے مقدمات عدالتوں میں التوا کا شکار رہیں تو یہ بھی ’انصاف سے محرومی‘ ہی ہے۔ اگر کہیں امیر اور غریب کے مفادات میں تصادم آ جائے اور انصاف کے حصول کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر فیصلہ امیرکے حق میں آئے اگرچہ وہ اس کا حقدار بھی نہ ہو تو یہ بھی ’انصاف سے محرومی‘ ہی کہلائے گی۔ اگر معاملہ امیر اور امیر کے درمیان ہو اور فیصلہ اس کے حق میں آئے جس کے پاس اداروں کی طاقت ہو تو یہ بھی ’انصاف سے محرومی‘ کہلائے گی۔ صورتحال قطعی طور خوش آئند نہیں۔ عدالت کا کٹہرا ہو یا پولیس تھانہ‘ وکیل کا چیمبر ہو یا کوئی حکومتی دفتر ہر جگہ صرف طاقتور‘ بااختیار اور تعلق دار ہی کامیاب و کامران دکھائی دیتا ہے۔ ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ عوام کو احتجاج پر اکسایا جاتا ہے اور احتجاجی مظاہروں کے لئے بڑے پیمانے پر مالی وسائل مختص کئے جاتے ہیں تاکہ عوام کی مخالفت یا حمایت دکھا کر سیاسی عزائم کی تکمیل کی جا سکے۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی بھی حکمرانی ہے جو عوام کے سامنے ایک ایسا نقشہ پیش کر رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں صرف دو سطحی عدالتی نظام موجود ہے ایک سپرئم کورٹ آف پاکستان (عدالت عظمیٰ) اور دوسری ہائی کورٹ (عدالت عالیہ) ہیں لیکن یہ درست تاثر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں عدالتوں کے علاوہ درجنوں دیگر عدالتیں بھی ہیں جہاں زیرالتوا لاکھوں مقدمات میں عام آدمی کو کیا مل رہا ہے‘ اس بارے میں نہ تو کوئی تحقیق کی جاتی ہے اور نہ ہی عام آدمی کو انصاف تک رسائی کی راہ میں حائل مشکلات جاننے کی زحمت کی جاتی ہے۔ عموماً ملک کا متوسط اور غریب طبقہ ایسی عدالتوں سے رجوع کرتا ہے‘ جہاں ”قانون کی حکمرانی“ کے مطالب الگ ہیں۔ ہمارے ہاں اداروں کے ڈھانچے قیام پاکستان سے قبل تشکیل شدہ ہیں جن میں اس بات کا بطور خاص خیال رکھا گیا ہے کہ عام آدمی کی حیثیت عام ہی رہے۔ موجودہ نظام میں تبدیلی کی واحد صورت ملک میں آزادانہ و شفاف انتخابی عمل ہے جس سے طبقات میں بٹے ہوئے معاشرے کی محرومیاں اور طبقات و امتیازات مٹتے چلے جائیں گے۔ اقلیتیں خود کو زیادہ محفوظ تصور کریں گی ‘ خواتین اپنے خلاف ہونیوالے امتیازی سلوک پر سراپا احتجاج نہیں ہوں گی اور اس عمل کے نتیجے میں تشکیل پانے والے جمہوری معاشرے میں قانون سازی بھی امتیازی نہیں ہو گی جس کے ثمرات ہر خاص و عام کے لئے مفید قرار پائیں گے لیکن جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا آئینی طریقے سے قانون ساز اداروں پر قبضہ ختم کرنے کے لئے بڑی جدوجہد اور کوشش کی ضرورت ہے۔ عوام کو ان حقوق‘ خود آگہی اور ضمیر کی بیداری کے لئے مہمات اشد ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ بنیادی و کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے اس شعور کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں جس سے پاکستان میں حقیقی تبدیلی کا سورج طلوع ہو گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی معاشرہ کا قبلہ مال و متاع ہے۔ ہماری جمہوریت امرا کے مفادات کا بلاامتیاز تحفظ کرنے پر مبنی ہے اسے عوام کی جمہوریت بنانے کے لئے جمہوری عمل کی تطہیر و اصلاح اشد ضروری ہے اور ایسا کرنے کے لئے زبانی دعوے یا کاغذی کارروائیاں نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ ایک لمبا سفر اور ایک لمبی جدوجہد لگتی ہے لیکن اس کے سوا چارہ نہیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اس میں کامیابی کی منزل پانے کے لئے کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا۔ فرد‘ افراد‘ معاشرے یا ممالک کو اپنی تقدیر بدلنے کے لئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ دانستہ کوششیں اور عملی اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ حکومت پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ماضی خود کئی قسم کے الزامات سے بھرا ہوا ہے۔ جنہوں نے بینکوں سے قرض لے کر معاف کرائے ہیں اور جنہوں نے سرکاری وسائل کا استعمال ذاتی مفادات کے لئے کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جمہوری بندوبست لپیٹ دیا جائے تو کیا پاکستان کے کم و بیش پینتالیس لاکھ سرکاری ملازمین دیانت داری سے اپنے فرائض سرانجام دینا شروع کر دیں گے؟ کیا امیر اپنے ذمے واجب الادا ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیں گے؟ کیا فوج اور افسر شاہی سرکاری وسائل سے حاصل کردہ مراعات اورٹھاٹ باٹ واپس کر دیں گی؟ کیا حکومتی وسائل کی لوٹ مار سے فائدہ اٹھانے والے اپنے ناجائز سرمائے کی پائی پائی واپس کر دیں گے؟ میرا دعویٰ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔ کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک کہ اداروں کے ڈھانچوں اور ان کی کارکردگی کے متعین اصولوں میں اصلاحات نہیں کی جاتیں۔ جب تک جمہوری نظام کی تطہیر اور عوامی جمہوریت نہیں لائی جاتی۔ پاکستان کی ترقی اور مستقبل جمہوری نظام میں ہے لیکن ایک ایسے جمہوری نظام میں‘ جو عوام کی غلامی پر نہیں بلکہ ان کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حارث خلیق کی دیگر تحریریں
حارث خلیق کی دیگر تحریریں